نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ختم کرانے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم کردار ادا کررہے ہیں۔
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جب ایران پر حملہ ہوا میں مدینہ منورہ میں موجود تھا، اور وہیں سے ہدایت دی کہ پاکستان فوری طور پر ایران پر حملے کی مذمت کرے۔ پاکستان پہلا اسلامی ملک تھا جس نے ایران پر حملے کی مذمت کی۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی سعودی عرب پر تازہ حملوں کی شدید مذمت، غیر متزلزل حمایت کا اعادہ
انہوں نے کہا کہ حملے کے کچھ دیر بعد ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطہ کیا گیا، لیکن ایران پر حملے کے تین سے چار گھنٹوں کے اندر قریبی ممالک پر بھی حملے شروع ہو گئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان بطور ثالث اپنا کردار ادا کر رہا ہے تاہم ایسے موقع پر تفصیلی بات نہیں کی جا سکتی۔
نائب وزیر اعظم نے کہاکہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار اس تمام صورتحال میں انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے کہاکہ 19 مارچ کی رات وزرائے خارجہ کے درمیان گھنٹوں بات چیت ہوئی، پہلے بارہ ممالک اور پھر گروپ آف فور ممالک کے درمیان مذاکرات ہوئے۔
اسحاق ڈار کے مطابق گروپ آف فور کی میٹنگ 28 تاریخ کو استنبول میں طے ہوئی، تاہم بعد ازاں تمام تر کوششوں کے نتیجے میں یہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا جہاں جنگ کے دونوں فریق بات چیت کے لیے تیار ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کو آگے بڑھاتے ہوئے چین بھی اس عمل میں شامل ہوا اور انہوں نے خود چین کے وزیر خارجہ سے رابطہ کیا۔
اسحاق ڈار نے کہاکہ چین کے وزیر خارجہ کی دعوت پر وہ ایک دن کے لیے بیجنگ گئے تاکہ صورتحال کی سنجیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے مشاورت کی جا سکے۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان کی کوششوں سے پہلے 6 دن اور پھر مزید 2 دن کی مہلت دی گئی جو آج ختم ہو گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ معاملات کافی حد تک بہتری کی جانب جا رہے تھے تاہم گزشتہ روز صورتحال اچانک خراب ہو گئی جب اسرائیل نے ایران پر بڑا حملہ کیا، جس کے جواب میں ایران نے سعودی عرب کے آئل ڈپو کو نشانہ بنایا۔
اسحاق ڈار نے کہاکہ کل تک امید تھی کہ حالات مثبت سمت میں جا رہے ہیں، تاہم اب بھی پاکستان کوشش کررہا ہے کہ صورتحال کو سنبھالا جائے۔ دعا کی جائے کہ حالات بہتری کی طرف جائیں۔
نائب وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے اس صورتحال میں ہر ممکن کوشش کی ہے اور امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ بہت سی تفصیلات ایسی ہیں جو وقت آنے پر سامنے لائی جائیں گی۔













