جنگ بندی کا فیصلہ پاکستان کی درخواست پر کیا گیا، صدر ٹرمپ

بدھ 8 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل ٹروتھ پیغام میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی روکنے اور 2 ہفتوں کی جنگ بندی کا فیصلہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر کیا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’سوشل ٹروتھ‘ پر جاری پیغام میں ایران کے ساتھ جنگ بندی سے متعلق اہم انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت، خصوصاً وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہونے والی بات چیت کے بعد انہوں نے ایران پر مجوزہ حملہ روکنے کا فیصلہ کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق انہوں نے ایران کے خلاف ’تباہ کن طاقت‘ کے استعمال کو مؤخر کیا اور 2 ہفتوں کے لیے بمباری اور حملے روکنے پر رضامندی ظاہر کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ اس شرط کے ساتھ کیا گیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طریقے سے کھولے گا۔

اپنے پیغام میں امریکی صدر نے اس پیشرفت کو ’دو طرفہ جنگ بندی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنے فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل مدتی امن معاہدے کے لیے پیشرفت جاری ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے، جسے مذاکرات کے لیے قابل عمل بنیاد سمجھا جا رہا ہے، جبکہ ماضی کے بیشتر تنازعاتی نکات پر بھی اتفاق ہو چکا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 2 ہفتوں کی یہ مہلت حتمی معاہدے کو مکمل کرنے کا موقع فراہم کرے گی اور یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کی جانب اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

جنگ بندی خوش آئند اور امن کی طرف ایک اہم قدم ہے، وزیر اعظم شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی کوششوں سے دونوں ممالک دو ہفتے کے لیے جنگ روکنے پر آمادہ ہوئے ہیں، جبکہ مزید مذاکرات اسلام آباد میں ہوں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ’ایکس‘ پر جاری اپنے پیغام میں امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیشرفت خطے میں امن کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ امریکا اور اسلامی جمہوریہ ایران اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر فوری جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں، جس کا اطلاق فوری طور پر ہو چکا ہے۔

وزیراعظم نے اس پیش رفت کو پاکستان کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے کشیدگی کم کرنے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک نے 2 ہفتوں کی جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی ہے تاکہ مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ بات چیت کا موقع مل سکے۔

شہباز شریف نے امریکا اور ایران کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس فیصلے کو دانشمندانہ اقدام قرار دیا اور کہا کہ اس سے خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہوگی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ امریکا اور ایران کے وفود کو 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد مدعو کیا گیا ہے، جہاں ’اسلام آباد مذاکرات‘ کے تحت مستقل امن معاہدے کے لیے بات چیت کی جائے گی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کو امید ہے کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوں گے اور آنے والے دنوں میں خطے میں استحکام اور بہتری کی مزید مثبت خبریں سامنے آئیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد‘: محمود اچکزئی کا حکومت کی غیرمشروط حمایت کا اعلان

وزیراعظم شہباز شریف کا مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر اظہار تشویش

پی ایس ایل 11، حیدر آباد کنگز مین کی پشاور زلمی کے خلاف بیٹنگ جاری

پی ٹی آئی کا لیاقت باغ میں جلسہ ملتوی کرنے کا اعلان

غیرملکی وفود کی آمدورفت، اسلام آباد پولیس کی عوام کے لیے اہم ہدایات جاری

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟