ایرانی پیٹرول کی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر، کیا ایرانی پیٹرول لیگل کردیا گیا ہے؟

بدھ 8 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چند روز قبل جاری ہونے والی سرکاری خبر جس میں ایرانی پیٹرثکی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے اس خبر نے نئی بحث چھیڑ دی ہے ہے کیا ایرانی پیٹرول کو لیگل کردیا گیا ہے۔

در اصل ایس پی آفس قلات کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف سیکریٹری بلوچستان اور آئی جی بلوچستان پولیس کے احکامات کی روشنی میں ضلع قلات میں پیٹرول پمپ مالکان کے لیے ایڈوائزری جاری کی گئی ہے۔ اعلامیے کے مطابق ایرانی پیٹرول کی سرکاری قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے اور اس سے ایک روپیہ بھی زیادہ وصول کرنا کھلی خلاف ورزی اور جرم تصور ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان حکومت کا اسمگل شدہ ایرانی پیٹرول کی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر کرنے کا فیصلہ

اعلامیے میں پیٹرول پمپس مالکان کو خبردار کیا گیا ہے کہ سوموار سے ضلع بھر میں بلا امتیاز گرینڈ آپریشن شروع کیا جائے گا جس میں ضلعی انتظامیہ اور قلات پولیس کی مشترکہ ٹیمیں بغیر کسی اطلاع کسی بھی وقت پیٹرول پمپوں پر چھاپے ماریں گی۔

اعلامیے کے مطابق اگر کسی بھی پیٹرول پمپاس پر ایرانی پیٹرول 280 روپے سے ایک روپیہ بھی مہنگا فروخت ہوتا پایا گیا تو پیٹرول فوری طور پر ضبط کرکے مالک کو گرفتار کیا جائے گا اور اس کے خلاف مقدمہ درج کرکے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں کسی قسم کی سفارش یا دباؤ برداشت نہیں کیا جائے گا۔

دوسری جانب صوبائی وزیر صحت بخت کاکڑ نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ایسا کبھی نہیں کہا کہ ایرانی پیٹرول 280 روپے فی لیٹر میں فروخت ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی پیٹرول پر سخت پابندی عائد ہے اور اس کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد اسمگل شدہ ایرانی پیٹرول کی قیمتوں میں بھی اضافہ، قیمت اب کیا ہوگئی؟

اسی معاملے پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی نے بھی کہا کہ ایرانی پیٹرول کو لیگل نہیں کیا گیا اور منی پیٹرول پمپس کی نگرانی جاری ہے۔

دریں اثنا وی نیوز نے اس معاملے پر معاون وزیراعلیٰ بلوچستان شاہد سے بارہا رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم ان کی جانب سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق قلات سے جاری ہونے والے اعلامیے اور صوبائی حکومت کے بیانات میں تضاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایرانی پیٹرول کی فروخت سے متعلق حکومتی پالیسی کے حوالے سے ابہام پایا جاتا ہے۔

ایک جانب ضلعی سطح پر قیمت مقرر کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب صوبائی حکام اس کی تردید کر رہے ہیں، جس سے عوام اور پیٹرول پمپ مالکان میں بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp