بلوچستان حکومت کا اسمگل شدہ ایرانی پیٹرول کی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر کرنے کا فیصلہ

اتوار 5 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان حکومت نے ایرانی اسمگل شدہ پیٹرول کی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر کر دی ہے اور واضح کیا ہے کہ اس سے زیادہ قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

سرکاری حکام کے مطابق وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے میں ایرانی پیٹرول ایک طے شدہ سرکاری قیمت پر فروخت کیا جائے گا تاکہ مارکیٹ میں بے ضابطگیوں اور منافع خوری کو روکا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے: بلوچستان کابینہ نے اہم فیصلوں کی منظوری دیدی، سوتیلا سلوک برداشت نہیں، وزیراعلیٰ

قلات کے ڈپٹی کمشنر منیر احمد درانی نے کہا کہ ایرانی پٹرول صرف بلوچستان کے اندر ہی فروخت کیا جائے گا اور اسے صوبے سے باہر منتقل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقررہ نرخ سے زیادہ قیمت لینے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے درآمدی پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد بعض عناصر نے ایرانی پیٹرول کی قیمتیں بھی بڑھا دی تھیں، جو 300 سے 360 روپے فی لیٹر تک وصول کی جا رہی تھیں، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔

یہ بھی پڑھیے: تیل کا عالمی بحران: ہر شعبہ زندگی کو متاثر کرنے والا نیا چیلنج

حکام کے مطابق اس فیصلے کا مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا اور غیر قانونی منافع خوری کو روکنا ہے۔ انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ قیمتوں کی نگرانی کے لیے خصوصی چیکنگ کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی ہوگی۔

صوبائی حکام نے مزید کہا کہ ایرانی پٹرول کی ترسیل اور فروخت کے نظام کو بھی منظم بنایا جائے گا تاکہ اس کاروبار میں شفافیت لائی جا سکے اور غیر قانونی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp