عالمی منڈی میں امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت دیگر درآمدی ممالک تک پہنچنے کی توقع ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 15 سے 20 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے آ چکی ہیں۔
ذرائع کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 سے 60 روپے فی لیٹر تک کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس وقت پیٹرول پر فی لیٹر 80 روپے لیوی وصول کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی جاری رہی تو تیل کی قیمتیں دُگنی ہو سکتی ہیں، وزیر پیٹرولیم نے خبردار کردیا
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کے بعد متعلقہ وزارتوں کو خصوصی ہدایات جاری کی ہیں کہ اس ریلیف کو عوام تک منتقل کیا جائے۔ اس حوالے سے وزارتِ خزانہ اور وزارتِ پیٹرولیم نے قیمتوں میں کمی پر غور شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکام آئندہ دو دن تک عالمی خام تیل کی قیمتوں کا جائزہ لینے کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کریں گے۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے معاشی ماہر ڈاکٹر خاقان نجیب نے کہا کہ اگرچہ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہو رہی ہیں، تاہم پاکستان میں اس کے اثرات فوری طور پر منتقل نہیں ہوں گے۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اثر ایک سے دو ہفتوں کے وقفے سے سامنے آ سکتا ہے، کیونکہ مقامی مارکیٹ میں پہلے سے موجود اسٹاک اور سپلائی چین کی ایڈجسٹمنٹ وقت لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں کمی کا دارومدار حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی میں ردوبدل پر بھی ہوگا، جس کے باعث عوام کو ریلیف بتدریج ملنے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ترکیہ کا ایران امریکا جنگ بندی کا خیرمقدم، ثالثی کے عمل میں پاکستان کے کردار کی تعریف
معاشی تجزیہ کار مہتاب حیدر نے وی نیوز کو بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں کم ہونا شروع ہو چکی ہیں اور یہ 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی ہیں، اس لیے اصولی طور پر پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری کمی ہونی چاہیے، لیکن عملی طور پر اس کمی کا پاکستان میں مکمل اثر آنے میں چار سے چھ ہفتے لگ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مارچ میں خام تیل کی قیمت بڑھنے پر حکومت نے 28 دن کے پرانے اسٹاک کے باوجود ایک فارمولے کے تحت پیٹرول کی قیمتوں میں 55 روپے تک اضافہ کیا تھا، اور اس وقت یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ قیمتوں میں ردوبدل ایک مخصوص فارمولے کے تحت کیا جا رہا ہے۔ اب جب عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہو رہی ہیں تو اسی فارمولے کے تحت عوام کو ریلیف بھی دیا جانا چاہیے۔
مہتاب حیدر نے کہا کہ یہ ضروری نہیں کہ حکومت فوری طور پر پوری کمی منتقل کرے، لیکن کم از کم عوام کو یہ اشارہ ضرور دینا چاہیے کہ قیمتوں میں کمی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ آئندہ قیمتوں کے تعین کے دن، جو کہ عموماً جمعرات یا جمعہ کو ہوتا ہے، اس میں اس کمی کی جھلک نظر آنی چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ قیمتوں میں کمی کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم لیوی کے استعمال میں بھی توازن قائم کرے تاکہ زیادہ سے زیادہ ریلیف عوام تک پہنچ سکے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عوام کو کم از کم اتنا ہی ریلیف ملنا چاہیے جتنا پہلے قیمتوں میں اضافے کی صورت میں بوجھ ڈالا گیا تھا، کیونکہ اس سے نہ صرف عوامی مشکلات میں کمی آئے گی بلکہ مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
سینیئر معاشی رپورٹر شعیب نظامی کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آئی ہے اور پاکستان میں بھی آئندہ چند روز میں اس کے اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 سے 20 فیصد تک کمی کی جا سکتی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے 3 اپریل کو پیٹرول کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں کمی کی صورت میں مزید ریلیف دیا جائے گا۔
تاہم، حکومت کو آئی ایم ایف کے دباؤ کا بھی سامنا ہے، جو سبسڈی محدود رکھنے پر زور دیتا ہے۔ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے ترقیاتی بجٹ میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کر کے 129 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی، جس سے معاشی ترقی کے ہدف پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔













