سفارتکاری اور شہنشاہ ڈونلڈ ٹرمپ

جمعرات 9 اپریل 2026
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

28 فروری کو ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملہ ہوا۔ یہ حملہ اس لحاظ سے ناجائز بھی تھا کہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی تھا، اور اس پہلو سے شرمناک بھی کہ حملہ دوران مذاکرات کیا گیا۔ سفارتکاری محض کوئی رسم نہیں کہ جی چاہا تو اختیار کرلیا اور موڈ نہ بنا تو نظر انداز کرلیا۔ یہ پرامن بقائے باہمی کا وہ مؤثر ترین سیاسی و قانونی ٹول ہے جو دنیا کو امن کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ مہذب دنیا میں جنگ کی نوبت تب آتی ہے جب سفارتی عمل آزما لیا جائے مگر نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکے۔

پھر سفارتی عمل کا یہ مسلمہ بھی کون نہیں جانتا کہ یہ زیرو سم گیم کے اصول پر نہیں چلتی۔ یہ اسپورٹس نہیں کہ ایک ٹیم جیت گئی اور دوسری ہار گئی۔ یہاں قوموں کے حساس مفادات ہی نہیں عزت نفس بھی داؤ پر لگی ہوتی ہے، سو یہاں گیو اینڈ ٹیک چلتا ہے۔ مثلاً جب آپ ایران سے کہتے ہیں کہ وہ اپنا ایٹمی پروگرام ریورس کرے، تو ساتھ ہی یہ بھی بتانا پڑتا ہے کہ اس لین کے بدلے دین کیا ہوگا؟ قومیں ایٹمی پروگرام جیسے مہنگے پراجیکٹ محض شوقیہ اختیار نہیں کرتیں۔ ایٹمی ہتھیار ایک ایسے ڈیٹرنٹ کے طور پر خود کو منوا چکے ہیں جو قومی تحفظ کو یقینی بناتے ہیں۔ سو جب آپ کسی قوم کو یہ ڈیٹرنٹ اختیار کرنے سے روکتے ہیں تو پھر اس کے تحفظ کی گارنٹی بھی دینی پڑتی ہے، یوں اس لین دین کا نتیجہ سفارتی کامیابی قرار پاتا ہے، وہ کامیابی جو خون خرابے کے بغیر ممکن ہوجاتی ہے۔

سفارتکاری کی اہمیت کا اندازہ اسی سے لگا لیجیے کہ تاریخ کا جو موڑ ’جدید دنیا‘ کہلاتا ہے، اس میں اس کرہ ارض پر یہ تو ممکن ہے کہ کسی ملک میں ریلوے، سمندری امور، سیاحت یا کسی بھی اور شعبے کی وزارت نہ ہو مگر یہ ممکن نہیں کہ وزارت خارجہ نہ ہو۔ اس وزارت کے بغیر ریاست کا تصور ہی نہیں۔ خود وزارتوں میں ہی اس وزارت کی اہمیت یہ ہے کہ عالمی برادری کے لیے کسی بھی ملک کے سربراہ کے بعد سب سے اہم چہرہ اس کے وزیر خارجہ کا ہوتا ہے۔

مثلاً چینی صدر شی جن پنگ کے بعد دنیا جس چینی چہرے کو سب سے زیادہ جانتی ہے وہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی کا چہرہ ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے بعد عالمی برادری کے لیے روس کا سب سے بڑا نام وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا ہے۔ چنانچہ دنیا ان دونوں ممالک کے صدور کے بعد جن شخصیات کی زبان سے نکلنے والے ہر لفظ کو پورے غور سے سنتی بھی ہے اور سمجھنے کی بھی کوشش کرتی ہے، وہ ان ممالک کے وزرائے خارجہ ہی ہیں۔ یہ تو ممکن ہے کہ ہم سعودی وزیر داخلہ اور ایرانی وزیر انصاف کا نام نہ جانتے ہوں، مگر یہ ممکن نہیں کہ ہم فیصل بن فرحان اور عباس عراقچی کو نہ جانتے ہوں، جو ان دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ ہیں۔

مگر ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکا میں ہم ایک نیا تماشا دیکھ رہے ہیں، کہنے کو وہاں ایک وزیر خارجہ موجود ہے، دنیا اس کا نام بھی جانتی ہے اور چہرہ بھی۔ مگر تل ابیب سے ریاض، ریاض سے ماسکو اور ماسکو سے برسلز تک سفارتکاری سے مشابہ ٹوپی ڈرامہ کون کررہا ہے؟ اسٹیو وٹکاف نامی ایک امریکی پراپرٹی ڈیلر، اور اس کا نمبر دو کون ہے؟ ایک اور پراپرٹی ڈیلر جس کا کل تعارف یہ ہے کہ وہ ٹرمپ کا داماد ہے۔ کیا ان دونوں کی کسی بھی سطح کی کوئی سرکاری اہمیت ہے؟ بہ الفاظ دیگر کیا یہ جدید اصطلاح میں ’آفس ہولڈرز‘ ہیں؟ قطعاً نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تو میڈیا ٹاک بھی غیر سرکاری ہوتی ہے۔ کوئی دفتر نہیں، کوئی روسٹرم نہیں، بیک گراؤنڈ میں کوئی سرکاری لوگو نہیں، کبھی فٹ پاتھ تو کبھی کسی چمن میں بات کرتے ملتے ہیں۔

یہ تماشا نہیں تو کیا ہے کہ دو ایسے افراد جن کا حکومتِ امریکا سے کسی بھی طرح کا سرکاری تعلق نہیں، وہ تو امریکا کے وزیر خارجہ اور ڈپٹی وزیر خارجہ والی ذمہ داریاں نبھانے کی ایکٹنگ کرتے پھر رہے ہیں۔ اور جس آدمی نے باضابطہ طور پر وزارت خارجہ کا سرکاری منصب سنبھال رکھا ہے وہ کیا کررہا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ منصب سنبھالنے کے بعد وہ ایک دو بار ہی امریکا سے باہر گیا ہے وہ بھی محض رسمی دورے کے لیے۔

امریکا کی یہ صورتحال کیا ظاہر کرتی ہے؟ یہی کہ خود کو جمہوریت کا چیمپیئن باور کرانے والا امریکا آج کی تاریخ میں ایک ایسی سلطنت کا روپ دھار چکا ہے جہاں شہنشاہ ڈونلڈ ٹرمپ ہی سب کچھ ہے۔ صدر شی کے بعد چین کا کوئی دوسرا بڑا چہرہ ہوسکتا ہے، صدر پیوٹن کے بعد بھی روس کا کوئی دوسرا بڑا چہرہ ہوسکتا ہے، لیکن امریکی شہنشاہیت میں شہنشاہ کے علاوہ کوئی چہرہ کیسے اہمیت اختیار کرسکتا ہے۔ شہنشاہوں کے وزیر خارجہ نہیں بلکہ ایلچی ہوتے ہیں۔ سو ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی رسماً ایک ایسا وزیر خارجہ تو رکھ لیا ہے جو مفت کی تنخواہ و مراعات توڑ رہا ہے، مگر کام کی اسے اجازت نہیں۔ کام ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹکاف نے کرنا ہے، اور کام بھی کیا کرنا ہے؟ یہ کہ جب حماس کی قیادت کے ساتھ یہ پراپرٹی ڈیلر بات چیت کا ڈھونگ رچائے تو پیچھے سے حماس کے مذاکرات کاروں پر ہی اسرائیل سے حملہ کروا دیا جائے۔ یہی وٹکاف روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے بات چیت کرے تو اس ڈھونگ کے دوران بھی روسی صدر کی رہائشگاہ پر ناکام حملہ کردیا جائے۔ یہی وٹکاف دو بار ایرانیوں کے ساتھ مذاکرات کرتا پایا گیا، اور دونوں بار ہوا کیا؟ ایران پر مہلک حملے۔

ایسے میں دنیا ایک عجیب سوال پوچھ رہی ہے، کیا وجہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں چین اور روس سفارتی مداخلت کرکے جنگ نہیں رکوا رہے؟ یہ سوال پوچھتی دنیا اتنی سی بات نہیں سمجھ پا رہی کہ سفارتکاری تو وانگ یی اور سرگئی لاروف کو ہی کرنی پڑے گی، اور اس کے لیے عہد جدید کے سیاسی ضابطوں کے مطابق انہیں اپنے امریکی ہم منصب سے رابطہ کرنا ہوگا۔ کیا ان کے امریکی ہم منصب کو بطور وزیر خارجہ کام کی اجازت ہے؟ وانگ یی اور سرگئی لاروف امریکا میں کس سے بات کریں؟ ٹرمپ کے ان پراپرٹی ڈیلروں سے جن کی سرے کوئی سرکاری حیثیت ہی نہیں؟

اگر سٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر کسی ملک کے ساتھ نام نہاد سفارتی عمل کے دوران کسی دستاویز پر دستخط کردیں تو خود امریکی عدالتوں میں ہی ان دستخطوں کی کوئی اہمیت ہوگی؟ کیا یہ امریکی قوم کے براہ راست یا کانگریس سے بالواسطہ منتخب و منظور ہونے والے سرکاری لوگ ہیں؟ یہ تو ٹرمپ کے ذاتی ایلچی ہیں۔ رواج کے مطابق سربراہوں کے ایلچی دیگر ممالک کے سربراہوں تک پیغام رسانی کرتے ہیں۔ سو صدر پیوٹن ٹرمپ کے پیغامات وصول کرنے کے لیے سٹیو وٹکاف سے مل لیتے ہیں، کیا اسی وٹکاف سے ماسکو میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف ایک بار بھی ملے؟ قطعاً نہیں۔

اس کے برخلاف سرگئی لاروف کو ڈیڑھ دو ماہ قبل بیان جاری کرنا پڑا کہ پیغام رسانی بہت ہوگئی، اب امریکا اپنے اس سفارتی ڈیلی گیشن کا اعلان کرے جس سے روس کے باقاعدہ مذاکرات شروع ہوں۔ باقاعدہ سفارتی ڈیلی گیشن سے کیا مراد تھی؟ وہ ’سرکاری ٹیم‘ جو امریکی دفتر خارجہ کے اہلکاروں پر مشتمل ہو، جن کے کہے لفظ اور کیے گئے دستخط کی کوئی قانونی اہمیت بھی ہو۔ سٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر تو کسی سرکاری چپڑاسی جتنی بھی اہمیت نہیں رکھتے، جب یہ کسی فریق کے ساتھ بات چیت کے لیے بیٹھتے ہیں تو دنیا یہ احمقانہ تصور قائم کر لیتی ہے کہ یہ سفارتکاری ہو رہی ہے، کوئی نتیجہ نکلے گا۔ سٹیو وٹکاف شہنشاہ ڈونلڈ ٹرمپ کا مرغا ہے اور مرغے انڈہ نہیں دے سکتے۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں ایرانی چوکے۔ عباس عراقچی وزیر خارجہ کی حیثیت سے دو بار ایسے امریکیوں سے ڈسے گئے جو وزیر خارجہ چھوڑیے سرے سے سفارتکار ہی نہ تھے، بلکہ ٹرمپ کے سانپ تھے۔ یعنی عباس عراقچی نے دونوں بار ایسے لوگوں سے مذاکرات کی غلطی کی جن کی کوئی سرکاری حیثیت ہی نہ تھی۔ وہ تو فقط پراپرٹی ڈیلرز ہیں۔ بھلا پراپرٹی ڈیلروں سے بھی بڑا کوئی فراڈیا ہوتا ہے؟ یہ تو ایک ہی پلاٹ تین تین پارٹیوں کو بیچ کر مال کھرا کرتے ہیں۔ عباس عراقچی سوچیں کہ وہ مومن ہوکر جس ایک بل سے دو بار ڈسے گئے، اسی بل سے روس اور چین کے وزرائے خارجہ ایک بار بھی ڈسے جاسکے؟ نہیں! کیونکہ وانگ یی اور سرگئی لاروف دونوں اس بل کے قریب ہی نہ گئے۔ روس اور چین یوں ہی سپر طاقت نہیں بن گئے۔ یہ اصول، روایات اور ضابطے جانتے ہیں، اور ضابطہ یہ کہتا ہے کہ وزیر خارجہ کسی دوسرے ملک کے پراپرٹی ڈیلر سے نہیں وزیر خارجہ سے ہی ملتا ہے۔

انہی پراپرٹی ڈیلروں سے متعلق ذرا صدر پیوٹن کی حکمت عملی بھی دیکھیے، سال بھر قبل جب شہنشاہ ڈونلڈ ٹرمپ نے سٹیو وٹکاف نامی پراپرٹی ڈیلر کو بطور ایلچی مقرر کیا تو صدیر پیوٹن نے بھی جواباً کیرل دمتریف کو ایلچی مقرر کرلیا، اور پیوٹن کی سمجھداری دیکھیے کہ پیوٹن نے انہیں ایلچی مقرر کرتے ہی ایلچی برائے غیر ملکی سرمایہ کاری کا سرکاری عہدہ دے کر یہ بھی واضح کردیا کہ روس میں شہنشاہیت نہیں لہٰذا ہمارا ایلچی سرکاری وزن بھی رکھتا ہے، اس کے دستخطوں کی قانونی حیثیت بھی ہوگی۔

اب ایک دلچسپ سین دیکھیے۔ پچھلی بار جب ٹرمپ کے دونوں پراپرٹی ڈیلر ماسکو پہنچے تو پہلی ہی رات کیرل دمتریف انہیں پیدل لے کر ماسکو کی بلند و بالا روشن عمارتیں دکھانے نکل پڑے۔ عام پبلک میں ہی انہیں گھمایا، اسی رات روس نے اس مٹر گشت کی ویڈیوز اپنے سوشل میڈیا پر پھیلا دیں۔ جن میں کیجول لباس میں ملبوس کیرل دمتریف دونوں امریکی پراپرٹی ڈیلروں کو انگلی کے اشاروں سے کبھی ایک تو کبھی دوسری بلند و بالا عمارت کی جانب متوجہ کرتے نظر آرہے تھے۔ یہ ویڈیوز دیکھ کر مغرب کے نام نہاد جیوپولیٹکل تجزیہ کاروں نے کہا اور لکھا ’دونوں ممالک میں قربت بڑھ رہی ہے‘ لیکن جانتے ہیں فی الحقیقت پیوٹن نے میسج کیا دیا تھا؟ یہی کہ ہماری نظر میں سٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر کی پراپرٹی ڈیلرز سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں۔ سو ہمارا بزنس مین انہیں ماسکو کی پراپرٹیز ہی دکھا سکتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی جنگ پاکستان کی کامیابی سفارتکاری کے نتیجے میں دو ہفتوں کے لیے رک چکی۔ ہم دو ہفتے اس لیے کہہ رہے ہیں کہ اعلان دو ہفتوں کا ہی ہوا ہے، ورنہ لکھ رکھیے کہ ٹرمپ نے اب وصیت چھوڑنی ہے کہ کسی سے بھی پنگا لے لینا، ایرانیوں سے نہ لینا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے بیچ 10 اپریل سے اسلام آباد میں بات چیت شروع ہونے جا رہی ہے۔ دو بار ڈسے جانے والے ایرانی اس بار وٹکاف نہیں بلکہ نائب صدر جے ڈی وینس سے ممکنہ طور پر بات چیت کریں گے۔ جس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کو تاحال نوکری حلال کرنے کی اجازت نہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میرا فریضہ امن پھیلانا ہے، ٹرمپ سے ڈرتا نہیں، پوپ لیو

اسحاق ڈار سے چینی سفیر جیانگ زیڈونگ کی ملاقات، امریکا ایران مذاکرات کی ثالثی پر پاکستان کو خراج تحسین

18 سال سے کم عمر کی شادی کو زیادتی کے زمرے میں شمار ہوگا، پنجاب اسمبلی میں آرڈیننس منظور

پنجاب اسمبلی: وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کو نوبیل انعام دینے کے لیے قرارداد جمع

دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں جاری، رینجرز اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ کارروائی، خطرناک ملزم گرفتار

ویڈیو

میانوالی کی مرغ منڈی: مشہور اصیل سمیت ہر نسل کے مرغوں کی خرید و فروخت کا مرکز

پاکستان امن کے لیے مزید کیا کرسکتا ہے؟

عالمی معیشت میں بہتری: اسٹاک مارکیٹ اور سونے چاندی میں سرمایہ کاری کب کی جائے؟

کالم / تجزیہ

کیا مذاکرات کے شور میں تحریک انصاف ختم ہو چکی ہے؟

ٹرمپ خان کا قالین

اسلام آباد مذاکرات کی کامیابی کے نمایاں پہلو