بلوچستان حکومت نے قومی کفایت شعاری اقدامات کے تحت غیر مجاز افراد کے زیراستعمال سرکاری گاڑیاں واپس لینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
یہ فیصلہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت چیف منسٹر سیکریٹریٹ میں منعقدہ ایک اہم جائزہ اجلاس میں کیا گیا جس میں سرکاری وسائل کے مؤثر اور شفاف استعمال کو یقینی بنانے کے لیے متعدد اقدامات کی منظوری دی گئی۔
مزید پڑھیں: پوری قوم کو پیٹرول کی بچت اور کفایت شعاری مہم میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ غیر متعلقہ افراد کے زیراستعمال تمام سرکاری گاڑیوں کی فوری واپسی یقینی بنائی جائے گی۔ اس سلسلے میں سابق گورنرز، سابق وزرائے اعلیٰ، سابق وزرا، سابق اراکین اسمبلی، ریٹائرڈ افسران اور دیگر غیر مجاز افراد سے سرکاری گاڑیاں واپس لینے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق اس فیصلے کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف سخت کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے اجلاس میں ہدایت دی کہ تمام سرکاری گاڑیوں کا جامع آڈٹ کیا جائے اور ایندھن کی فراہمی صرف تصدیق شدہ اور مجاز گاڑیوں تک محدود رکھی جائے تاکہ سرکاری وسائل کے غیر ضروری استعمال کو روکا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق تمام سرکاری محکموں کو ہدایت جاری کردی گئی ہے کہ وہ اپنے زیر استعمال سرکاری گاڑیوں کی تفصیلات مرتب کریں تاکہ مرحلہ وار ان گاڑیوں کی واپسی کا عمل شروع کیا جا سکے۔
اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ دفتری اوقات کے بعد سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی، تاہم سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے مجاز اتھارٹی سے پیشگی اجازت لینا لازمی ہوگا، اور خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ افسر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
حکومت کے اس اقدام کو عوامی حلقوں کی جانب سے مثبت قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: کفایت شعاری مہم: پنجاب حکومت نے 40 ارب روپے وفاق کو بھجوا دیے
ماہرین کے مطابق بلوچستان میں سرکاری گاڑیوں کے غیر مجاز استعمال اور ایندھن کے بے جا خرچ سے متعلق شکایات طویل عرصے سے سامنے آتی رہی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری گاڑیوں کی واپسی، آڈٹ اور نگرانی کے اقدامات پر مؤثر عملدرآمد کیا گیا تو اس سے سرکاری اخراجات میں کمی کے ساتھ حکومتی وسائل کے استعمال میں شفافیت بھی ممکن ہو سکے گی۔













