امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا عمل اسلام آباد میں شروع ہونے والا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کی کامیابی کے امکانات کتنے ہیں؟
باضابطہ دستاویز تو سامنے نہیں آئی لیکن میڈیا کے ذریعے فریقین کا جو موقف سامنے آیا ہے اس کو ہم دو حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ زیادہ تر چیزیں وہ ہیں جہاں دونوں میں اتفاق رائے کی امید ہے، یا کم از کم یہ امکان موجود ہے کہ اتفاق رائے نہ بھی ہوسکا تو درمیانی راستہ نکال کر دونوں کے لیے فیس سیونگ تلاش کرلی جائے لیکن کچھ پہلو وہ بھی ہیں جہاں اتفاق رائے بھی ممکن نہیں اور کوئی درمیانی صورت پیدا ہوتی بھی نظر نہیں آرہی۔ ان میں سے کچھ چیزیں ایسی ہیں جو امریکا کے لیے بھلے اتنی اہم نہ ہوں لیکن عرب دنیا میں امریکا کے حلیفوں کے لیے یہ شاید سب سے اہم ہوں۔
بنیادی بات یہ ہے کہ جب مذاکرات میں مطاالبات رکھے جاتے ہیں تو ہر مطالبہ نہ تسلیم کیا جاتا ہے نہ ہی ہر مطالبہ تسلیم کروانے کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔ باٹم لائن پر چند ہی چیزیں ہوتی ہیں جو مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی میں فیصلہ کن ہوتی ہیں۔ کچھ مطالبات صرف ریکارڈ کی درستگی کے لیے رکھے جاتے ہیں تاکہ سند رہیں اور بوقت ضرورت کام آئیں۔ کچھ ایسے مطالبات بھی ہوتے ہیں جو رکھے ہی اس لیے جاتے ہیں کہ اگلے فریق کو مسترد کرنے کے لیے بھی گنجائش دی جائے اور وہ انہیں قبول کرنے سے انکارکردے۔ مذاکرات لو اور دو کا نام ہے۔ نہ یہ مکمل طور پر لینے کا نام ہے نہ سب کچھ دینے کا نام ہے۔
آئیے اب اس تازہ صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایران کے جوہری پروگرام پر پیشرفت ممکن ہے۔ ایران پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ ایٹم بم بنانے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں اور یہ کہ سپریم لیڈر نے اسے انسانیت دشمن اسلحہ قرار دیتے ہوئے اس سے روک دیا تھا۔ ایران پرامن ایٹمی صلاحیت کی بات کررہا ہے۔ امریکا کا یہ کہنا ہے کہ یورینیم کی افزودگی وہاں تک لائی جائے جہاں ایٹمی اسلحے کا امکان نہ رہے۔ دونوں میں اصولی طور پر اتفاق ہے۔ اتنا اتفاق ضرور ہے کہ دونوں کو فیس سیونگ مل سکتی ہے۔ صرف جزئیات کا اختلاف ہے۔ امریکا کا کہنا ہے وہ خود زمین کھود کر یورینیم نکال لائے گا جو ظاہر ہے ممکن نہیں۔ ممکن ہوتا تو امریکا نکال چکا ہوتا۔ درمیانی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کو ایران تھوڑی مزید آزادی سے کام کرنے دے اور وہ بعد میں ان معاملات کو دیکھتی رہے۔
آبنائے ہرمز کا معاملہ بھی آسانی سے حل ہوسکتا ہے۔ ایران سیز فائر کے ساتھ ہی اسے کھول بھی چکا ہے۔ مستقل جنگ بندی ہوتی ہے تو آبنائے ہرمز مستقل کھلا رہے گا۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق یہ ایران ہی کا علاقہ ہے تو اسی کا رہنا ہے۔ امریکا اِدھر اُدھر باتیں کرتا رہے، دباؤ ڈالتا رہے لیکن عملاً یہ ایران ہی کے پاس رہے۔ آبنائے ہرمز پر قبضہ اگر جنگ میں نہیں کیا جاسکا تو یہ توقع رکھنا تو حماقت ہے کہ ایران مذاکرات میں اس پر امریکی ملکیت یا شراکت قبول کرلے گا۔ یہ بات امریکا کو بھی معلوم ہے۔ وہ قبضہ کرسکتا تو اب تک کرچکا ہوتا، مذاکرات کی طرف نہ آتا۔
ایران جنگ کا تاوان اور نقصان کا ازالہ مانگ رہا ہے۔ امریکا اسے تسلیم نہیں کرے گا لیکن درمیانی راستہ موجود ہے اور خود ٹرمپ یہ راستہ تجویز کرچکے ہیں، جسے وہ تعمیرِ نو کا نام دیتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں امن اور تعمیرِ نو کے نام پر کوئی فنڈ جاری ہوسکتا ہے جس کا ایک حصہ ایران میں تعمیرِ نو پر خرچ کردیا جائے اور درمیانی راستہ نکال لیا جائے۔
ایران کا مطالبہ ہے کہ اس پر پابندیاں ختم کی جائیں اور اس کے اربوں ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں۔ یہ مطالبہ کچھ چیزوں سے مشروط کرکے بھی قبول کیا جاسکتا ہے اور غیر مشروط طریقے سے جزوی طور پر بھی قبول کیا جاسکتا ہے۔ فی الوقت اسے قبول نہ بھی کیا گیا تو اس بنیاد پر مذاکرات ناکام ہونے کا کوئی امکان نہیں۔
ایران کا کہنا ہے کہ ا مریکا اس خطے سے اپنے اڈے ختم کرے۔ یہ مطالبہ تسلیم کرنا ممکن نہیں۔ یہ اڈے جن ممالک میں ہیں وہ خود مختار ممالک ہیں۔ یہ معاملہ ان کا ہے اور امریکا کا ہے۔ ایران کا نہیں۔ یہ مطالبہ بھی ریکارڈ کی درستگی والا مطالبہ ہے۔ اسے قبول نہ کرنے سے مذاکرات کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
اسی طرح امریکا کہہ رہا ہے کہ ایران خطے میں اپنی پراکسیز ختم کرے۔ یہ بڑا اہم نکتہ ہے۔ حزب اللہ اور حوثی ایران کی اے سمیٹرک وار فیئر کا بنیادی جزو ہیں۔ وہ ان کو کیسے ڈس اون کرے گا۔ نہیں کرے گا۔ امریکا بھی اس مطالبے پر کوئی ایسا اصرار نہیں کرے گا کہ مذاکرات داؤ پر لگا دے۔
لیکن یہ وہ مطالبہ ہے جو امریکا کے عرب حلیفوں کا شاید سب سے دیرینہ مطالبہ ہو کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ انقلاب ایران کے بعد ان پراکسیز کے ذریعے ایران نے جس طرح اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کی ہے وہ عرب دنیا کے لیے پریشان کن ہے اور اس نے مسلم دنیا میں گہری تقسیم پیدا کی ہے۔
مذاکرات کی کامیابی کے امکانات بظاہر زیادہ دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کی اپنی وجوہات ہیں۔
پہلی وجہ یہ ہے کہ امریکا اور ایران دونوں اس صورتحال سے نکلنا چاہتے ہیں۔ امریکا اگر جنگ جیت سکتا یا جیت رہا ہوتا تو وہ مذاکرات کی طرف نہ آتا۔ عالمی برادری اس کے ساتھ نہیں، اس کی آشیرباد پر لائی قرارداد ویٹو ہوچکی ہے۔ وہ آبنائے ہرمز تک نہیں کھلوا سکا۔ اس پر حلیفوں کا بھی دباؤ ہے جن کی معیشت اس امریکی مس ایڈونچر میں گھائل ہوچکی ہے۔ اسے اب فیس سوینگ چاہیے۔
ایران بھی مزاحمت تو خوب کررہا ہے اور اپنا دفاع کررہا ہے لیکن یہ جنگ اس کا انتخاب نہیں تھی کہ وہ اس پر اصرار کرے، یہ جنگ اس پر تھوپی گئی ہے۔ اس لیے اسے بھی غیر ضروری طور پر اسے جاری رکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہوگی۔ اس کا نقصان بھی بہت ہوچکا۔ جنگ بندی ا ور امن اس کی بھی ضروت ہے۔
ایک چیز البتہ پریشان کن ہے۔ عین اس وقت جب مذاکرات کی شروعات ہونے ہی والی ہیں، اسرائیل نے لبنان پر حملہ کردیا ہے۔ یہ تو ممکن نہیں کہ نیتن یاہو یہ سب کچھ اپنے طور پر کررہا ہو۔ بظاہر یہ امریکا کی اجازت اور تائید سے ہورہا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا تازہ بیان بھی اس خدشے کو تقویت دے رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لبنان جنگ بندی کا حصہ نہیں ہے۔ یہاں اب ایران کے لیے بڑا مشکل ہوجائے گا کہ وہ لبنان اور حزب اللہ سے لاتعلق ہوکر امن مذاکرات کرتا پھرے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے اسرائیل پر حملے ہورہے ہوں تو امریکا اس سے لاتعلق ہوکر مذاکرات نہیں کر سکتا۔
پاکستان نے بڑی محنت سے، تنکا تنکا جوڑ کر مذاکرات کا یہ آشیانہ بنایا ہے، اسے ضائع نہیں ہونا چاہیے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













