یومِ دستور کے موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے پیغامات میں 1973 کے آئین کو قومی وحدت، جمہوری استحکام اور عوامی حقوق کی ضمانت قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: شرح خواندگی میں پاکستان جنوبی ایشیا میں بدستور آخری نمبر پر، رپورٹ میں انکشاف
صدر مملکت نے کہا کہ آئین ریاست کا بنیادی قانونی و سیاسی فریم ورک ہے جو طویل مشاورت اور اتفاقِ رائے سے تشکیل پایا، اور تمام چیلنجز کے باوجود ریاستی تسلسل کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو آئین کا معمارِ اعظم قرار دیتے ہوئے سیاسی جماعتوں اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی جمہوریت کے لیے خدمات کو سراہا، اور اس بات پر زور دیا کہ آئین پر مخلصانہ عملدرآمد ہی مضبوط جمہوریت کی ضمانت ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ 10 اپریل 1973 کو منظور ہونے والا آئین عوام اور ریاست کے درمیان ایک مقدس معاہدہ ہے جو حقوق و فرائض کا تعین کرتا ہے۔
مزید پڑھیں:یوم استحصال کشمیر: پاکستان کا کشمیریوں کی حمایت جاری رکھنے کا عزم
انہوں نے کہا کہ یہ آئین پارلیمانی جمہوری نظام اور مضبوط ریاستی ڈھانچے کی بنیاد فراہم کرتا ہے اور تمام شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا محافظ ہے۔ وزیراعظم نے آئین کو وفاق اور قومی اتحاد کی علامت قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ترقی و خوشحالی کے سفر کو جاری رکھے گا۔













