پاکستان کی نئی عالمی پہچان، تنہائی سے مرکز امن تک

جمعہ 10 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہر طرف ایک عجیب سی خوشی کی لہر ہے، ایک مثبت ارتعاش ہے۔ سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ آخر پاکستان کو ملا کیا ہے؟ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ پاکستان کو وہ ملا ہے جس کا ہم نے دہائیوں سے انتظار کیا تھا۔ ہمیں ایک نیا وقار، ایک نیا قد کاٹھ اور ایک نئی پہچان ملی ہے۔

ایک وقت تھا جب کہا جاتا تھا کہ پاکستان سفارتی طور پر تنہا ہوچکا ہے۔ لیکن آج منظرنامہ بدل چکا ہے۔ وہ بھارت جو ہمیں دنیا میں الگ تھلگ کرنے کا دعویٰ کرتا تھا، آج وہ اس بڑے سفارتی کھیل میں پیچھے رہ گیا ہے۔ ہم پر دہشتگردی کے الزامات لگتے تھے، ہمیں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹوں سے لڑنا پڑتا تھا۔ لیکن آج؟ آج پاکستان دنیا میں ’امن کے علمبردار‘ کے طور پر ابھرا ہے۔

سب سے بڑی تبدیلی ہماری پوزیشن میں آئی ہے۔ کل تک صدر ٹرمپ ہماری جنگیں بند کرانے کے لیے ثالث بنتے تھے، آج حالات یہ ہیں کہ ہم ان کی (یعنی عالمی طاقتوں کی) جنگیں رکوانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان اب ایک ’برج‘ بن چکا ہے، ایک ایسا برج جو بیک وقت امریکا اور چین، اور ایران اور سعودی عرب کے درمیان بات چیت کروا سکتا ہے۔ جو مقام کبھی قطر کو حاصل تھا، آج پاکستان وہ جگہ لے چکا ہے۔ ہمیں اب ’جنوبی ایشیا کا جنیوا‘ کہا جا رہا ہے۔

بات کرتے ہیں اس پورے عمل کے سب سے دوررس نکتے پر۔۔۔ یعنی چائنہ کے کردار پر، ایران اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والی حالیہ پیش رفت میں چین براہ راست سامنے نہیں آیا، کیونکہ فیلڈ میں پاکستان موجود تھا۔ ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ ایران کو چین نے راضی کیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے پیچھے پاکستان کی خاموش اور موثر سفارت کاری تھی۔

پاکستان آج چین کی عالمی سفارت کاری کا اصل ’چہرہ‘ بن کر ابھرا ہے۔ پاکستان اس وقت دنیا کی نئی صف بندی کا مرکز و محور ہے۔ چاہے پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ ہو یا ترکیہ کا اس بلاک میں شامل ہونا، مرکز پاکستان ہی ہے۔ پوری خلیج میں کوئی ایک ایسا ملک نہیں ہے جس کے ایران اور سعودی عرب، دونوں کے ساتھ بیک وقت اتنے مضبوط مراسم ہوں، اور پاکستان نے یہ ثابت کر دکھایا ہے۔

پاکستان اب کسی کا حریف نہیں بلکہ سب کا خیر خواہ ہے، جو اسے غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے بہترین جگہ بناتا ہے۔ عالمی سطح پر اس نئی انگیجمنٹ کی وجہ سے پاکستان کے معدنیاتی وسائل میں دنیا کی دلچسپی اور سرمایہ کاری کے امکانات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ اس سارے عمل کا سب سے بڑا فائدہ ’غیر مادی‘ ہے۔ ہماری نسل نے ہمیشہ لعن طعن سنی، ہمیشہ خود کو تنقید کی زد میں دیکھا۔

لیکن آج پہلی بار ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ ہم معتبر ہیں۔ دنیا ہماری بات سنتی ہے۔ ہم نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ  سے بچانے میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ یہ ’نیشنل پرائیڈ‘ کا لمحہ ہے۔ کسی بھی قوم کے حوصلے اور مورال کے لیے یہ احساس سب سے زیادہ اہم ہے کہ اس کا ملک دنیا کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ پاکستان اب صرف ایک ریاست نہیں، ایک عالمی ضرورت بن چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی ٹی آئی کے روپوش رہنما مراد سعید کا طویل انٹرویو، کس طرح اور کیسے ممکن ہوا؟

قائمہ کمیٹی برائے ہاؤس و لائبریری کا اجلاس، پارلیمنٹ لاجز میں اضافی فیملی سوئٹس پر پیشرفت کا جائزہ

جنوری 2025 تا حال: ہر ہفتے ایک فلسطینی بچہ صیہونی فورسز کے ہاتھوں شہید، یونیسیف

پاکستان ہائی کمیشن نیروبی میں معرکہ حق کی تقریب، پاکستان زندہ باد کے نعرے، مسلح افواج کو خراج تحسین

اسپاٹیفائی کی 20ویں سالگرہ: صارفین کے لیے یادگار ‘ٹائم کیپسول’ متعارف

ویڈیو

عبدالستار ایدھی کا مجمسہ دہشتگردی کا شکار‘ مجمسہ ساز کی حکومت سے بحالی کی اپیل

خیبرپختونخوا حکومت بیڈ گورننس کا گڑھ ہے، مانسہرہ کے شہریوں کے شکوے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجاویز مسترد کیے جانے کے بعد مذاکرات کا کتنا امکان ہے؟

کالم / تجزیہ

12 مئی والی ایک لاش بول پڑی

ایک تباہ کن جنگ: جو نہ ہو سکی

آدمی جو موٹر بند کرنا بھول گیا تھا