بھارت کا اسرائیل کو فراہم کردہ اسلحہ غزہ جنگ میں استعمال ہو رہا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

جمعہ 31 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ بھارت اسرائیل کو ہتھیار، گولہ بارود اور دیگر فوجی ساز و سامان فراہم کر رہا ہے، جو غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں استعمال ہو رہا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ  ’میڈ اِن انڈیا‘کے مطابق بھارتی دفاعی اداروں اور نجی کمپنیوں نے 7 اکتوبر 2023 سے 30 نومبر 2025 تک اسرائیل کو بڑی مقدار میں فوجی سامان برآمد کیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ ترسیلات اس وقت بھی جاری رہیں جب عالمی سطح پر اسرائیلی فوج پر غزہ میں جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے جا رہے تھے۔

رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بھارتی دفاعی کمپنیاں براہ راست اسرائیلی دفاعی اداروں اور کمپنیوں کو اسلحہ، گولہ بارود اور فوجی ساز و سامان فراہم کر رہی ہیں، جبکہ بعض صورتوں میں بھارتی ساختہ دفاعی نظام بھی اسرائیلی فوجی ضروریات کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

ایمنسٹی کے مطابق تصدیق شدہ کسٹمر ڈیٹا کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ بھارت سے اسرائیل بھیجے جانے والے سامان میں کم از کم 5 لاکھ 65 ہزار 970 دھماکہ خیز آلات کے اجزا، 155 ملی میٹر توپ خانے کے گولوں سے متعلق پرزے، 298 فوجی گاڑیاں اور 3 لاکھ 90 ہزار 516 چھوٹے ہتھیاروں کے اجزا شامل تھے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران ان ترسیلات کے روابط بھارت میں قائم دفاعی کمپنیوں اور ان اداروں سے ملے جو اسرائیل کو فوجی سامان فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ میں اسرائیلی حملوں کے دوران 155 ملی میٹر توپ خانے کے گولوں کے استعمال کے شواہد بھی جمع کیے ہیں۔ تنظیم کے مطابق ان ہتھیاروں کا استعمال بعض ایسے حملوں میں بھی ہوا جن میں طبی مراکز اور شہری تنصیبات متاثر ہوئیں۔

ایمنسٹی نے اپنی رپورٹ میں بھارتی کمپنی الفا ایلسیس (Alpha Elsec) کی جانب سے فراہم کیے گئے بعض دھماکہ خیز جنگی اجزا کا بھی ذکر کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق ان اجزا کی مماثلت اسرائیلی کمپنی ایل بِٹ سسٹمز (Elbit Systems) کے تیار کردہ اسکائی اسٹرائیکر (SkyStriker) خودکار حملہ آور ڈرونز میں استعمال ہونے والے وارہیڈز سے پائی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ میں مختلف مقامات، جن میں خان یونس بھی شامل ہے، سے ایسے ڈرونز کے ملبے اور باقیات ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہتھیاروں کی فراہمی کے نظام کو مزید شفاف بنائے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ فوجی سامان ایسے حالات میں استعمال نہ ہو جہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا خطرہ موجود ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شہزادہ چارلس اور شہزادی ڈیانا کے ہنی مون کی تلخ یادیں سامنے آگئیں

فیفا، ارجنٹینا اور سازشی نظریات: حقائق کیا کہتے ہیں؟

کینسر علاج میں اہم پیشرفت، 58 سالہ خاتون کو جدید مدافعتی تھراپی دی گئی

عبدالعلیم خان نے ہر صوبے کو 3 حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دے دی

کیا ٹام ہالینڈ ہمیشہ کے لیے اسپائیڈر مین کو الوداع کہنے والے ہیں؟

ویڈیو

لائیوبلوچستان میں ترقی روکنے کے لیے دہشتگردی کی جاتی ہے، احساسِ محرومی اور نمائندگی کا بیانیہ حقائق کے منافی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘