بلوچستان حکومت نے دہشتگردی سے متاثرہ شہریوں اور ان کے خاندانوں کو زیادہ مؤثر مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے معاوضوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سورینج کوئلہ کان حادثہ: بلوچستان حکومت کا جاں بحق مزدوروں کے لواحقین اور زخمیوں کے لیے مالی معاونت کا اعلان
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر محکمہ داخلہ نے بلوچستان سویلین وکٹمز آف ٹیررازم (ریلیف اینڈ ری ہیبلیٹیشن) ایکٹ 2014 (بشمول ترامیم 2025) کے تحت نئے معاوضہ نرخوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جو 16 اپریل 2026 سے مؤثر ہوگا۔
محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق دہشتگردی کے واقعات میں جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثا کے لیے مالی امداد 15 لاکھ روپے سے بڑھا کر 25 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔
شدید زخمی افراد، جن کے اعضا متاثر ہوئے ہوں یا جو میڈیکل لیگل سرٹیفکیٹ کے مطابق مستقل معذوری کا شکار ہوئے ہوں ان کے معاوضے کو 5 لاکھ روپے سے بڑھا کر 7 لاکھ 50 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے۔
اسی طرح ایسے زخمی افراد جو 2 ہفتوں سے زائد عرصے تک کام کرنے کے قابل نہ رہیں ان کے لیے امدادی رقم 2 لاکھ روپے سے بڑھا کر 2 لاکھ 50 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔
حکومت نے دہشتگردی کے نتیجے میں رہائشی مکانات کو پہنچنے والے نقصانات کے معاوضے میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔ مکمل طور پر تباہ ہونے والے مکان کے لیے امدادی رقم 5 لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے جبکہ جزوی نقصان کی صورت میں 1 لاکھ سے بڑھا کر 2 لاکھ 50 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔
مزید پڑھیے: دونوں ہاتھوں سے محروم طالب علم رفیع اللہ کا ڈاکٹر بننے کا خواب، وزیراعلیٰ بلوچستان نے ذمہ داری اٹھا لی
اسی طرح کاروباری مراکز، دکانوں، کیوسکس اور دیگر تجارتی اداروں کے نقصانات کے ازالے کے لیے بھی نئے نرخ جاری کیے گئے ہیں۔ مکمل تباہی کی صورت میں معاوضہ 5 لاکھ سے بڑھا کر 7 لاکھ 50 ہزار روپے جبکہ جزوی نقصان پر ایک لاکھ سے بڑھا کر 2 لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق مال مویشی کے نقصانات کو بھی پہلی مرتبہ زیادہ مؤثر انداز میں شامل کیا گیا ہے۔ بھینس، گائے، بیل یا گھوڑے کے ضیاع پر فی جانور معاوضہ 40 ہزار سے بڑھا کر 70 ہزار روپے جبکہ بھیڑ، بکری یا گدھے کے نقصان پر 10 ہزار سے بڑھا کر 20 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔
نقل و حرکت کے دوران تباہ ہونے والے کارگو کے لیے بھی واضح پالیسی متعارف کرائی گئی ہے۔ مکمل نقصان کی صورت میں کارگو بکنگ سلپ میں درج مالیت کا 50 فیصد جبکہ جزوی نقصان پر 15 فیصد معاوضہ تصدیق شدہ دستاویزات کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ہیوی مشینری، ایچ ٹی وی اور ایل ٹی وی گاڑیوں کے نقصانات کے لیے بھی گاڑی کے ماڈل، سال اور انجن کی گنجائش کے مطابق الگ معاوضے مقرر کیے گئے ہیں۔
محکمہ داخلہ نے تمام ضلعی معاوضہ کمیٹیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہر کیس کی مکمل جانچ پڑتال اور تصدیق کے بعد ہی سفارشات محکمہ داخلہ کو ارسال کریں۔ محکمہ زراعت انجینیئرنگ اور محکمہ مواصلات و تعمیرات کو بھی پابند کیا گیا ہے کہ نقصانات کا تخمینہ زمینی حقائق اور اصل جسمانی نقصان کی بنیاد پر غیر جانبدارانہ انداز میں لگایا جائے۔
مزید پڑھیں: سائرہ عطا لسبیلہ ڈویژن کی پہلی کمشنر مقرر، بلوچستان میں خواتین کی قیادت کا نیا سنگِ میل
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ تمام معاوضہ کیسز واقعے کی تاریخ سے 2 ہفتوں کے اندر مکمل کرکے محکمہ داخلہ کو بھجوائے جائیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کو بروقت مالی امداد فراہم کی جا سکے۔ تاہم واضح کیا گیا ہے کہ جو گاڑیاں انشورنس کے تحت کور ہوں گی انہیں حکومت بلوچستان کی جانب سے اضافی معاوضہ نہیں دیا جائے گا۔













