پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹنٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات میں افغان دہشتگردوں کا کردار نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔ رواں سال ہونے والے 28 خودکش حملوں میں سے زیادہ تر خودکش بمبار افغان شہری تھے، جبکہ ٹانک اور کراچی میں پیش آنے والے حالیہ حملوں میں بھی افغان دہشتگرد ملوث تھے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں نے رواں سال اب تک مجموعی طور پر 40 ہزار 348 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے، جن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں تصدیق شدہ دہشتگرد ہلاک کیے گئے اور ان کے نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔
دہشت گردوں کے لیے اب نہ کسی رعایت کی گنجائش ہے، نہ مذاکرات کی۔ ریاست نے واضح کر دیا ہے کہ یا تو قانون کی عملداری کو تسلیم کریں، یا پھر ریاستی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر pic.twitter.com/HA5Qwv6pfR
— WE News (@WENewsPk) July 31, 2026
انہوں نے کہا کہ رواں سال اب تک دہشتگردی کے باعث مجموعی طور پر 819 پاکستانی شہید ہوئے، جن میں پاک فوج کے 303 جوان، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 194 اہلکار جبکہ 322 عام شہری شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ہمارا کام سیاسی جماعتوں سے بات کرنا نہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کردیا
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اس عرصے کے دوران ملک بھر میں دہشتگردی کے 3 ہزار 145 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں ایک ہزار 971 خیبرپختونخوا، ایک ہزار 148 بلوچستان جبکہ 26 واقعات ملک کے دیگر حصوں میں پیش آئے۔
انہوں نے دہشتگردی کے اعداد و شمار کا گزشتہ سال سے تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 2025 میں مجموعی طور پر 2 ہزار 597 دہشتگرد مارے گئے تھے، جبکہ رواں سال ابھی تقریباً نصف عرصہ گزرنے کے باوجود اب تک 2 ہزار 84 دہشتگرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، جو دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور ملک کے امن و استحکام کے لیے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز پوری قوت سے جاری رہیں گے، جبکہ دہشتگردی کی سرپرستی اور سہولت کاری کرنے والے عناصر کے خلاف بھی کارروائیاں مزید مؤثر بنائی جا رہی ہیں۔
حقوق کے ساتھ ذمہ داریاں بھی ضروری ہیں۔ ہر پاکستانی کی پہلی، آخری اور سب سے مقدم شناخت “پاکستانی” ہونی چاہیے، کیونکہ ریاست ہے تو سیاست ہے، زندگی ہے اور شناخت بھی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر pic.twitter.com/BoValaHgOX
— WE News (@WENewsPk) July 31, 2026
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ گزشتہ برسوں کے اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں زیادہ مؤثر ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق 2023 میں شہداء کی تعداد اور تناسب زیادہ تھا، تاہم اب دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ سوال بجا ہے کہ دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ کیوں دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے خلاف دباؤ اور آپریشنز میں شدت پیدا کی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق جب دہشتگردوں کی براہِ راست حکمت عملی ناکام ہوئی تو انہوں نے افغانستان میں طالبان کے زیرِ انتظام علاقوں سے اپنی سرگرمیوں اور معاونت کا دائرہ بڑھا لیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ریاست پاکستان کا مؤقف اب بالکل واضح ہے اور دہشت گردوں کے لیے کسی قسم کی مفاہمت یا رعایت کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ ان کے بقول، دہشتگردوں کے پاس صرف دو راستے ہیں، یا وہ آئین اور قانون کے مطابق ریاست کے سامنے ہتھیار ڈال دیں، یا پھر ریاستی آپریشن کا سامنا کریں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ کے دوران دہشتگردی کے واقعات میں اضافے کی وجوہات اور ریاستی حکمت عملی سے بھی آگاہ کیا جائے گا، کیونکہ یہ اعداد و شمار یقیناً پوری قوم کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بلوچستان کے حوالے سے جان بوجھ کر ایک منفی تاثر پیدا کرنے اور مخصوص بیانیہ مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جہاں سکیورٹی فورسز دہشتگردوں کے خلاف زیادہ تعداد میں آپریشنز کرتی ہیں، وہاں فطری طور پر مقابلوں اور دہشتگردی کے واقعات کی تعداد میں بھی اضافہ دکھائی دیتا ہے، کیونکہ دہشتگرد ریاستی دباؤ کے جواب میں کارروائیوں کی کوشش کرتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جہاں آئین اور قانون سب کے لیے یکساں ہے اور تمام ریاستی معاملات آئین و قانون کے مطابق چلائے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض حلقے پاکستان کو ایک سخت گیر ریاست (ہارڈ اسٹیٹ) قرار دے کر اس کا منفی مفہوم پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسی ریاست میں قانون کی بالادستی، مساوات اور ریاستی رٹ قائم ہوتی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے دوران صحافی بلوچستان پولیس کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے احتراماً کھڑے ہوگئے pic.twitter.com/Wj4sCJeiYI
— WE News (@WENewsPk) July 31, 2026
انہوں نے کہا کہ جب آئین اور قانون کا یکساں اطلاق ہو، کسی کے لیے خصوصی رعایت نہ ہو اور عام و خاص سب قانون کے سامنے برابر ہوں، تو یہی ایک مضبوط ریاست کی بنیاد بنتی ہے۔ ایسی ریاست میں سکیورٹی، استحکام اور نظم و ضبط قائم ہوتا ہے اور بحران جنم نہیں لیتے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے حقائق کو مسخ کرنے کی کوششوں کا مقصد ریاستی اقدامات پر سوال اٹھانا ہے، تاہم پاکستان آئین، قانون اور ریاستی رٹ کے مطابق اپنے معاملات چلانے کے لیے پرعزم ہے۔
حقوق سے پہلے فرائض ادا کرنا ہوں گے
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ہر شہری کو اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے سے پہلے اپنی آئینی ذمہ داریوں اور فرائض کا احساس کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف مقامات پر صرف حقوق کی بات کی جاتی ہے، لیکن یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ ان حقوق سے پہلے شہریوں پر آئین کے تحت کون سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 5 میں شہریوں کی ریاست سے وفاداری اور آئین و قانون کی پابندی کو بنیادی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ اسی بنیاد پر بنیادی حقوق کے ساتھ بنیادی فرائض بھی وابستہ ہیں، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں طالبان رجیم سہولت کاری، بھارت دہشتگردی کروا رہا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ معاشرے میں اس تضاد کو ختم کرنا ہوگا کہ صرف حقوق کا مطالبہ کیا جائے، جبکہ ذمہ داریوں کو فراموش کر دیا جائے۔ ان کے مطابق ہر پاکستانی کو سب سے پہلے اپنی آئینی ذمہ داریوں کو مقدم رکھنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے حال ہی میں نیشنل ورکشاپ بلوچستان سے خطاب کرتے ہوئے بھی اس نکتے پر زور دیا تھا کہ ہر شہری کی پہلی، بنیادی اور آخری شناخت پاکستانی ہونا چاہیے، کیونکہ قومی شناخت اور ریاست سے وفاداری ہی مضبوط اور مستحکم پاکستان کی بنیاد ہے۔
پہلی شناخت پاکستان ہونی چاہیے
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ہر پاکستانی کی پہلی اور بنیادی شناخت پاکستان ہونی چاہیے، نہ کہ صوبائی، لسانی یا نسلی وابستگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کا وجود ہی سیاست، سلامتی، شناخت اور قومی بقا کی ضمانت ہے، اس لیے قومی مفاد کو ہر دوسری شناخت پر فوقیت دینا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ سوچ اپنانا ہوگی کہ پنجابیت، پختونیت، بلوچیت، سندھی، کشمیری یا دیگر علاقائی شناختوں سے پہلے ہماری بنیادی شناخت پاکستانی ہونا ہے۔ ان کے مطابق اگر ریاست مضبوط ہوگی تو ہی سیاست، معیشت، جان، عزت اور قومی شناخت محفوظ رہ سکے گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ دہشت گردی نہیں بلکہ وہ فرسودہ سماجی اور قبائلی نظام ہے، جو کئی دہائیوں سے عام شہری کو ترقی کے مواقع سے محروم رکھے ہوئے ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کو سازگار ماحول میسر ہے، وزیراعلیٰ کا بیانیہ کھل کر سامنے آگیا، ڈی جی آئی ایس پی آر
انہوں نے کہا کہ بعض بااثر عناصر چاہتے ہیں کہ غریب کا بچہ تعلیم حاصل نہ کرے، ڈاکٹر، انجینیئر، معیشت دان یا فوج کا افسر نہ بنے، کاروبار نہ کرے اور نہ ہی ترقی کرے، بلکہ وہ ہمیشہ ان کے زیرِ اثر رہے، ان کی جاگیروں میں کام کرے، ان کی نجی ملیشیاؤں کا حصہ بنے اور ان کے مفادات کا تحفظ کرتا رہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق یہی فرسودہ طرزِ فکر بلوچستان میں موجود جمود اور مسائل کی بنیادی وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی عناصر دہشت گردی اور بدامنی کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں، پھر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ بلوچستان ریاست کے ہاتھ سے نکل رہا ہے تاکہ ماضی کی طرح ان سے رعایت یا مفاہمت کی جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ریاست اب ایسے بیانیے یا دباؤ کو قبول نہیں کرے گی اور بلوچستان کے مسائل کا حل آئین، قانون، ریاستی رٹ اور عوام کی ترقی میں پوشیدہ ہے، نہ کہ فرسودہ قبائلی نظام کو برقرار رکھنے میں۔
سردارانہ نظام، اسمگلنگ اور دہشتگردی کا گٹھ جوڑ بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بعض بااثر عناصر کی اصل پریشانی یہ ہے کہ ریاست اب ماضی کی طرح انہیں خصوصی رعایت یا خوشامد نہیں دے رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عناصر چاہتے ہیں کہ ریاست دوبارہ پرانے طریقہ کار پر واپس آئے، ان سے مذاکرات کرے اور ان کے مفادات کا تحفظ کرے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بعض سردار لیویز فورس کو اپنی ذاتی فورس کے طور پر استعمال کرتے رہے، جہاں بھرتیوں اور وسائل پر ان کا اثر و رسوخ تھا، جبکہ متعدد اہلکار ان کی ذاتی حفاظت اور مفادات کے لیے تعینات رہتے تھے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بعض عناصر نے تجارت کی آڑ میں اسمگلنگ، منشیات اور غیر قانونی ڈیزل کے کاروبار سے بھی فائدہ اٹھایا۔ جب ریاست نے ان سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں شروع کیں تو انہی عناصر نے دہشت گردی اور بدامنی کو ہوا دینے کی کوشش کی اور یہ تاثر دینا شروع کر دیا کہ بلوچستان ریاست کے کنٹرول سے نکل رہا ہے تاکہ دوبارہ انہیں مراعات اور وسائل میں حصہ دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پوری قوم کی آواز ہے، وزیر توانائی اویس لغاری
انہوں نے کہا کہ بلوچستان وسائل سے مالا مال صوبہ ہے، جہاں زراعت، معدنیات اور جغرافیائی محل وقوع سمیت بے شمار قدرتی صلاحیتیں موجود ہیں، لیکن بعض بااثر طبقے ترقی کے بجائے پرانے سردارانہ نظام کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تاکہ عام شہری ان کے زیرِ اثر رہے اور استحصالی نظام جاری رہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے الزام عائد کیا کہ افغانستان میں طالبان کے زیرِ انتظام علاقوں سے سرگرم دہشت گرد گروہ باہمی رابطے اور مشترکہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق خود کو سیکولر اور قوم پرست قرار دینے والے عناصر اور مذہبی انتہا پسند تنظیمیں، نظریاتی اختلافات کے باوجود، پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ریاست کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے احساسِ محرومی، نمائندگی کے فقدان اور لاپتا افراد جیسے معاملات کو بھی مخصوص بیانیے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ عوام کو گمراہ کیا جا سکے اور ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالا جا سکے۔
بلوچستان میں احساسِ محرومی کا بیانیہ حقائق کے برعکس ہے
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں احساسِ محرومی کا تاثر ایک منظم پروپیگنڈے کے ذریعے پھیلایا جاتا ہے، جس کے لیے پہلے مخصوص مواد (کنٹینٹ) تیار کیا جاتا ہے، پھر اسی کی بنیاد پر ایک بیانیہ تشکیل دے کر عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، جبکہ زمینی حقائق اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ اگر صرف گوادر کی مثال لی جائے، جس کی آبادی تقریباً ساڑھے تین لاکھ ہے، تو وہاں تین جامعات، چار ایجوکیشن کالجز، 318 اسکول، بلوچستان کے بڑے اسپتالوں میں شمار ہونے والا پاک چین فرینڈشپ اسپتال، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال، رورل ہیلتھ سینٹر، پانچ چلڈرن ڈسپنسریاں، 19 بنیادی مراکز صحت، بین الاقوامی ہوائی اڈہ، گوادر بندرگاہ، ایکسپریس وے، انڈسٹریل اور ٹیکس فری زونز سمیت متعدد ترقیاتی منصوبے موجود ہیں۔
بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں سخت فوجی نگرانی، آئینی تبدیلیوں اور مسلسل دباؤ کے باوجود کشمیریوں کے جذبات کو تبدیل نہیں کیا جا سکا۔ سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے: مسئلہ کشمیر کا حل طاقت، الزامات اور بیانیہ سازی میں ہے یا کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت میں؟ڈی جی آئی ایس پی آر pic.twitter.com/OeQO0pBsbk
— WE News (@WENewsPk) July 31, 2026
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اسی طرح تربت، جس کی آبادی تقریباً پانچ لاکھ ہے، میں دو جامعات، چھ ایجوکیشن کالجز، کیڈٹ کالجز، گرلز کیڈٹ کالج، سیکڑوں تعلیمی ادارے، ایک ٹیچنگ اسپتال، 27 نجی اسپتال، بین الاقوامی ہوائی اڈہ، جدید سڑکوں کا جال اور کاروباری سرگرمیوں کے مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ملک کے دیگر صوبوں، خصوصاً جنوبی پنجاب، اندرونِ سندھ یا دیہی خیبرپختونخوا کے کتنے شہروں میں اسی درجے کی سہولتیں دستیاب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان میں صرف 363 اسکول موجود تھے، جبکہ آج صوبے میں 12 جامعات، 5 میڈیکل کالجز، 145 کالجز، 13 کیڈٹ کالجز، 321 ٹیکنیکل ادارے اور ہزاروں تعلیمی مراکز قائم ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر
صحت کے شعبے میں ترقی کا ذکر کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے وقت بلوچستان میں صرف تین بڑے اسپتال اور چھ ڈسپنسریاں تھیں، جبکہ آج صوبے میں 13 بڑے اسپتال، 18 ٹیچنگ اسپتال، 36 ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال، 756 بنیادی مراکز صحت، 650 ڈسپنسریاں، پانچ کارڈیک سینٹرز، آٹھ ٹی بی سینٹرز اور درجنوں دیگر طبی مراکز عوام کو خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ بلوچستان میں احساسِ محرومی کا بیانیہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا، بلکہ اسے ریاست کے خلاف منظم پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں احساسِ محرومی کا بیانیہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ 1949 میں پورے بلوچستان میں صرف 375 کلومیٹر سڑکیں تھیں، جبکہ آج صوبے میں سڑکوں کا جال 24 ہزار 433 کلومیٹر تک پھیل چکا ہے، جس میں چار ہزار 400 کلومیٹر سے زائد قومی شاہراہیں بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ترقیاتی وسائل کا جائزہ لیا جائے تو بلوچستان کا فی کس بجٹ ملک کے دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب، سے کہیں زیادہ ہے، اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ صوبے کو وسائل سے محروم رکھا گیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں جان بوجھ کر بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بناتی ہیں۔ مزدوروں، انجینئروں، اساتذہ اور دیگر ماہرین کو قتل کیا جاتا ہے، سڑکوں، پلوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر حملے کیے جاتے ہیں تاکہ صوبے میں ترقی نہ ہو سکے، پھر اسی صورتحال کو بنیاد بنا کر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ بلوچستان پسماندہ ہے اور ریاست ترقی نہیں کر رہی۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد نہیں چاہتے کہ بلوچستان میں صنعتیں قائم ہوں، زراعت ترقی کرے، تعلیمی ادارے فعال ہوں یا نوجوان تعلیم حاصل کر کے آگے بڑھیں، کیونکہ اس سے فرسودہ سردارانہ نظام کمزور ہوگا اور عام شہری خودمختار بن جائیں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے احساسِ نمائندگی کے بیانیے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 1973 سے بلوچستان میں بھی وہی جمہوری اور انتخابی نظام نافذ ہے جو ملک کے دیگر صوبوں میں رائج ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ صوبے میں بار بار وہی سیاسی خاندان، نواب، سردار، مذہبی جماعتیں اور بااثر شخصیات انتخابات جیت کر اسمبلیوں میں پہنچتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی لوگ کامیاب ہوں تو اسے جمہوریت کہا جاتا ہے، لیکن نتائج مختلف ہوں تو اسی نظام پر اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں۔
لاپتا افراد کے معاملے پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ حکومت نے اس مسئلے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں مستقل کمیشن قائم کر رکھا ہے، جس کے نمائندے ہر ضلع میں موجود ہیں اور ہر کیس کی قانونی طریقہ کار کے مطابق تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہ اس معاملے کو بھی ریاست کے خلاف پروپیگنڈے کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ اس کے لیے باقاعدہ آئینی اور قانونی فورم موجود ہے۔
لاپتا افراد سے متعلق 9 ہزار سے زائد کیس نمٹائے جا چکے
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ لاپتا افراد کے معاملے پر بھی حقائق کے برعکس بیانیہ تشکیل دیا جاتا ہے، جبکہ حکومت نے اس مقصد کے لیے باقاعدہ کمیشن قائم کر رکھا ہے، جہاں ہر کیس کی تحقیقات کی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کے لاپتا ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو اس کا نام، شناختی کارڈ، والد کا نام اور دیگر تفصیلات کمیشن کے سامنے پیش کی جائیں تاکہ ان کی تحقیقات ہو سکیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 2010 کے اوائل میں لاپتا افراد کا کمیشن قائم ہونے کے بعد اب تک مجموعی طور پر 10 ہزار 901 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 9 ہزار 372 کیس نمٹا دیے گئے، جبکہ ایک ہزار 529 کیسز پر کارروائی جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نمٹائے گئے مقدمات میں تقریباً 4 ہزار 896 افراد اپنے گھروں کو واپس پہنچ چکے ہیں، جبکہ تقریباً 730 افراد مختلف جیلوں یا حراستی مراکز میں موجود پائے گئے۔ اسی طرح 308 افراد کے انتقال کی تصدیق ہوئی، جبکہ تقریباً 2 ہزار 400 کیسز میں تفصیلی تحقیقات کے بعد یہ ثابت ہوا کہ انہیں لاپتا افراد کے زمرے میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں:پاک فوج پوری قوم کے تعاون سے ہر خطرے کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی ، ڈی جی آئی ایس پی آر
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے سب سے زیادہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، لیکن کمیشن کے پاس صوبے سے مجموعی طور پر تقریباً 2 ہزار 933 کیسز آئے، جن میں سے 2 ہزار 767 نمٹا دیے گئے اور صرف 166 کیسز زیرِ التوا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا، پنجاب اور دیگر صوبوں سے بھی اسی نوعیت کے کیسز سامنے آتے ہیں، تاہم بلوچستان کے معاملے کو جان بوجھ کر زیادہ نمایاں کیا جاتا ہے۔
بلوچستان میں جو کانٹینٹ بنانے کا کام شروع ہوا ہے، وہ بھی ایک الگ معاملہ ہے۔ خوبصورت وارداتیں دکھائی جاتی ہیں، ویڈیوز بنائی جاتی ہیں۔ ایک بندہ آ رہا ہے، پولیس اسٹیشن پر حملہ کر رہا ہے، اور چار مختلف اینگلز سے کیمروں کے ذریعے ویڈیو بن رہی ہے۔ آخر یہ تم پولیس اسٹیشن پر حملہ کرنے آئے… pic.twitter.com/iX0vk1gek1
— WE News (@WENewsPk) July 31, 2026
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق جن افراد کو بعض حلقے “لاپتا” قرار دیتے ہیں، ان میں سے متعدد بعد ازاں دہشت گرد کارروائیوں میں مارے جاتے ہیں یا ان کی شناخت مختلف واقعات میں سامنے آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی مواقع پر ان افراد کی تصاویر اور شناختی معلومات کمیشن کے ریکارڈ سے بھی مطابقت رکھتی ہیں، جبکہ بعض خاندان خود بھی بعد میں یہ واضح کر دیتے ہیں کہ ان کا ایسے افراد کی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
بلوچستان کا منفی تاثر جان بوجھ کر پھیلایا جا رہا ہے
راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بلوچستان سے متعلق منفی بیانیہ مضبوط کرنے کے لیے منظم انداز میں پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، جس کا ایک اہم حصہ دہشت گرد حملوں کی ویڈیوز اور سوشل میڈیا کے لیے تیار کیا جانے والا مواد ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض دہشت گرد حملوں میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کارروائی سے زیادہ ویڈیو بنانے پر توجہ دی جا رہی ہو۔ حملہ آور پولیس اسٹیشن یا دیگر مقامات پر حملے کے دوران مختلف زاویوں سے ویڈیوز ریکارڈ کرتے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا مقصد صرف حملہ نہیں بلکہ پروپیگنڈا مواد تیار کرنا بھی ہوتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ ویڈیوز بعد میں مخصوص سیاسی عناصر اور ریاست مخالف حلقوں کے بیانیے کو تقویت دینے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ بلوچستان میں صورتحال قابو سے باہر ہے۔ ان کے مطابق ایسے عناصر کو اپنے دعووں کے لیے مسلسل “کنٹینٹ” درکار ہوتا ہے، جسے سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر بار بار نشر کر کے عوام کے ذہنوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے بارے میں حقائق کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ رقبے کے لحاظ سے یہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جس کا کل رقبہ تقریباً 3 لاکھ 47 ہزار 190 مربع کلومیٹر ہے، جبکہ دنیا کے کئی ممالک کا رقبہ بھی اس سے کم ہے۔ اس کے باوجود صوبے کی آبادی تقریباً ایک کروڑ 49 لاکھ ہے، جو ملک کے دیگر بڑے شہری مراکز، جیسے لاہور اور کراچی، کے مقابلے میں بہت کم اور وسیع علاقے میں پھیلی ہوئی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان کی جغرافیائی وسعت اور کم آبادی کو نظرانداز کر کے صرف چند واقعات کی بنیاد پر صوبے کی مجموعی صورتحال کا تاثر دینا درست نہیں اور یہی طرزِ عمل ریاست مخالف پروپیگنڈے کا حصہ ہے۔
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف برسرِپیکار
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال پر تنقید کرنے والوں کو زمینی حقائق بھی دیکھنے چاہییں اور یہ بھی جاننا چاہیے کہ فرنٹیئر کور (ایف سی) کے جوان کس مشکل ماحول اور کن محدود وسائل کے ساتھ صوبے کے دور دراز علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حقائق کو محض تقاریر یا بیانیے سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ایف سی اور دیگر سکیورٹی فورسز بلوچستان میں دہشت گردوں، ریاست مخالف عناصر اور مسلح گروہوں کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے الزام عائد کیا کہ فتنہ الہند، خوارج اور دیگر دہشت گرد گروہ بھارت، آر ایس ایس اور افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر کی سرپرستی اور تعاون سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ عناصر سکیورٹی فورسز کا سامنا کرتے ہیں تو انہیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ فورسز دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ حکمت عملی کے تحت دہشت گردوں کا تعاقب کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:وہ صوبائی حکومت برداشت نہیں جو آپریشن کے خلاف کھڑی ہو، ڈی جی آئی ایس پی آر
انہوں نے بتایا کہ رواں سال اب تک سکیورٹی فورسز 2 ہزار 84 دہشت گردوں کو ہلاک کر چکی ہیں، جبکہ دہشت گرد تنظیموں نے بلوچستان میں عام شہریوں اور ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق رواں سال بلوچستان میں دہشت گردوں نے 178 شہریوں کو شہید کیا، 55 افراد کو اغوا کیا، 24 مقامات پر سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا، جبکہ 60 مختلف مقامات پر ٹرکوں، ایل پی جی گاڑیوں اور دیگر کاروباری املاک کو آگ لگا دی۔ اس کے علاوہ 47 واقعات میں بینکوں، اے ٹی ایمز، دکانوں اور دیگر املاک پر حملے اور لوٹ مار کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ دہشت گردوں کا اصل ہدف عام شہری، ترقیاتی منصوبے اور بلوچستان کی معاشی سرگرمیاں ہیں، تاکہ صوبے میں خوف و ہراس پھیلا کر ترقی کا عمل روکا جا سکے۔
ترقیاتی منصوبوں اور مقامی آبادی کو جان بوجھ کر ہدف بنایا جا رہا ہے
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گرد تنظیمیں سکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ پولیس کو بھی مسلسل نشانہ بنا رہی ہیں تاکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو متاثر کیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال دہشت گردوں نے بلوچستان پولیس کے خلاف 105 حملے کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد ان کارروائیوں کو اپنی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں ان کے زیادہ تر حملے عام شہریوں، پولیس اہلکاروں اور دیگر سوفٹ ٹارگیٹسکے خلاف ہوتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردوں کا بنیادی مقصد بلوچستان کی ترقی کو روکنا ہے، اسی لیے وہ سڑکوں، تعمیراتی مشینری، مزدوروں، ٹھیکیداروں اور ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے افراد کو نشانہ بناتے ہیں۔ ان کے مطابق ٹرکوں، تعمیراتی سامان اور کنٹریکٹرز پر حملے بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں تاکہ صوبے میں سرمایہ کاری اور ترقیاتی سرگرمیاں متاثر ہوں۔
یہ بھی پڑھیں:پاک بحریہ نے تقریباً ایک ارب روپے مالیت کی منشیات قبضے میں لے لیں، آئی ایس پی آر
انہوں نے کہا کہ بعد ازاں یہی عناصر یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ بلوچستان میں ترقی نہیں ہو رہی، سرمایہ کاری نہیں آ رہی، تعلیمی ادارے قائم نہیں ہو رہے اور صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ خود ترقیاتی منصوبوں کو سبوتاژ کرتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گرد حملوں کی ویڈیوز اور تصاویر کو سوشل میڈیا پر منظم انداز میں پھیلایا جاتا ہے تاکہ خوف و ہراس پیدا کیا جا سکے اور ریاست مخالف بیانیے کو تقویت ملے۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں میں نشانہ بننے والے زیادہ تر افراد خود بلوچستان کے شہری ہوتے ہیں۔
پولیس کی استعداد کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دنیا بھر میں کسی بھی دہشت گردی کے واقعے میں پولیس ہی سب سے پہلے جائے وقوعہ پر پہنچنے والا ادارہ ہوتی ہے، اس لیے اسے قدرتی طور پر زیادہ خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پولیس اور لیویز کی استعداد کار بڑھانے پر کام جاری ہے، تاہم ماضی میں اس شعبے میں اصلاحات نہ ہونے کی ذمہ داری ان حکومتوں پر عائد ہوتی ہے جو برسوں تک برسرِ اقتدار رہیں اور لیویز فورس کو جدید، پیشہ ور پولیس فورس میں تبدیل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کر سکیں۔
بلوچستان پولیس دہشتگردوں کی پہلی دفاعی لائن، متعدد حملوں میں اہلکاروں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس اہلکار فرنٹ لائن پر کھڑے ہیں اور تھانوں پر حملوں کے دوران پولیس کے جوان اور افسران غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر 2025 کو ضلع کچھی کے ایک پولیس اسٹیشن پر 40 سے 45 دہشت گردوں نے حملہ کیا، جس کا پولیس نے بھرپور مقابلہ کیا۔ اسی طرح جنوری 2026 میں کوئٹہ میں ہونے والے دہشت گرد حملے میں ڈی ایس پی فضل رشید، انسپکٹر زبیر، اے ایس آئی محمود الرحمان اور کانسٹیبل اشرف خان شہید ہوئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق مارچ میں جھل مگسی، قلات کے علاقے خالق آباد اور دیگر مقامات پر پولیس اسٹیشنوں پر حملے کیے گئے، جہاں پولیس، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور انسداد دہشت گردی فورس (سی ٹی ڈی) نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو پسپا کیا۔
انہوں نے بتایا کہ 24 اپریل کو تقریباً 33 دہشت گردوں نے ایک پولیس اسٹیشن پر بڑا مربوط حملہ کیا، تاہم پولیس، ایف سی اور دیگر سکیورٹی اداروں نے مشترکہ مزاحمت کرتے ہوئے حملہ ناکام بنا دیا۔ اس کارروائی میں کانسٹیبل صوبہ خان نے جامِ شہادت نوش کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ضلع خضدار کے علاقے نال میں 8 جون کو پولیس اسٹیشن پر راکٹوں، دستی بموں اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا، جس کا پولیس اور ایف سی نے مل کر مؤثر جواب دیا۔ بعد ازاں انسداد دہشت گردی فورس بھی موقع پر پہنچی اور دہشت گردوں کو پسپا کر دیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 8 جون کو ہی خضدار کے علاقے گریشہ اور 26 جون کو ضلع کچھی میں بھی پولیس اسٹیشنوں پر حملے کیے گئے، جہاں پولیس، ایف سی اور پاک فوج نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان میں پولیس، ایف سی اور پاک فوج ایک مربوط حکمت عملی کے تحت دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ کارروائیاں کر رہی ہیں، اور سکیورٹی اہلکار عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔
سیکیورٹی اقدامات سے پیٹرول کی اسمگلنگ میں نمایاں کمی
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ سیکیورٹی اقدامات کے باعث ایندھن کی اسمگلنگ میں نمایاں کمی، روزانہ 20.5 ملین لیٹر سے گھٹ کر 1.19 ملین لیٹر رہ گئی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ 15 اکتوبر 2023 سے ایندھن کی تجارت اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات کے نتیجے میں غیر قانونی ایندھن پر انحصار میں نمایاں کمی آئی ہے۔
بریفنگ کے مطابق سال 2023 میں یومیہ 20.5 ملین لیٹر ایندھن پر انحصار ریکارڈ کیا گیا تھا، جو 2024 میں کم ہو کر 6.5 ملین لیٹر یومیہ رہ گیا۔ مزید اقدامات کے بعد 2025 میں یہ مقدار 1.56 ملین لیٹر یومیہ تک آگئی، جبکہ جون 2026 تک یہ مزید کم ہو کر 1.19 ملین لیٹر یومیہ ریکارڈ کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ایندھن کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے ملک بھر میں 25 جوائنٹ چیک پوسٹس قائم کی گئی ہیں، جن میں 5 بین الصوبائی اور 20 اندرونِ صوبہ چیک پوسٹس شامل ہیں۔
بریفنگ میں پیش کیے گئے نقشے کے ذریعے مختلف شاہراہوں اور سرحدی راستوں پر نگرانی کے نظام اور چیک پوسٹس کی نشاندہی بھی کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ان اقدامات کا مقصد غیر قانونی ایندھن کی نقل و حمل کو روکنا، اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی کرنا اور ملک میں ایندھن کی قانونی تجارت کو فروغ دینا ہے۔
پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے اصلاحات، بکتر بند گاڑیوں میں 50 فیصد اضافہ
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پولیس کی استعداد کار میں اضافے کے لیے متعدد اصلاحاتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ بریفنگ کے مطابق سینٹرل پولیس آفس میں ایڈیشنل آئی جی آپریشنز، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن ڈیسک اور پبلک کانٹیکٹ میکانزم سمیت نئی یونٹس قائم کی گئی ہیں، جبکہ نئے بھرتی ہونے والے اے ایس پیز کی تعیناتی بھی جاری ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ بُلٹ پروف گاڑیوں اور آرمرڈ پرسنل کیریئرز (اے پی سی ایس) کی تعداد میں 50 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور وفاقی و صوبائی سطح پر مزید وسائل بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔
اس کے علاوہ 6 خصوصی تربیتی اسکول قائم کیے گئے ہیں، جبکہ پولیس پوسٹ ایپلی کیشن (ای پی پی ) کے ذریعے مجرموں اور دہشتگردوں کے ڈیٹا بیس کو یکجا کیا جا رہا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق 80 پولیس اسٹیشنوں کی قلعہ بندی کا کام جاری ہے، انسداد دہشتگردی فورس ( اے ٹی ایف ) میں پہلی مرتبہ خواتین کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر خصوصی کارروائیوں کے لیے اسپیشل ٹیکٹیکل یونٹ (ایس ٹی یو ) بھی قائم کی گئی ہے۔
وفاقی حکومت اور بلوچستان حکومت بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے مکمل طور پر پر عزم ہیں، پولیس کا جذبہ حیران کن ہے، بدمعاشوں کو رگڑنے کے لیے بلوچستان کی پولیس ہی کافی ہے، کسی کو ان کا جذبہ دیکھنا ہے تو بلوچستان جا کر دیکھ لیں۔
دہشتگردوں کے پیچھے اگر بھارت اور دیگر ایجنسیاں ہیں، تو پولیس کی بیک پر ہم ہیں۔
بلوچستان میں 822 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری، پانی، زراعت اور شاہراہوں کو ترجیح
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بریفنگ میں بتایا گیا کہ بلوچستان میں عوامی شعبے کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی ) کے تحت پانی کی قلت دور کرنے، زرعی شعبے کے فروغ اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے بڑے پیمانے پر منصوبوں پر کام جاری ہے۔
بریفنگ کے مطابق مالی سال 2026-27 کے لیے صوبائی پی ایس ڈی پی کا حجم 206.66 ارب روپے جبکہ وفاقی پی ایس ڈی پی کے لیے 192 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ پانی کی قلت سے نمٹنے اور زرعی ترقی کے لیے 822 ارب روپے مالیت کے منصوبے زیر تکمیل ہیں، جن میں پٹ فیڈر کینال، منگی ڈیم، پاکستان (کچھی) کینال کی توسیع اور این-25 (پاکستان ایکسپریس وے) جیسے اہم منصوبے شامل ہیں۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ وفاقی پی ایس ڈی پی کے تحت 100 ڈیموں کے منصوبے پر 29 ارب روپے لاگت سے کام جاری ہے۔
اس پروگرام کے تحت اب تک 52 ڈیم مکمل کیے جا چکے ہیں، جبکہ 33 ڈیموں کی تعمیر پر کام تیزی سے جاری ہے۔ حکام کے مطابق ان منصوبوں کا مقصد بلوچستان میں آبی وسائل میں اضافہ، زرعی پیداوار میں بہتری اور مواصلاتی نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
بلوچستان میں سماجی و اقتصادی ترقی کے تحت 119 منصوبوں پر پیشرفت
بلوچستان میں سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے شروع کیے گئے منصوبوں پی ایس ڈی پی پر کام کی رفتار جاری ہے، جس کے تحت مجموعی طور پر 119 ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔
منصوبے کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ان ترقیاتی منصوبوں کی کل لاگت 70 ارب روپے مقرر کی گئی ہے، جس میں سے اب تک 19.27 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے شعبے میں 56 منصوبے شامل ہیں جن پر 95 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور 30 منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں۔
مواصلات (کمیونیکیشن) کے شعبے میں 42 منصوبوں پر کام جاری ہے، جس میں 65 فیصد پیشرفت ہوئی ہے اور 7 منصوبے مکمل کر لیے گئے ہیں۔
آبپاشی (اریگیشن) کے شعبے میں 14 منصوبوں پر 95 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ 5 منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ چکے ہیں۔
گرین بلوچستان انیشیٹو کے شعبے اس اقدام کے تحت 7 منصوبے شامل ہیں، جن میں 10 فیصد پیشرفت ہوئی ہے اور ایک منصوبہ مکمل ہو چکا ہے۔
مجموعی طور پر تمام شعبوں میں منصوبوں کی تکمیل کی شرح 70 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ اب تک کل 43 منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں۔
بلوچستان میں 632 ارب روپے کے 12 بڑے روڈ منصوبوں پر کام جاری
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بلوچستان میں اسٹریٹجک مواصلاتی رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے انفراسٹرکچر کی ترقی کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، 1947 میں بلوچستان میں سڑکوں کا نیٹ ورک صرف 375 کلومیٹر پر محیط تھا جو 2026 میں بڑھ کر 24,443 کلومیٹر تک پہنچ چکا ہے، اس کے علاوہ 4,443 کلومیٹر لمبی مین ہائی ویز بھی اس نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔
12 بڑے ترقیاتی منصوبے
صوبے میں مواصلات کے نظام کو مزید مستحکم کرنے کے لیے 632 ارب روپے کی لاگت سے 12 بڑے روڈ پروجیکٹس پر کام کیا جا رہا ہے۔ ان اہم منصوبوں میں درج ذیل شامل ہیں
این 25 (پاکستان ایکسپریس وے) کا منصوبہ 415 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔ ایم -8 (گوادر تا رتوڈیرو) منصوبہ اس اہم شاہراہ پر 70 ارب روپے کی لاگت سے کام جاری ہے۔
پنجگور رابطہ سڑک کو پنجگور کو ایم 8 اور این۔25 سے منسلک کرنے کے لیے 67 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ این۔65 (کوئٹہ تا ڈھاڈر) کی بحالی منصوبہ 1.3 ارب روپے کی لاگت سے اس شاہراہ کی بحالی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔
یہ ترقیاتی اقدامات بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں کو قومی نیٹ ورک سے جوڑنے اور نقل و حمل کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ناگزیر سمجھے جا رہے ہیں۔
دیگر مختلف شعبوں میں اقدامات
آئی ٹی کے شعبے میں مالی سال 2026/27 کے لیے 6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس شعبے کے تحت 65 آئی ٹی ہب قائم کیے گئے ہیں اور ہر سال 10,800 طلباء کو تربیت دی جاتی ہے۔
تعلیم کے شعبے میں مالی سال 2026/27 کے لیے 127 ارب روپے مختص ہیں۔ تعلیمی سہولیات کی تعداد 1947 میں 114 تھی جو 2026 میں بڑھ کر 15,365 ہو چکی ہے، اور اب ہر ماہ 16 نئی تعلیمی سہولیات کا اضافہ ہو رہا ہے۔
صحت کے شعبے کے لیے 93 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ صحت کی سہولیات کی تعداد 1947 میں 9 تھی جو 2026 میں 1,635 تک پہنچ گئی ہے، اور اب ہر ماہ صحت کی 2 نئی سہولیات کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔
ایکوا کلچر کے شعبے میں ماہی گیری (فشریز) کے لیے 1.4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے تحت جھینگے کی فارمنگ، مچھلی کی پروسیسنگ کی فیکٹری اور مقامی ماہی گیروں کی استعداد کار بڑھانے کے منصوبے شامل ہیں۔
عوامی جرگوں کے ذریعے بلوچستان کی سماجی مسائل کا حل
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بلوچستان میں عوامی رابطوں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے جاری کوششوں کے تحت صوبے بھر میں گرینڈ جرگوں کا انعقاد ایک معمول کا حصہ بن چکا ہے جس کے ذریعے مقامی سطح پر تنازعات کے حل اور عوامی مشکلات کے ازالے میں مدد لی جا رہی ہے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اب تک صوبے کے مختلف اضلاع میں 703 کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا جا چکا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ ہر ضلع میں ماہانہ کم از کم ایک کھلی کچہری ضرور منعقد ہو تاکہ عوام کو براہ راست اپنی شکایات پہنچانے کا موقع مل سکے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کھلی کچہریوں اور عوامی رابطوں میں اٹھائے گئے مسائل کے حل کی شرح کافی حوصلہ افزا ہے جس کے تحت 51 فیصد مسائل مکمل طور پر حل کر لیے گئے ہیں جبکہ 26 فیصد مسائل پر جزوی پیشرفت ہوئی ہے اور 23 فیصد مسائل تاحال حل طلب ہیں۔
عوامی رابطوں کی ان سرگرمیوں کی رفتار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سال 2025 کے دوران مجموعی طور پر 54 ہزار مصروفیات ریکارڈ کی گئیں جو کہ اوسطاً 147 مصروفیات یومیہ بنتی ہیں جبکہ سال 2026 میں 26 جولائی تک 30 ہزار مصروفیات کے ذریعے عوام سے رابطہ قائم رکھا گیا ہے جو کہ روزانہ کی بنیاد پر 144 مصروفیات کے مساوی ہے۔
گڈ گورننس پاکستان کی سیکیورٹی اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی اور ترقی کے لیے گڈ گورننس ناگزیر ہے اور اگر ملکی مسائل حل نہیں ہو رہے تو اس کا مطلب ہے کہ گڈ گورننس کے لیے کچھ کرنا پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں سمیت سب سیاسی جماعتوں کی خواہش ہے کہ مسائل حل ہوں، تاہم اچھی حکمرانی کے بغیر یہ معاملات حل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر اچھی حکمرانی کے لیے انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے تو وہ ہونی چاہیے۔ اچھی حکمرانی پاکستانی عوام کا حق ہے، انہیں اس کی ضرورت ہے۔
آبادی اور نئے صوبے
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 1972 میں پاکستان کی آبادی 7 سے 8 کروڑ تھی جو آج 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، یعنی آبادی 4 گنا بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کا فیصلہ ریاست نے نہیں بلکہ عوام نے کرنا ہے۔
پریس کانفرنس میں وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے پاکستان کے نظام سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے، انہوں نے ذاتی حیثیت میں بیان دیا لہٰذا اس پر بات نہیں کریں گے۔
وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے، ہم اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرتے ،ڈی جی آئی ایس پی آر pic.twitter.com/rervdHqsbX
— WE News (@WENewsPk) July 31, 2026
نیشنل ایکشن پلان پر سب جماعتوں کا اتفاق
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں، اور 14 نکات پر مشتمل یہ پلان گڈ گورننس کی بہترین مثال ہے۔
نظرثانی شدہ نیشنل ایکشن پلان 2021 کے 12 اہم نکات پیش کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان میں شامل ہیں
ان 14 نکات میں عسکریت پسندی کے خلاف عدم برداشت — کسی بھی عسکریت پسند، مسلح یا شناخت شدہ مجرمانہ گروہ کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا، مواصلاتی و سائبر نیٹ ورکس کے ذریعے دہشتگردی کے پھیلاؤ کو روکنا۔
مذہبی و فرقہ وارانہ تعصب اور پرتشدد کارروائیوں کے خلاف مؤثر اقدامات، دہشتگردوں کی مالی معاونت کا خاتمہ اور کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی، منشیات، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں، اسلحہ اور انسانی سمگلنگ جیسی غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام شامل ہیں۔
اس کے علاوہ انسدادِ دہشتگردی مقدمات کی عدالتوں میں پیروی تاکہ وہ منطقی انجام تک پہنچیں، انسدادِ دہشتگردی محکموں کی استعداد کار میں اضافہ، انسدادِ پرتشدد انتہا پسندی کی پالیسی کی تشکیل، ادارہ جاتی شکل اور نفاذ بھی شامل ہے۔
اس کے علاوہ دینی مدارس کی ریگولیشن اور رجسٹریشن، بلوچستان میں مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانا، خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار، بلدیاتی انتخابات اور زمینی اصلاحات، فوجداری نظامِ انصاف میں اصلاحات بھی شامل ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ’ہارڈ اسٹیٹ‘ کی جو بات کی اس کا مطلب ہے کہ ایسی ریاست جس میں تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق ہوں، اور ریاست ہے تو سیاست ہے۔
ہمیں ریاست کو مضبوط بنانا ہوگا۔ ریاست کو مضبوط بنانے کا مطلب یہ ہے کہ ریاست آئین اور قانون کے مطابق چلائی جائے، نہ کہ کسی ایک فرد کی خواہشات اور مرضی کے مطابق۔
اس کے نتیجے میں ایک ضرورت پیدا ہوتی ہے، ایک تقاضا سامنے آتا ہے اور اس تقاضے کو پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر ہم رسد اور طلب کا توازن دیکھیں، تو آج اچھی حکمرانی اور مؤثر انتظامیہ کی بہت زیادہ ضرورت اور طلب موجود ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کیا آپ موجودہ طرزِ حکمرانی سے مطمئن ہیں؟ نہیں ہیں، تو پھر یہ ضرورت صرف میری یا آپ کی نہیں، بلکہ پاکستان کے تمام عوام کی مشترکہ ضرورت ہے۔
اگر کسی نے کسی بلند منصب پر بیٹھ کر بھی یہی بات کہی ہے، تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ان کا ذاتی مشاہدہ اور رائے ہے کہ ملک کو بہتر حکمرانی اور مؤثر انتظامیہ کی ضرورت ہے۔
کشمیر پاکستان کا ’لاڈلہ‘
کشمیر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کشمیریوں کا رشتہ عشروں پرانے اصولوں پر استوار ہے۔ دو قومی نظریے کے بعد عالمی قوانین کشمیریوں کو یہ حق دیتے ہیں کہ وہ استصوابِ رائے کے ذریعے فیصلہ کریں کہ انہیں بھارت کے ساتھ رہنا ہے یا پاکستان کے ساتھ، اور کشمیری یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ صرف پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول اس کے باوجود بھارت کشمیریوں کے دلوں سے پاکستان کی محبت کم نہیں کر سکا۔
بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں سخت فوجی نگرانی، آئینی تبدیلیوں اور مسلسل دباؤ کے باوجود کشمیریوں کے جذبات کو تبدیل نہیں کیا جا سکا۔ سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے: مسئلہ کشمیر کا حل طاقت، الزامات اور بیانیہ سازی میں ہے یا کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت میں؟ڈی جی آئی ایس پی آر pic.twitter.com/OeQO0pBsbk
— WE News (@WENewsPk) July 31, 2026
انہوں نے کہا کہ بھارتی انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کا اصل چہرہ سب سے زیادہ کشمیری عوام نے دیکھا ہے۔ کشمیر میں ظالمانہ نظام ہے، اور جو لوگ اپنے آباؤ اجداد کی قبریں چھوڑ کر پاکستان آئے وہ ایسے ہی نہیں آئے۔
کشمیریوں کا فیصلہ پکا ہے، اسی لیے بھارت کو کچھ نہ کچھ کرنا پڑتا ہے کیونکہ وہ چانکیا کوتیلیا کی اولاد ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد اُن عظیم قربانیوں سے عبارت ہے جو ڈوگرہ راج کے خلاف دی گئیں۔ پونچھ، راولاکوٹ اور تلپترا کے محاذ آج بھی اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ پاکستان اور کشمیر کا رشتہ خون، تاریخ اور وفا سے جڑا ہوا ہے۔ کیپٹن محمد سرور شہید سمیت بے شمار جانبازوں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کی تحریک آئین اور قانون کے دائرے میں ہو تو ریاست اس کا احترام کرتی ہے، لیکن طاقت کے زور پر فیصلے مسلط کرنے کی کوشش ناقابلِ قبول ہے۔ آزاد کشمیر میں مخصوص نشستوں کے معاملے نے بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ ریاست اب تک تحمل، دانش مندی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
انہوں نے دہرایا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا اور ریاست کے سارے بچے عزیز ہیں لیکن سب سے لاڈلہ بچہ کشمیر ہے۔ کشمیری مہاجرین کی نمائندگی سے متعلق سوال پر کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر سے آنے والے مہاجرین کی نمائندگی نہیں ہونی چاہیے۔
کشمیر صرف ایک جغرافیائی تنازع نہیں، بلکہ تاریخ، شناخت اور حقِ خودارادیت کا مسئلہ ہے۔ پاکستان کا مؤقف یہی رہا ہے کہ کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے۔ یہی مؤقف دہائیوں سے پاکستان اور کشمیر کے تعلق کی بنیاد رہا ہے۔ ڈی جی… pic.twitter.com/JHqyi28vwC
— WE News (@WENewsPk) July 31, 2026
کالعدم عوامی ایکشن کیمٹی کےآزاد کشمیر میں احتجاج سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایپس پی آر نے کہا کہ کشمیر میں عوامی حقوق کے نام پر چلنے والی تحریک کا ایجنڈا کچھ اور سامنے آیا، وہ مقبوضہ کشمیر سے اپنا سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آنے والے مہاجرین کی نمائندگی ختم کرنا چاہتے ہیں۔
ان کا ایجنڈا عوامی حقوق سے نکل کر 12 سیٹیں ختم کرانے تک آ گیا، کشمیریوں اور پاکستان کا رشتہ کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پونچھ اور راولاکوٹ کے بہادر لوگوں کی کہانیاں سنا کرتے تھے۔
شہدا سے متعلق بیان پر ردعمل
مولانا فضل الرحمان کے شہدا سے متعلق بیان پر سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ شہدا پاک فوج کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہیں، اور اس حوالے سے جو بات کی گئی وہ ناقابلِ فہم ہے اور اس سے بھارت خوش ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے وردی پہن کر اپنا آج کل قوم کے مستقبل کے لیے وقف کر دیا ہے اور قوم کو مزید کنفیوز نہیں کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو ریاست کی اہمیت کا اندازہ سب سے زیادہ ہے۔
بھارت اور افغانستان، مشترکہ ایجنڈا دہشتگردی
انہوں نے کہا کہ بھارت اور افغانستان کا مشترکہ ایجنڈا دہشتگردی ہے۔ طالبان بھارت کی گود میں بیٹھے ہیں اور وہ جو کہتا ہے وہی کرتے ہیں، طالبان آر ایس ایس کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان اور بھارت دونوں کا صدیوں سے ڈی این اے اچھی طرح جانتے ہیں۔ فیلڈ مارشل چند روز قبل اس معاملے پر واضح انداز میں بات کر چکے ہیں۔
افغانستان کا دہشتگردی میں کردار
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس بریفنگ کے دوران افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کیا انسانی حقوق کے دعویدار دل پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ افغانستان میں اظہارِ رائے کی آزادی موجود ہے؟
انہوں نے ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب افغان طالبان نے پاکستان کا ٹینک پکڑنے کا دعویٰ کیا تو بعد میں وہ انہی کا اپنا ٹینک نکلا، اسی طرح ایک پائلٹ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی جھوٹ ثابت ہوا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہمارا افغانستان کے عوام سے کوئی اختلاف نہیں، مسئلہ صرف دہشتگردوں کو پناہ دینے والی افغان طالبان حکومت سے ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہم صرف مصدقہ انٹیلیجنس کی بنیاد پر کارروائی کریں گے اور اس معاملے میں ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم تمام دہشتگردوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ وہ ہتھیار پھینک دیں یا پھر ہم انہیں ختم کر دیں گے۔
بلوچستان کی صورتحال کے بارے میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ وہاں پولیس، آرمی اور ایف سی مل کر شانہ بشانہ دہشت گردی کے خلاف لڑ رہے ہیں، اور یہ تاثر غلط ہے کہ یہ ادارے آپس میں برسرِ پیکار ہیں۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان ایک عظیم ریاست ہے جو اللہ تعالیٰ کا تحفہ ہے اور یہ قائم رہنے کے لیے بنا ہے۔














