وساکھی میلہ اور خالصہ جنم دن کی تقریبات کے سلسلے میں بھارت کے مختلف شہروں امرتسر، ہریانہ اور دہلی سمیت دیگر علاقوں سے 2840 سکھ یاتری واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، جہاں ان کے استقبال اور سہولت کے لیے جامع انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کا قتل، بھارت کی ریاستی دہشتگردی کے شواہد بے نقاب
حکام کے مطابق ایویکیو ٹرسٹ پراپرٹی بارڈ کی جانب سے واہگہ بارڈر پر خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ چیئرمین قمر الزمان، ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز ناصر مشتاق اور پاکستان سکجھ گردوارہ پربندھک کمیٹی کے سربراہ سردار رمیش سنگھ اروڑہ یاتریوں کا استقبال کریں گے۔ یاتریوں کی مہمان نوازی کے لیے لنگر، ٹرانسپورٹ اور طبی سہولیات کی فراہمی کے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ سیکیورٹی کے لیے پنجاب پولیس اور رینجرز تعینات ہیں۔
ڈپٹی ڈائریکٹر وفاقی تحقیقاتی ادارہ (امیگریشن) اویس شفیق کے مطابق اب تک تقریباً ایک ہزار یاتریوں کی امیگریشن مکمل ہو چکی ہے، جبکہ مجموعی طور پر 2800 سے زائد یاتریوں کو ویزے جاری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ واہگہ بارڈر پر 20 کاؤنٹرز فعال کیے گئے ہیں، جہاں پہلے صرف تین کاؤنٹرز کام کرتے تھے، اور تمام یاتریوں کی امیگریشن مختصر وقت میں مکمل کر لی جائے گی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز ناصر مشتاق نے یاتریوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ایسے انتظامات کیے گئے ہیں کہ کسی کو مشکلات کا سامنا نہ ہو، اور انہوں نے 327ویں وساکھی میلے کی مبارکباد بھی پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بابا گرو نانک کی مقدس دھرتی ہے اور یہاں آنے والے یاتریوں کو بھرپور سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
سکھ رہنما سردار چنٹوگ سنگھ نے پاکستان حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سرحدی کشیدگی کے باوجود یاتریوں کو اجازت دینا قابل تحسین اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس بھی ہزاروں درخواست گزاروں کو ویزے جاری کیے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا میں مقیم سکھ رہنما گرپتونت سنگھ کے قتل کی سازش، بھارتی شہری نکھل گپتا نے اعتراف کرلیا
اس موقع پر سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ پاکستان سکھوں کا دوسرا نہیں بلکہ پہلا گھر ہے اور حکومت ہمیشہ مذہبی آزادی اور امن کے فروغ کے لیے اقدامات کرتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی کے باوجود 2800 سے زائد یاتریوں کو ویزے جاری کرنا ایک بڑا مثبت قدم ہے اور پاکستان کے دروازے سکھ برادری کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں۔














