کیا دنیا سے ڈالر کی اجارہ داری ختم ہونے جارہی ہے، پاکستان کن متبادل کرنسیوں پر غور کررہا ہے؟

ہفتہ 11 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حالیہ امریکا ایران کشیدگی میں چینی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں ابھرتی نظر آرہی ہے عالمی تناظر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ڈالر کی اجارہ داری ختم ہونے کے قریب ہے، تو سوال یہ ہے کہ اگر ڈالر نہیں تو پھر کون سی کرنسی اور اس حوالے سے پاکستان کیا اقدامات اٹھا رہا ہے اور اس کا پاکستانی معیشت اور کرنسی کو کیا فوائد مل سکتے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں: ڈالر کی قدر میں کمی، کیا طویل عرصہ چلے گی؟

پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی تجارت کے لیے امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے اور متبادل کرنسیوں کو اپنانے کی حکمت عملی ایک اہم معاشی موڑ ثابت ہوسکتی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کو کم کرنا، روپے کی قدر کو استحکام دینا اور عالمی جیو پولیٹیکل منظرنامے میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہے۔

پاکستان نہ صرف چین کے ساتھ یوآن میں تجارت کو فروغ دے رہا ہے بلکہ روس اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ بارٹر ٹریڈ اور مقامی کرنسیوں میں لین دین کے نئے میکانزم پر بھی سنجیدگی سے غور کررہا ہے۔ یہ کثیر جہتی حکمت عملی جہاں ایک طرف ملکی معیشت کو ڈالر کے اتار چڑھاؤ سے تحفظ فراہم کر سکتی ہے، وہاں دوسری طرف اسے تجارتی خسارے کے توازن اور عالمی مالیاتی نظام میں موجود پیچیدگیوں جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا بھی ہے۔

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای سی اے پی) کے چیئرمین ملک بوستان کا کہنا ہے کہ جب 9/11  ہوا تھا اس وقت بھی ڈالر بحران کی زد میں آیا تھا اور پاکستان نے اپنے کچھ ذخائر دیگر کرنسیوں میں منتقل کیے تھے اور آج بھی وہی صورتحال ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چینی کرنسی میں بانڈ کا اجرا: کیا پاکستان ڈالر پر انحصار کم کر سکے گا؟

ملک بوستان کے مطابق ڈالر کی اجارہ داری ختم ہونے والی ہے اور حالیہ کشیدگی نے امریکا کا خوف ختم کردیا ہے، مشرق وسطیٰ میں بہت تبدیلی آنے والی ہے اور معیشت ساری وسطی ایشیاء میں منتقل ہونی ہے ان کا کہنا ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں یورو اپنا وہ مقام حاصل نہیں کر پایا نہ ہی، اس میں اتنی تجارت ہوتی ہے، سب سے زیادہ تجارت اس وقت چین کررہا ہے اور یوآن کو حالیہ کشیدگی میں فائدہ یہ ملا کہ ابنائے ہرمز سے نکلنے والے جہاز اسی کرنسی میں ڈیل کررہے ہیں۔

ملک بوستان کے مطابق اس وقت مستقبل یوآن کا نظر آتا ہے، جہاں دنیا بھر میں 95 فیصد ایل سیز ڈالر میں ہوتی تھیں اب کم ہو کر 57 فیصد پر آگئی ہیں، اب اگر ہر ملک اپنی کرنسی یا یوآن میں تجارت شروع کردے تو یوآن میں ایل سیز بنیں گی جس سے ڈالر کی ایل سیز 50 فیصد سے بھی نیچے آجائے گی اور یوں ڈالر بہت نیچے آجائے گا۔

سیکرٹری ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ پاکستان ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسیوں میں تجارت پر عمل درآمد شروع کر چکا ہے ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی امپورٹ 60 بلین ڈالر کی ہے اور ایکسپورٹ 25 سے 30 بلین ڈالر کی ہے یہ آدھا فرق ہے، پاکستان کی امپورٹ 80 فیصد ڈالر میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شنگھائی تعاون تنظیم کے تیانجن اجلاس کی غیر معمولی اہمیت، ڈالر کا متبادل لانا کیا آسان عمل ہے؟

ظفر پراچہ کے مطابق پاکستان چینی کرنسی یوآن، روسی کرنسی روبل اور سعودی کرنسی ریال میں تجارت کرنے کی تیاری کر رہا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اس وقت پوری دنیا ڈی ڈالرزیشن کی جانب جارہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کوشش یہ ہے کہ ہم جس ملک سے تجارت کریں اسی ملک کی کرنسی میں کریں، اس کے لیے ہمیں اپنا بنیادی انفراسٹرکچر مضبوط کرنا ہوگا اور ان کرنسیوں میں اپنے زرمبادلہ رکھنے ہوں گے، جیسے کہ حالیہ کشیدگی میں ہم نے دیکھا کہ ایران نے یوآن میں تجارت کرنے کا کہا تھا۔

ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ روبل اور یوآن مستحکم کرنسیاں نہیں ہیں ان میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آتا ہے لیکن پھر بھی اگر ہم ان کرنسیوں میں تجارت شروع کردیں تو مستقبل میں ڈالر کے مقابلے میں 5 سے 10 فیصد تک ہماری کرنسی ری ویلیو ہوسکتی ہے اور ہماری امپورٹ کاسٹ میں 2 سے 4 فیصد کمی آسکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حالیہ ایران امریکا کشیدگی کے بعد چینی یوآن ایک مضبوط کرنسی کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے کیوں کہ چین اس وقت دنیا کا سب سے بڑا ایکسپورٹر ہے، ہم ایک دم دوسری کرنسیوں کی جانب نہیں جا سکتے یہ کام تحمل کا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: برکس میں پاکستان کی شمولیت اور برکس کی اپنی کرنسی آنے کی خبریں

ماہر معیشت جنید خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کا دوسری کرنسیوں کی طرف سوچنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پوری دنیا میں ڈی ڈالرزیشن ہورہی ہے جبکہ امریکا کا قرضہ اس کی جی ڈی پی سے بھی تجاوز کرچکا ہے، ڈالر مسلسل کمزور ہورہا ہے، برکس ممالک ڈالر کی بجائے سونے کی خریداری کررہے ہیں، اس سے قبل سرمایہ کاری ڈالر میں ہوا کرتی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہے، اب جب ڈالر کا مستقبل نہیں ہے تو پاکستان کو سونے یا یوآن پر فوکس کرنا ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟