افغانستان میں داعش خراسان کا پھیلاؤ، ملک میں ایک بار پھر دہشتگردی کے لیے سازگار ماحول بن گیا

جمعہ 10 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان میں طالبان حکومت کے دوران داعش خراسان کا پھیلاؤ تشویشناک شکل اختیار کرگیا ہے اور ملک میں ایک بار پھر دہشتگردی کے لیے سازگار ماحول بنتا جا رہا ہے۔

10 اپریل 2026 کو صوبہ ہرات کے ضلع انجیل میں ایک مزار کے قریب شیعہ اجتماع پر مسلح افراد نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد جاں بحق جبکہ 30 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔

اس حملے نے واضح کیاکہ طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان ایک ایسا خطہ بن چکا ہے جہاں دہشتگرد تنظیمیں آزادانہ طور پر کام کررہی ہیں اور اقلیتوں کو بغیر کسی خوف کے نشانہ بنایا جارہا ہے۔

ہرات حملہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ داعش خراسان طالبان حکومت میں بھی آزادانہ سرگرم ہے اور شہریوں کو بلاخوف نشانہ بنا رہی ہے۔ یہ کوئی ایک واقعہ نہیں بلکہ اس تنظیم کو مسلسل دستیاب آپریشنل مواقع کی عکاسی کرتا ہے۔

گزشتہ برسوں کے دوران بھی یہی رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جہاں بڑے حملے اس تنظیم کی مسلسل صلاحیت اور سرگرمیوں کو ظاہر کرتے ہیں۔

19 جنوری 2026 کو کابل میں ایک چینی ریسٹورنٹ پر خودکش حملے میں 7 سے زیادہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جس میں غیر ملکی شہریوں کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔

12 دسمبر 2022 کو کابل کے ایک ہوٹل پر حملہ کیا گیا جہاں چینی شہری مقیم تھے، حملہ آوروں نے دھماکا خیز مواد اور اسلحہ استعمال کیا۔

5 ستمبر 2022 کو کابل میں روسی سفارتخانے پر خودکش حملے میں سفارتی عملہ اور شہری جاں بحق ہوئے، جو ہائی سیکیورٹی زون تک رسائی کو ظاہر کرتا ہے۔

8 اکتوبر اکتوبر 2021 کو قندوز اور 15 اکتوبر 2021 کو قندھار میں شیعہ مساجد پر بڑے حملے کیے گئے، جن میں درجنوں افراد جاں بحق ہوئے۔

داعش خراسان کے قریباً 2 ہزار سے 4 ہزار جنگجو افغانستان کے مختلف علاقوں بشمول کابل، ہرات، جلال آباد اور شمالی صوبوں میں موجود ہیں۔

مسلسل حملے اور سرگرم نیٹ ورکس اس بات کا ثبوت ہیں کہ تنظیم کو محدود نہیں کیا گیا بلکہ اسے آزادی اور سہولت میسر ہے۔

طالبان کی جانب سے داعش خراسان کے خاتمے کے دعوے حملوں کی تعداد، شدت اور تسلسل کے سامنے کمزور پڑتے دکھائی دیتے ہیں۔

اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی رپورٹس کے مطابق افغانستان میں 20 سے زیادہ دہشتگرد گروہ موجود ہیں، جن میں 10 ہزار سے 13 ہزار جنگجو شامل ہیں، جو طالبان دور میں دہشتگردی کے وسیع نیٹ ورک کو ظاہر کرتا ہے۔

مجموعی طور پر صورتحال واضح ہے کہ طالبان حکومت کے تحت افغانستان ایک ایسا خطہ بن چکا ہے جہاں دہشتگرد تنظیمیں خصوصاً داعش خراسان اور اس کے اتحادی نہ صرف فعال ہیں بلکہ اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ بھی کررہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کوئٹہ: بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان کے لیے ایئر ایمبولینس سمیت 11 بڑے صحت منصوبوں کا افتتاح کردیا

فاطمہ ثنا کی کیپٹن اننگز: پاکستان کا تیسرے ٹی 20 میں زمبابوے کو 224 رنز کا ہدف، ایک اور کلین سوئپ کی تیاری

جاسوسی کا خوف: صدر ٹرمپ کے عملے نے چین سے واپسی پر تمام سرکاری تحائف اور فون وہیں پھینک دیے

چیک ریپبلک: تیرہویں صدی کی مقدسہ کی چوری شدہ کھوپڑی برآمد، ملزم گرفتار

ایران کے ساتھ جنگ بندی پاکستان کے کہنے پر کی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

کوکین کوئین کے خلاف اگر منشیات اور اسلحہ رکھنے کا جرم ثابت ہوجائے تو مجموعی طور پر کتنی سزا ہوسکتی ہے؟

امریکا چین مذاکرات میں تجارت پر بات، اور روبیو کے نام سے جڑا دلچسپ معاملہ، آبنائے ہرمز بھی زیرِ بحث

پاکستان کا پہلا پانڈا بانڈ اجرا، وزیر خزانہ نے چین کے ساتھ مالی تعاون کو تاریخی سنگ میل قرار دے دیا

کالم / تجزیہ

جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں

کبھی آپ نے ‘ناکامی’ کی تقریب منائی ہے؟

زخمی کھلاڑی کی شاندار اننگز