افغانستان میں طالبان حکومت کے دوران داعش خراسان کا پھیلاؤ تشویشناک شکل اختیار کرگیا ہے اور ملک میں ایک بار پھر دہشتگردی کے لیے سازگار ماحول بنتا جا رہا ہے۔
10 اپریل 2026 کو صوبہ ہرات کے ضلع انجیل میں ایک مزار کے قریب شیعہ اجتماع پر مسلح افراد نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد جاں بحق جبکہ 30 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔
اس حملے نے واضح کیاکہ طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان ایک ایسا خطہ بن چکا ہے جہاں دہشتگرد تنظیمیں آزادانہ طور پر کام کررہی ہیں اور اقلیتوں کو بغیر کسی خوف کے نشانہ بنایا جارہا ہے۔
ہرات حملہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ داعش خراسان طالبان حکومت میں بھی آزادانہ سرگرم ہے اور شہریوں کو بلاخوف نشانہ بنا رہی ہے۔ یہ کوئی ایک واقعہ نہیں بلکہ اس تنظیم کو مسلسل دستیاب آپریشنل مواقع کی عکاسی کرتا ہے۔
گزشتہ برسوں کے دوران بھی یہی رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جہاں بڑے حملے اس تنظیم کی مسلسل صلاحیت اور سرگرمیوں کو ظاہر کرتے ہیں۔
19 جنوری 2026 کو کابل میں ایک چینی ریسٹورنٹ پر خودکش حملے میں 7 سے زیادہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جس میں غیر ملکی شہریوں کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔
12 دسمبر 2022 کو کابل کے ایک ہوٹل پر حملہ کیا گیا جہاں چینی شہری مقیم تھے، حملہ آوروں نے دھماکا خیز مواد اور اسلحہ استعمال کیا۔
5 ستمبر 2022 کو کابل میں روسی سفارتخانے پر خودکش حملے میں سفارتی عملہ اور شہری جاں بحق ہوئے، جو ہائی سیکیورٹی زون تک رسائی کو ظاہر کرتا ہے۔
8 اکتوبر اکتوبر 2021 کو قندوز اور 15 اکتوبر 2021 کو قندھار میں شیعہ مساجد پر بڑے حملے کیے گئے، جن میں درجنوں افراد جاں بحق ہوئے۔
داعش خراسان کے قریباً 2 ہزار سے 4 ہزار جنگجو افغانستان کے مختلف علاقوں بشمول کابل، ہرات، جلال آباد اور شمالی صوبوں میں موجود ہیں۔
مسلسل حملے اور سرگرم نیٹ ورکس اس بات کا ثبوت ہیں کہ تنظیم کو محدود نہیں کیا گیا بلکہ اسے آزادی اور سہولت میسر ہے۔
طالبان کی جانب سے داعش خراسان کے خاتمے کے دعوے حملوں کی تعداد، شدت اور تسلسل کے سامنے کمزور پڑتے دکھائی دیتے ہیں۔
اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی رپورٹس کے مطابق افغانستان میں 20 سے زیادہ دہشتگرد گروہ موجود ہیں، جن میں 10 ہزار سے 13 ہزار جنگجو شامل ہیں، جو طالبان دور میں دہشتگردی کے وسیع نیٹ ورک کو ظاہر کرتا ہے۔
مجموعی طور پر صورتحال واضح ہے کہ طالبان حکومت کے تحت افغانستان ایک ایسا خطہ بن چکا ہے جہاں دہشتگرد تنظیمیں خصوصاً داعش خراسان اور اس کے اتحادی نہ صرف فعال ہیں بلکہ اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ بھی کررہے ہیں۔













