امریکا ایران: 4 دہائیوں پر محیط دشمنی سے مذاکرات کی میز تک

اتوار 12 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا اور ایران 1979 کے اسلامی انقلاب اور تہران میں امریکی سفارت خانے کے یرغمالی بحران کے بعد سے حلفیہ دشمن چلے آ رہے ہیں۔

ہفتہ کے روز یہ دیرینہ حریف اسلام آباد میں مذاکرات کر رہے تھے تاکہ مشرق وسطیٰ میں ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کا خاتمہ کیا جا سکے، جبکہ گہری باہمی بداعتمادی کے باوجود ایک نازک جنگ بندی برقرار ہے۔

1979: یرغمالی بحران

4  نومبر 1979 کو طلبہ کارکنوں نے تہران میں امریکی سفارت خانے کے عملے کو یرغمال بنا لیا۔ طلبہ امریکا میں زیرِ علاج ایران کے معزول بادشاہ محمد رضا پہلوی کی حوالگی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

یہ واقعہ ایران میں اسلامی جمہوریہ کے قیام کے 7 ماہ بعد پیش آیا۔ مجموعی طور پر 52 افراد کو 444 دن تک یرغمال رکھا گیا۔

اپریل 1980 میں واشنگٹن نے ایران سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے اور تجارت و سفر پر پابندیاں عائد کر دیں۔ 9 ماہ بعد آخری یرغمالیوں کو رہا کر دیا گیا۔

2002: شر کا محور

30 اپریل 1995 کو امریکی صدر بل کلنٹن نے ایران کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری پر مکمل پابندی کا اعلان کیا اور اس پر دہشتگردی کی حمایت کا الزام عائد کیا۔

امریکا نے الزام لگایا کہ ایران حزب اللہ، حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد جیسے علاقائی گروہوں کی حمایت کرتا ہے۔ ایران کے تیل و گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

29 جنوری 2002 کو امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے ایران، عراق اور شمالی کوریا کو دہشتگردی کی حمایت کرنے والا ’شر کا محور‘ قرار دیا۔

اپریل 2019 میں امریکا نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کو، جو اس کی فوج کا نظریاتی بازو ہے، ’دہشتگرد تنظیم‘ قرار دے دیا۔

2018: امریکا کا جوہری معاہدے سے انخلا

2000 کی دہائی کے اوائل میں ایران میں خفیہ جوہری تنصیبات کے انکشافات نے خدشات کو جنم دیا کہ تہران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جس کی ایران نے تردید کی۔

2011  میں اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے آئی اے ای اے کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران نے کم از کم 2003 تک ایسے اقدامات کیے جو جوہری دھماکہ خیز آلہ تیار کرنے سے متعلق تھے۔

2005  میں ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے یورینیم افزودگی پر عائد پابندی ختم کر دی۔ تہران کا مؤقف تھا کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ایک دہائی بعد چین، فرانس، جرمنی، روس، برطانیہ اور امریکا سمیت 6 عالمی طاقتوں کے ساتھ ویانا میں ایک معاہدہ طے پایا، جس کے تحت ایران کو اقتصادی پابندیوں میں نرمی دی گئی، بدلے میں اس نے ایٹم بم نہ بنانے کی یقین دہانی کرائی۔ اس معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ نے بھی کی۔

تاہم 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی اور ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں۔ ایک سال بعد ایران نے بھی اپنی کچھ ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا۔ سفارتی کوششیں ناکام رہیں اور 28 ستمبر 2025 کو اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی گئیں، جبکہ یہ معاہدہ اکتوبر میں ختم ہو گیا۔

2020 :اعلیٰ جنرل کا قتل

3 جنوری 2020 کو امریکا نے بغداد میں ایران کے اعلیٰ جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کر دیا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق سلیمانی امریکا کے سفارت کاروں اور فوجیوں پر ’فوری‘ حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ ایران نے اس کے جواب میں عراق میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے کیے۔

2025: جوہری تنصیبات پر حملے

اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران 21 جون 2025 کو امریکا نے ایران کی تین بڑی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ یہ تنصیبات مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں، تاہم نقصان کی اصل نوعیت واضح نہیں ہو سکی۔

فروری 2026: خامنہ ای ہلاک

دسمبر 2025 کے آخر میں شروع ہونے والی بڑے پیمانے کی احتجاجی تحریک کے خلاف ایران کی کارروائی پر ردعمل دیتے ہوئے ٹرمپ نے ایران پر حملے کی دھمکی دی، تاہم بعد میں توجہ دوبارہ ایران کے جوہری پروگرام پر مرکوز ہو گئی۔

انہوں نے خطے میں امریکی بحری بیڑا بھیج دیا، جبکہ فروری 2026 کے اوائل میں عمان کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے۔

28  فروری کو امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہلاک کر دیا اور ایران کی فوجی و جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

ایران نے اس کا بدلہ لینے کا اعلان کیا اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے کیے، جبکہ آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر دیا، جہاں سے دنیا کی ایک پانچویں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔

اپریل 2026: نازک جنگ بندی کے دوران اعلیٰ سطح مذاکرات

اپریل کے آغاز میں امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی ایک نازک جنگ بندی طے پائی، ایک ماہ سے زائد جنگ کے بعد ہزاروں افراد ہلاک اور بے گھر ہو چکے تھے جبکہ عالمی معیشت بھی شدید متاثر ہوئی۔

دونوں ممالک کے اعلیٰ وفود ہفتے کے روز اسلام آباد میں مذاکرات کر رہے تھے، جہاں پاکستان نے جنگ بندی میں ثالثی کا کردار ادا کیا۔

ہفتے کو ہونے والے مذاکرات کے بعد امریکی نائب صدر نے کسی معاہدے تک نہ پہنچنے کے اعلان کے ساتھ اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے کہ آئندہ بات چیت کا امکان موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مشرق وسطیٰ جنگ عالمی معیشت کے لیے خطرہ، شرحِ نمو اور مہنگائی پر شدید اثرات متوقع، سربراہ ورلڈ ورلڈ بینک

جنوبی ایشیائی افراد میں امراض کا تناسب زیادہ کیوں ہے؟ اب تک کی سب سے بڑی تحقیق کا آغاز

اسلام آباد میں اہم ٹریفک ایڈوائزری: مختلف شاہراہوں پر ڈائیورژنز، ریڈ زون مکمل بند

مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس کی آزادی اظہار رائے پر پابندی کیوں؟ عدالت میں مقدمہ دائر

نیتن یاہو ایران کیخلاف جنگ کے مقاصد حاصل نہ ہونے پر دباؤ کا شکار ہے، اسرائیلی اپوزیشن رہنما

ویڈیو

لائیواسلام آباد مذاکرات: بغیر کسی معاہدے کے واپس جا رہے ہیں، تاہم بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس

امریکا اور ایران ایک میز پر، آگے کیا ہونے جا رہا ہے؟

عرب میڈیا سے تعلق رکھنے والی صحافی پاکستانیوں سے متاثر، امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی اہم قرار دیدی

کالم / تجزیہ

معرکۂ امن، اسلام آباد کی دہلیز پر بدلتی دنیا

وہیل چیئر پر دنیا کی سیاحت کرنے والی مہم جُو خواتین

اسلام آباد میں آخری اوور