مشرق وسطیٰ جنگ عالمی معیشت کے لیے خطرہ، شرحِ نمو اور مہنگائی پر شدید اثرات متوقع، سربراہ ورلڈ ورلڈ بینک

اتوار 12 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ عالمی معیشت پر ’کاسکیڈنگ اثرات‘ ڈالے گی، جس سے نہ صرف شرحِ نمو متاثر ہوگی بلکہ مہنگائی اور توانائی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، چاہے امریکا کی جانب سے اعلان کردہ عارضی جنگ بندی برقرار ہی کیوں نہ رہے۔

یہ بھی پڑھیں:غزہ جنگ سے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں، صدر عالمی بینک اجے بنگا

میڈیا رپورٹ کے مطابق ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا نے امریکی خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اگر خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تو عالمی معیشت کو کہیں زیادہ سنگین نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں عالمی اقتصادی ترقی میں 0.3 سے 0.4 فیصد تک کمی آسکتی ہے، جبکہ جنگ کے طویل ہونے کی صورت میں یہ کمی ایک فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جنگ کے باعث عالمی سطح پر مہنگائی میں 200 سے 300 بیسز پوائنٹس تک اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ طویل تنازع کی صورت میں یہ دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔ ورلڈ بینک کے تازہ تخمینوں کے مطابق ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک کی شرحِ نمو 2026 میں 3.65 فیصد رہنے کا امکان ہے، جو پہلے 4 فیصد تھی، تاہم بدترین صورتحال میں یہ 2.6 فیصد تک گر سکتی ہے۔

اجے بنگا کے مطابق توانائی کے بحران اور رسد کی رکاوٹوں کے باعث تیل کی قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے گیس، کھاد، ہیلیئم اور دیگر ضروری اشیا کی فراہمی کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ سیاحت اور فضائی سفر بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ورلڈ بینک کی سربراہی کے لیے نامزد بھارتی نژاد اجے بنگا کون ہیں؟

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ بندی ناکام ہوئی تو اس کے اثرات زیادہ دیرپا اور شدید ہوں گے، خاص طور پر توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر اس کے منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ سوال اہم ہے کہ آیا موجودہ امن کوششیں خطے میں پائیدار استحکام لا سکیں گی یا نہیں۔

ورلڈ بینک صدر نے کہا کہ ادارہ پہلے ہی کئی ترقی پذیر ممالک، خصوصاً چھوٹے جزائر، کے ساتھ ہنگامی مالی معاونت پر بات چیت کر رہا ہے تاکہ توانائی کے بحران سے نمٹا جا سکے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ غیر ضروری سبسڈی کے اجراء سے مالی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔

اجے بنگا نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک پہلے ہی بلند قرضوں اور مہنگی شرحِ سود کے دباؤ میں ہیں، جس کے باعث ان کی معاشی گنجائش محدود ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق توانائی کے متبادل ذرائع جیسے جوہری توانائی، ہائیڈرو اور جیو تھرمل پر سرمایہ کاری ناگزیر ہے، ورنہ دنیا کو زیادہ مہنگے اور روایتی ایندھن پر انحصار کرنا پڑے گا۔

انہوں نے نائیجیریا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بڑی سرمایہ کاری کے باعث توانائی کی خود کفالت میں بہتری آئی ہے، جبکہ موزمبیق سمیت دیگر ممالک میں بھی توانائی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق توانائی کے شعبے میں تنوع عالمی معیشت کے استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو جبر سے نہیں دبایا جا سکتا، اسحاق ڈار

مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں، وزیراعظم شہباز شریف

صدر آصف زرداری کا اقوامِ متحدہ سے مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے فعال کردار ادا کرنے کا مطالبہ

نماز کی پابندی نے ہمایوں سعید کی زندگی کیسے بدل دی؟ اداکار کا بڑا انکشاف

انگلش کپتان ہیری کین فٹ بال کے بہترین کھلاڑی قرار، بیلن ڈی اور اپنے نام کرلیا

ویڈیو

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

نہ چار دیواری، نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں