پاکستان میں توانائی کے شعبے کے لیے ایک بڑی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ سعودی عرب گوادر میں جدید آئل ریفائنری کے قیام کے لیے تقریباً 10 ارب ڈالر لگانے کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں سعودی تیل کمپنی آرامکو پاکستانی سرکاری کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف سے سعودی وزیر خزانہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار
میڈیا میں شائع سیف الرحمان کی رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کے لیے ابتدائی بات چیت مکمل ہو چکی ہے اور اب شراکت داری کے خد وخال طے کیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آرامکو اس میگا پراجیکٹ میں لیڈ کرے گی جبکہ پاکستان کی چار بڑی کمپنیاں، پی ایس او، او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل اور جی ایچ پی ایل مجموعی طور پر 40 سے 45 فیصد حصہ داری رکھیں گی۔

مجوزہ ریفائنری کی یومیہ پیداواری صلاحیت 4 لاکھ بیرل تک ہو سکتی ہے، جو پاکستان کی موجودہ ریفائننگ ضروریات کا بڑا حصہ پورا کرے گی۔ منصوبے کو قابلِ عمل بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے 20 سالہ ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مشترکہ دفاعی معاہدہ: پاک فوج کے لڑاکا طیارے سعودی عرب کے کنگ عبدالعزیز ایئربیس پہنچ گئے، سعودی وزارت دفاع
ذرائع کے مطابق یہ سرمایہ کاری نہ صرف گوادر کو علاقائی انرجی حب بنائے گی بلکہ سی پیک کے تحت اقتصادی سرگرمیوں کو بھی نئی رفتار دے گی۔ سعودی عرب کی جانب سے گوادر میں آئل ریفائنری کا قیام طویل عرصے سے زیر بحث تھا، اور اب اس پر عملی پیش رفت کا امکان روشن ہو گیا ہے۔














