اسرائیل کی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے ایران کے ساتھ حالیہ تنازع میں حکومتی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت جنگ کے وہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے جو خود وزیرِاعظم نے مقرر کیے تھے۔
ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ یائر گولان نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ‘نیتن یاہو دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ کے مقاصد حاصل نہیں ہوئے’۔
یہ بھی پڑھیے: ایران امریکا مذاکرات کی راہ میں اسرائیل ایک بڑا خطرہ، یورپی یونین بھی اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف بول پڑی
انہوں نے طنزیہ انداز میں مزید کہا کہ ‘جب آپ واقعی فتح حاصل کر لیتے ہیں تو ہر چند دن بعد اس کا اعلان کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی’۔
اسی طرح اپوزیشن لیڈر یائر لاپید نے بھی وزیرِاعظم کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ‘نیتن یاہو ایک بار پھر فوج کی کامیابیوں کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ان کی مکمل ناکامی کو بھلایا جا سکے’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘وزیرِاعظم اپنے مقرر کردہ کسی بھی جنگی ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے’۔














