غزہ جنگ سے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں، صدر عالمی بینک اجے بنگا

بدھ 16 اکتوبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی بینک کے صدر اجے بنگا نے کہا کہ اسرائیل اور غزہ جنگ عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے، اگر بروقت جنگ بندی نہ ہوئی تو  مسائل مزید گمبھیر ہوجائیں گے۔

صدر عالمی بنک اجے بنگا نے واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں ہونے والا جانی نقصان ناقابل برداشت ہیں، جس کا کوئی ازالہ نہیں۔ غزہ میں اب تک مالی نقصان کا تخمینہ 20ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔

مزید پڑھیں: عالمی بینک نے بلوچستان کی قابل تجدید توانائی کے استعمال کا مشورہ کیوں دیا؟

اجے بنگا نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ پھیلی تو یہ اور بھی گمبھیرمسئلہ بن جائے گا، مغربی ممالک بھی  اسی صورتحال کے پیش نظر لبنان میں جنگ بندی پر زور دے رہے ہیں۔

صدر عالمی بنک نے کہا کہ امریکا اسرائیل کو اسلحہ اور فوجی قوت فراہم کررہا ہے۔ جبکہ، عالمی بینک نے فلسطینی اتھارٹی کو 300ملین ڈالر فراہم کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کا عالمی معیشت پر نسبتاً کم اثر پڑا ہے، لیکن اس تنازعے کا ایک نمایاں وسعت دوسرے ممالک تک پھیل رہی ہے، جو عالمی نمو میں بڑے شراکت دار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی معیشت کا مستقبل کیا ہوگا؟ عالمی بینک نے رپورٹ جاری کردی

عالمی بینک کے صدر اجے بنگا نے منگل کو کہا کہ غزہ پر اسرائیلی حملوں سے جنگی نقصان اب شاید 14 سے 20بلین ڈالر کی حد میں ہے اور جنوبی لبنان پر اسرائیل کی بمباری سے ہونے والی تباہی اس میں مزید اضافہ کرے گی۔

اجے بنگا نے کہا کہ سب سے پہلے تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ناقابل یقین جانی نقصان، خواتین، بچے، دیگر، عام شہری، ہر طرف سے ناقابل برداشت ہے۔ دوسری طرف اس جنگ کے معاشی اثرات کا انحصار اس بات پر ہے کہ یہ مزید اور کتنا پھیلے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟