ہنگری میں اپوزیشن جماعت تیزا پارٹی نے عام انتخابات میں واضح کامیابی حاصل کرتے ہوئے دائیں بازو کے وزیراعظم اور ٹرمپ کے حمایت یافتہ وکٹر اوربان کے 16 سالہ اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔ پارٹی کے سربراہ پیٹر میگیار کی قیادت میں حاصل ہونے والی یہ کامیابی ملکی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی قرار دی جا رہی ہے۔
غیر سرکاری نتائج کے مطابق تقریباً تمام ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر تیزا پارٹی نے پارلیمان کی 199 میں سے 138 نشستیں حاصل کر لیں، جس سے اسے دو تہائی اکثریت مل گئی ہے۔ اس کے مقابلے میں اوربان کی جماعت فیدیز صرف 55 نشستیں جیت سکی۔
یہ بھی پڑھیے: ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادی میر پیوٹن کا ٹیلیفونک رابطہ، ہنگری میں ملاقات پر اتفاق
انتخابی نتائج کے چند گھنٹوں بعد وکٹر اوربان نے شکست تسلیم کرتے ہوئے اسے ’تکلیف دہ مگر واضح‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ اب اپوزیشن میں رہ کر ملک کی خدمت کریں گے۔
انتخابات سے چند روز قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ہنگری پہنچے تھے، جہاں انہوں نے کہا تھا کہ وہ وکٹر اوربان کی ’مدد‘ کے لیے آئے ہیں۔
اسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بارہا وکٹر اوربان کی حمایت کا اظہار کیا، اور حالیہ جمعے کو انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ اگر اوربان دوبارہ منتخب ہوئے تو وہ امریکا کی ’معاشی طاقت‘ ہنگری کے لیے بروئے کار لائیں گے۔
پیٹر میگیار نے فتح کے بعد ہزاروں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے تاریخ بدل دی ہے‘۔ انہوں نے بدعنوانی کے خاتمے، عوامی خدمات کی بہتری اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کا عزم ظاہر کیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران کے پاس اب دنیا کو ڈرانے کے لیے کچھ نہیں بچا، ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی میڈیا پر تنقید
یہ انتخاب عالمی سطح پر بھی توجہ کا مرکز رہا، کیونکہ وکٹر اوربان کو دائیں بازو کی عالمی سیاست میں ایک نمایاں شخصیت سمجھا جاتا تھا۔ یورپی رہنماؤں نے اس نتیجے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے جمہوریت کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔
تقریباً 80 فیصد ووٹر ٹرن آؤٹ کے ساتھ ہونے والے اس انتخاب میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے حصہ لیا، جسے اس سیاسی تبدیلی کی اہم وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔














