ایران اور امریکا کے مابین اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات تو کوئی نتائج لائے بغیر یوں ختم ہوگئے کہ طے پایا تھا آج یعنی بروز اتوار بھی مذاکرات جاری رہیں گے۔ مگر شہنشاہ ڈونلڈ ٹرمپ کو شاید یہ بات پسند نہ آئی، اور اپنی ٹیم کو گویا کھڑے کھلوتے واپس بلا لیا۔ یوں یہ کہنا کسی طور غلط نہ ہوگا کہ امریکا جاری مذاکرات سے فرار اختیار کرگیا۔ مگر مذاکرات کے نام ہونے والے اس بھونڈے امریکی مذاق کے دوران پاکستان ایک کام بہت اچھا کرگیا۔ وہ یہ کہ عمان میں ہونے والے مذاکرات کے برخلاف پاکستان نے ایک اہم کامیابی یہ حاصل کی ہے کہ فریقین کو روبرو کردیا ہے۔ اور ساتھ ہی بطور ثالث پاکستانی ٹیم خود بھی بیٹھ گئی ہے۔ ایران اور امریکا کے مابین اس سے قبل کسی بھی سطح کی روبرو بات چیت 2015 میں ہوئی تھی۔ یوں براہ راست بات چیت کا دروازہ کھلنا بجائے خود ایک تعمیری پیشرفت نظر آرہی تھی مگر ٹرمپ کو تعمیر سے کیا غرض؟
جب مذاکرات کے کسی تعمیری نتیجے پر فی الحال بات ممکن نہیں تو پھر پلٹ کر اس جنگ کے ہی کسی ایسے اہم پہلو پر بات کرنا موزوں ہوگا جو قابل قدر توجہ حاصل نہیں کرسکا۔ اس جنگ کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس کی ساخت سیز فائر والے دن تک وہی رہی جو پہلے روز تھی۔ یعنی امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف ایک مکمل ناجائز اور غیر قانونی جنگ۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے پوری کوشش کی کہ کسی طرح اسے ’عرب ایران جنگ‘ میں بدل ڈالیں مگر سعودی عرب اور قطر کی دانائی نے اس سازش کو بری طرح ناکام کیا۔ بالخصوص سعودی عرب کا کردار اس لحاظ سے اور بھی اہمیت کا حامل ہے کہ وہ عرب دنیا کا قائد ہے۔ اس کی ہاں میں سب کی ہاں، ناں میں سب کی ناں ہوتی ہے۔
اگرچہ ایران عرب ممالک میں امریکی ملٹری تنصیبات اور معاشی مفادات کو نشانہ بنا رہا تھا مگر اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ایرانی میزائل گر تو ان ممالک کی حدود میں ہی رہے تھے۔ اور جب ایسا ہوتا ہے تو متعلقہ ممالک کے شہریوں میں پہلے اضطراب اور پھر غصے کا پیدا ہونا فطری بات ہوتی ہے۔ یوں گھروں میں ہی نہیں بلکہ عوامی مجالس میں بھی اس پر مختلف طرح کے خیالات کا اظہار ہو رہا ہوتا ہے، جسے رائے عامہ کہتے ہیں۔
سعودی عرب کے داخلی نظام کی سمجھ نہ رکھنے والوں کا خیال ہے کہ چونکہ وہاں بادشاہت ہے لہٰذا کوئی منہ نہیں کھول سکتا۔ یہ ایک سنگین غلط فہمی ہے۔ سعودی عرب قبائلی معاشرہ ہے اور قبائلی معاشروں میں رائے عامہ قبائل کی سطح پر اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کرتی ہے۔ مگر یہ باتیں باہر نہیں آتیں۔ کیونکہ قبائلی معاشرے اپنے داخلی امور کے معاملے حساس رہتے ہیں۔ قبائیلی معاشروں کے افراد منتشر نہیں بلکہ قبیلے کی تسبیح میں پروئے ہوئے دانے ہوتے ہیں، یعنی باہم مربوط اور منظم۔
یوں ایسا ہرگز نہیں کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے میزائل حملے کوئی پریشر پیدا ہی نہیں کر رہے تھے۔ پریشر پیدا بھی ہوا ہوگا اور اسے انہوں نے پوری سمجھداری سے ہینڈل بھی کرلیا ہے۔ اگر یاد کیجئے تو جنگ کے دوسرے یا تیسرے دن ہی یہ خبر عالمی میڈیا پر نشر ہوگئی تھی کہ سعودی عرب اور قطر نے موساد کے ایسے جاسوس گرفتار کیے ہیں جو ان ممالک میں بم حملوں اور تخریب کاری کے مشن پر تھے۔ پھر انہی ابتدائی ایام میں کچھ میزائل حملے بھی ان دونوں ممالک پر ایسے ہوئے تھے جن سے ایران نے فوری لاتعلقی کا اعلان کردیا تھا۔ سو اس قسم کے واقعات اس بات کا واضح اشارہ تھے کہ اسرائیل عالم اسلام کو آپس میں لڑانے کے ایجنڈے پر کاربند ہے۔ ذرا ایک لمحے کے لئے سوچئے کہ اگر ایسا ہوجاتا تو فائدہ کس کا ہوتا ؟ گریٹر اسرائیل کے راستے کی ہر رکاوٹ دور ہوجاتی یا نہیں؟
کیا اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی نے جنگ کے آغاز سے چند ہی روز قبل کہہ نہیں دیا تھا کہ اگر اسرائیل نیل سے فرات تک کا سارا علاقہ لے لے تو یہ اچھا ہوگا ؟ اگر آج کی تاریخ میں اس سٹیٹمنٹ کو دیکھا جائے تو وہ محض بیان نہیں بلکہ کسی سوچے سمجھے منصوبے کا اعلان تھا۔ وہ منصوبہ جس کا آغاز امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کی صورت کیا، اور اسے یقینی بنانے کے لئے عرب ممالک کے لئے بھی ایسے حالات پیدا کرنے کی کشش کی گئی کہ وہ بھی جنگ میں کود جائیں۔
اگر عرب ممالک اس جنگ میں کود جاتے تو نیٹو بھی فوراً آجاتی۔ نتیجہ گریٹر اسرائیل کے علاوہ اور کیا نکلتا ہے؟ اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو یہ سعودی عرب ہی ہے جس نے اس سازش کو شکست دی ہے۔ یوں اب تک کی ایرانی کامیابی یہ ہے کہ اس نے اپنے نظام کو نہیں گرنے دیا، اور 2 ایٹمی ممالک کو بڑی رسوائی سے بھی دوچار کیا ہے۔ جبکہ سعودی عرب کی کامیابی یہ ہے کہ اس نے انہی حملہ آور ممالک کے اس منصوبے کو خاک میں ملایا ہے جس کے تحت عالم اسلام باہم دست گریباں ہوکر اپنی توانائی اور آزادی کا ہر قطرہ ضائع کرسکتا تھا۔
اگر آپ غور کیجئے تو موجودہ سیز فائر کا عمل 4 ممالک کے وزرائے خارجہ کے اس اجلاس سے شروع ہوا تھا جو اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا۔ پاکستان، مصر اور ترکی کے بعد چوتھا ملک سعودی عرب تھا کہ نہیں؟ یعنی جب بحرین اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف قرارداد لانے کی تیاری کر رہا تھا اور امارات ایران پر حملے کی دھمکی دے رہا تھا تو سعودی پورے خطے کے لیے امن کی تلاش تھے۔ وہ جنگ پھیلانے یا ایران کو نیچا دکھانے کے بجائے خطے اور ایران کو بچانے کے مشن پر تھے۔
ان 3 ممالک نے امن کے لیے پوری سپورٹ فراہم کی تو تب جاکر اسحاق ڈار بیجنگ کے دورے پر گئے۔ ایسا ہرگز نہیں کہ پاکستان نے امن اور مصالحت کی اپیل کی تو ایران نے آگے سے لبیک کہہ دیا۔ ایرانیوں نے تو ناں میں جواب دیا تھا، مگر اس ناں کا بندوبست اسحاق ڈار پہلے ہی کرچکے تھے۔ سو اب تو خود پاکستانی حکام بھی کنفرم کرچکے کہ ایران کی ناں کو ہاں میں چائنا نے بدلا تھا۔ آپ ایسی عالمی طاقت کو ناں نہیں کہہ سکتے جو آپ کی سٹریٹیجک پارٹنر ہو۔
آپ ذرا غور کیجئے ایران کی ناں ہاں بدلنے سے قبل کے چند گھنٹوں میں کیا ہوا تھا؟ ڈونلڈ ٹرمپ گالی والی ٹویٹ کے بعد پوری ایرانی تہذیب کو ختم کرنے کی دھمکی بھی داغ چکے تھے۔ اس دھمکی کی تلوار سر پر لٹک رہی تھی سلامتی کونسل میں بحرین کی قرارداد آگئی۔ سلامتی کونسل کی قرارداد کو ویٹو کرنے کے لیے ڈبل نیگٹو ووٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مگر اس قرارداد کو چین اور روس دونوں نے ویٹو کرکے گیند واپس ٹرمپ کے کورٹ میں پھینک دی تھی کہ چلیے حضور ذرا کرکے دکھایئے تہذیب کو فنا۔ اور اسی ویٹو نے ٹرمپ کے غبارے سے ساری ہوا نکال دی۔ سو جب پاکستان نے 2 ہفتے کی جنگ بندی کی تجویز پیش کی تو ٹرمپ تو جیسے بیقرار ہی بیٹھے تھے۔ ان کی ہاں آتے ہی چائنیز کی کال تہران چلی گئی اور وہاں سے بھی ہاں ہوگئی۔
آج کی تاریخ میں مذاکرات کا عمل بیشک امریکی ٹیم کے فرار سے رک گیا ہے، مگر ٹرمپ کے پاس اس جنگ سے نکلنے کے سوا کوئی چارہ ہے نہیں۔ نہ تو عرب ممالک اس کا ساتھ دے رہے ہیں، نہ نیٹو اور نہ ہی جاپان اور کوریا وغیرہ۔ دنیا کے کسی بھی ملک کو زمینی فوج کے بغیر فتح نہیں کیا جاسکتا اور وہ ٹرمپ کے پاس ہے ہی نہیں۔ 10 لاکھ آرمی ٹرمپ کہاں سے لائے؟ ادھر ریٹائرڈ امریکی ملٹری و انٹیلیجنس افسران کہہ رہے ہیں کہ ان امریکی میزائلوں اور بموں کا ذخیرہ بھی لگ بھگ ختم ہی ہے جو ایران پر داغے جا رہے تھے۔ اس کا بمشکل ہفتے بھر کا ہی کوٹہ بچا ہے۔
سو ہمیں لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ خان نے مذاکرات سے فرار کی یہ راہ بس یہ باور کرانے کے لیے اختیار کی ہے کہ وہ قالین 5000 سے کم میں کسی صورت نہیں بیچے گا۔ قالین کے تاجروں کی حرکت کوئی نئی بات نہیں۔ مگر ایرانی اس قالین کی قیمت 500 سے زیادہ کسی صورت نہیں دیں گے۔ 5 ہزار میں بیچنے کی کوشش کے لیے ٹرمپ کے پاس ابھی ڈیڑھ ہفتہ مزید ہے۔ سو ہمارے خیال میں پریشانی والی کوئی بات نہیں، کیونکہ یہ حقیقت سب جانتے ہیں کہ ٹرمپ کو بس کوئی ایسا لولی پاپ چاہیے جو وہ اپنے بچے کھچے ماگا کو چوسنے کے لیے دے سکے۔ ایرانی اس طرح کے لولی پاپ دینے میں ہمیشہ کنجوس واقع ہوئے ہیں۔ بعید نہیں کہ یہ دلوانے کے لیے بھی چائنا ہی مداخلت کرلے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













