پاکستان علما کونسل کے چیئرمین مولانا طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے مؤثر سفارتکاری کے ذریعے خطے میں ممکنہ جنگ کو روکا اور سیز فائر ممکن بنایا۔
مزید پڑھیں:معرکۂ امن، اسلام آباد کی دہلیز پر بدلتی دنیا
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا، جس کے باعث 40 سال بعد دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان بات چیت ممکن ہوئی۔ اس کامیابی کا کریڈٹ وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وزیر خارجہ کو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے عرب ممالک میں میزائل حملوں کے باوجود عرب دنیا نے جوابی کارروائی نہیں کی، جو پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسلامی ممالک آپس میں لڑ پڑتے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی تھی، مگر پاکستان نے امت کو تقسیم ہونے سے بچایا۔
طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان نے صہیونی قوتوں کی مسلمانوں کو لڑانے کی کوشش ناکام بنائی اور عالمی سطح پر امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ، سعودی عرب اور مصر سمیت اسلامی دنیا پاکستان کے مؤقف کی حمایت کر رہی ہے۔
انہوں نے اس کامیابی کو پوری قوم کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں گزشتہ جمعہ کو پاکستان کے لیے دعائیں بھی کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا فریقین مذاکرات کی میز پر آئے اور انہوں نے بات چیت جاری رکھنے کا عندیہ دیا، جو ایک اہم پیش رفت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلم دنیا کا آپس میں متحارب نہ ہونا اس تمام عمل کی سب سے بڑی کامیابی ہے، کیونکہ اگر ایرانی میزائل حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک ردعمل دیتے تو صورتحال انتہائی خطرناک ہو سکتی تھی۔
طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا بلکہ صہیونی قوتوں کی مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی کوشش بھی ناکام بنائی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا قومی اور اسلامی مؤقف ایک ہے اور ایران پر حملے ہوں یا خلیجی ممالک پر، دونوں ہی ناقابل قبول ہیں۔
مزید پڑھیں:کیا مذاکرات کے شور میں تحریک انصاف ختم ہو چکی ہے؟
انہوں نے بعض عناصر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک بیٹھا ایک گروہ پاکستان کی کامیابیوں کو ناکامی ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ ملک کی تمام بڑی سیاسی و مذہبی جماعتیں اس پالیسی پر متفق ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے سیز فائر کی اپیل کو عالمی پذیرائی ملی، جبکہ مذاکرات کے دوران سیکیورٹی اداروں نے جس پیشہ ورانہ انداز میں ذمہ داریاں ادا کیں وہ بھی قابلِ تعریف ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران نے اعلان کیا کہ 14 اپریل کو ہونے والی عالمی پیغامِ اسلام کانفرنس کو مؤخر کرکے اب 20 اپریل کو کنونشن سینٹر اسلام آباد میں منعقد کیا جائے گا، جس میں 4 سے 5 ہزار علما و مفتیان شرکت کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس اہم کانفرنس میں فلسطین کے مفتی اعظم اور قاضی القضا بھی شریک ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جس مقصد کے لیے قائم ہوا تھا، آج وہ عملی طور پر پورا ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں ملک امن و استحکام کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ امن مشن فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں شروع ہوا جس کے بعد مختلف مراحل طے کرتے ہوئے یہ سفارتی کامیابی حاصل ہوئی۔
طاہر اشرفی نے امریکا اور ایران سے ایک بار پھر اپیل کی کہ وہ اپنے مسائل کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے تلاش کریں اور کشیدگی بڑھانے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وزیر خارجہ کی جانب سے امن کے لیے جاری کوششیں قابلِ تحسین ہیں اور انہیں مزید جاری رہنا چاہیے۔
مزید پڑھیں: پاپ اسٹار اولیویا روڈریگو کا فلسطین میں جاری مظالم پر گہرے دکھ کا اظہار
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے اور جو سفارتی کردار ادا کیا جا رہا ہے وہ مستقبل میں خطے کے بڑے مسائل کے حل کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق فلسطین کے بعد مسئلہ کشمیر کا حل بھی اسی طرز کے مذاکراتی عمل سے ممکن ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو محافظ حرمین شریفین کا اعزاز حاصل ہے اور وہ مسلم امہ کے اتحاد و امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ختم نہیں ہوئے بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے، اور اسلام آباد نے کسی فریق کو مجبور نہیں کیا بلکہ جنگ کے میدان میں آمنے سامنے آنے والوں کو مذاکرات کی میز پر بٹھا دیا، جو ایک بڑی کامیابی ہے۔














