ٹیکنالوجی کی معروف شخصیات نے میٹا کی ملکیت والی میسجنگ ایپ واٹس ایپ کی سیکیورٹی اور اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے صارفین کے ساتھ دھوکہ قرار دے دیا ہے۔
ٹیلی گرام کے بانی پاول دوروف نے واٹس ایپ کی سیکیورٹی میں موجود خامیوں کو ’تاریخ کا سب سے بڑا دھوکہ‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ واٹس ایپ کے 95 فیصد پیغامات گوگل اور ایپل کے سرورز پر سادہ ٹیکسٹ کی صورت میں موجود ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ اپ ڈیٹس: سخت ترین سیکیورٹی سیٹنگز کا نیا آپشن بھی شامل
ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ واٹس ایپ انکرپشن کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن بیک اپ انکرپشن کا آپشن اکثر صارفین استعمال نہیں کرتے، جس کے باعث ان کی نجی گفتگو ایجنسیوں، ہیکرز اور خود کمپنیوں کے لیے کھلی کتاب بن جاتی ہے۔
پاول دوروف نے مزید الزام عائد کیا کہ ایپل اور گوگل ہر سال ہزاروں بار واٹس ایپ کے بیک اپ پیغامات تیسرے فریق کو فراہم کرتے ہیں، جبکہ ان کے بقول ٹیلی گرام نے اپنی 12 سالہ تاریخ میں اب تک کسی کو ایک بائٹ ڈیٹا بھی فراہم نہیں کیا۔
دوسری جانب ایکس ( سابقہ ٹویٹر) اور ایکس اے آئی کے سربراہ ایلون مسک نے بھی پاول دوروف کے خیالات کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واٹس ایپ پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔
یہ بھی پڑھیں: روس کے حمایت یافتہ گروپ نے صحافیوں، حکومتی اور فوجی اہلکاروں کے واٹس ایپ اکاؤنٹس ہیک کرلیے
ایلون مسک نے میٹا پر الزام لگایا کہ وہ صارفین کی رضامندی کے بغیر ان کے نجی پیغامات تک رسائی حاصل کررہی ہے۔
ان الزامات کے ساتھ ساتھ میٹا کو امریکا میں ایک عوامی مقدمے کا بھی سامنا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ واٹس ایپ اپنے ملازمین اور تیسرے فریق کو صارفین کے پیغامات تک غیر قانونی رسائی فراہم کرتا ہے، تاہم میٹا نے ان تمام الزامات کو’جھوٹا اور لغو‘ قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔
واٹس ایپ کی انتظامیہ کا موقف ہے کہ وہ گزشتہ ایک دہائی سے ‘سگنل پروٹوکول’ کے ذریعے پیغامات کو انکرپٹ کررہے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ بھیجنے والے اور وصول کرنے والے کے علاوہ کوئی دوسرا شخص ان پیغامات کو نہیں پڑھ سکتا۔














