طویل تحقیق اور تقریباً ایک صدی کی ترقی کے بعد اب ایسی جدید امیونوتھراپی علاج سامنے آ رہے ہیں جو انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنا کر کینسر کے خلاف مؤثر جنگ لڑ رہے ہیں اور کئی مریضوں کی زندگیاں بچا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی اب صرف آواز سن کر کینسر کی نشاندہی کر سکتا ہے، نئی تحقیق میں انکشاف
بی بی سی کی ایک رپورٹ میں نیویارک کی رہائشی مورین سائیڈرس کا حوالہ دیا گیا جو سنہ 2008 میں بڑی آنت کے کینسر میں مبتلا تھیں اور ان کا علاج سرجری کے ذریعے ہوا تھا۔ تاہم 14 سال بعد انہیں غذائی نالی کے کینسر کی تشخیص ہوئی اور اس بار ان کا علاج بالکل مختلف تھا۔
انہیں ایک کلینیکل ٹرائل کے تحت دوا ڈوسٹارلیماب دی گئی جو ہر 3 ہفتے بعد صرف 45 منٹ کے انفیوژن کی صورت میں دی جاتی تھی۔ صرف 4 ماہ بعد ان کا ٹیومر بغیر سرجری، کیموتھراپی یا ریڈی ایشن کے مکمل طور پر ختم ہو گیا۔
انہوں نے اس تجربے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ناقابلِ یقین ہے جیسے کوئی سائنس فکشن ہو۔
امیونوتھراپی کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا مدافعتی نظام قدرتی طور پر غیر معمولی یا بیمار خلیوں کو پہچان کر ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن کینسر کے خلیے اکثر خود کو چھپا لیتے ہیں۔
امیونوتھراپی کا مقصد انہی خلیوں کو بے نقاب کرنا ہے تاکہ مدافعتی نظام انہیں پہچان کر ختم کر سکے۔
علاج کی اہم اقسام
سی اے آر ٹی سیل تھراپی جس میں مریض کے مدافعتی خلیات کو لیب میں تبدیل کر کے دوبارہ جسم میں داخل کیا جاتا ہے تاکہ وہ کینسر کے خلیات کو نشانہ بنائیں۔
امیون چیک پوائنٹ انہیبیٹرز دوائیں مدافعتی نظام کے آف سوئچ کو بند کر کے کینسر کے خلیات کو چھپنے سے روکتی ہیں۔
یہ طریقہ سنہ 2018 میں نوبیل انعام یافتہ تحقیق کے نتیجے میں سامنے آیا اور اب کئی اقسام کے کینسر میں استعمال ہو رہا ہے۔
کامیابیاں اور حدود
تحقیقی رپورٹس کے مطابق تقریباً 20 سے 40 فیصد مریضوں میں امیونوتھراپی مؤثر ثابت ہوتی ہے لیکن ہر مریض اس سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔ بعض کیسز میں ضمنی اثرات جیسے تھکن، جلدی مسائل یا اندرونی سوزش بھی ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ کینسر ایک ہی بیماری نہیں بلکہ درجنوں مختلف اقسام کا مجموعہ ہے اس لیے ایک ہی علاج سب پر یکساں اثر نہیں دکھاتا۔
نئی تحقیق اور امیدیں
سائنسدان مختلف طریقوں پر کام کر رہے ہیں جن میں غذائی تبدیلیاں اور فائبر ڈائیٹ، سستی کولیسٹرول کم کرنے والی دوا، علاج کے وقت کا اثر اور ریڈی ایشن اور الٹراساؤنڈ کے ساتھ مشترکہ علاج شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ریڈی ایشن جیسے طریقے ٹیومر کو مدافعتی نظام کے لیے زیادہ نظر آنے والا بنا دیتے ہیں۔
مستقبل کی سمت: کینسر ویکسین
نئی تحقیق میں کینسر ویکسین پر بھی کام جاری ہے جس کا مقصد جسم کے مدافعتی نظام کو مخصوص کینسر کے خلیات کی پہچان سکھانا ہے۔
ڈانا فاربر کینسر انسٹی ٹیوٹ کی ایک تحقیق میں 9 مریضوں کو ذاتی نوعیت کی ویکسین دی گئی، اور تمام مریضوں میں مضبوط مدافعتی ردعمل دیکھا گیا۔
ماہرین کی رائے
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دور ’پرسنلائزڈ میڈیسن‘ کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں ہر مریض کا علاج اس کے جسم اور بیماری کی مخصوص نوعیت کے مطابق کیا جائے گا۔
اینڈریسن کینسر سینٹر کے ماہرین کے مطابق مستقبل میں علاج زیادہ درست، کم تکلیف دہ اور زیادہ مؤثر ہوگا۔
اگرچہ ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے لیکن ماہرین متفق ہیں کہ امیونوتھراپی نے کینسر کے علاج میں ایک نئے دور کا آغاز کر دیا ہے جہاں بعض مریضوں کے لیے یہ علاج واقعی زندگی بچانے اور بدلنے والا ثابت ہو رہا ہے۔














