صدرِ مملکت آصف زرداری کو عوامی جمہوریہ چین کے حالیہ دوروں کے دوران طے پانے والی مفاہمتی یادداشتوں پر پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
یہ بریفنگ کراچی میں واقع وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوئی، جس میں سندھ اور چینی شراکت داروں کے درمیان مشترکہ منصوبوں پر جاری کام کا جائزہ لیا گیا۔
صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ان معاہدوں کو عملی نتائج میں تبدیل کیا جائے، جس کے لیے واضح ٹائم لائنز، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور مسلسل نگرانی ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان چین سرمایہ کاری کانفرنس، اربوں ڈالرز کے کون سے 21 معاہدے ہوئے؟
صدر زرداری نے کہا کہ چین کے ساتھ پاکستان کا تعاون انفراسٹرکچر کی جدید کاری، صنعتی صلاحیت میں اضافے اور سماجی و معاشی ترقی کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے ہدایت دی کہ انتظامی رکاوٹوں کو دور کیا جائے، شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کی جائے تاکہ منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد ممکن ہو سکے۔
بریفنگ میں مختلف شعبوں میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جن میں فائر سیفٹی اور ایمرجنسی رسپانس سسٹمز، توانائی و کھاد کی پیداوار، لائیو اسٹاک کی ترقی، زراعت، ماحولیاتی انتظام اورری سائیکلنگ ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان چین کی مدد سے الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت میں پیشرفت کا خواہاں
اس کے علاوہ خوراک کے تحفظ کو بہتر بنانے، مویشیوں میں بیماریوں کے کنٹرول کے نظام کو مضبوط بنانے اور پائیدار صنعتی طریقوں کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بھی آگاہ کیا گیا۔
صدر نے ہدایت دی کہ تمام متعلقہ محکمے چینی حکام اور دیگراداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں اور مخصوص میکنزم کے تحت باقاعدہ مانیٹرنگ کو یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، فریال تالپور، ڈاکٹر عاصم حسین، شرجیل انعام میمن، ناصر حسین شاہ، ضیاالحسن لنجار، محمد خان مہر، ملی علی ملکانی، سلیم مانڈوی والا اور سہیل انور سیال سمیت اعلی حکام شریک ہوئے۔














