چین کے شہر شانگچیو میں ایک خاتون ملازمہ نے اپنی کم تنخواہ کے خلاف احتجاج کا ایسا انوکھا طریقہ اپنایا کہ سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس خاتون کا موقف تھا کہ اسے دی جانے والی تنخواہ اس کی محنت کے مقابلے میں بہت کم ہے، اس لیے اس نے اپنی کارکردگی کو بھی تنخواہ کے معیار کے مطابق ڈھالنے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: تنخواہ نہ ملنے پر میکسیکو میں پائلٹ کا انوکھا احتجاج، خود کو کاک پٹ میں بند کرلیا
احتجاج کے طور پر خاتون دفتر کے اوقات کے دوران اپنی میز پر ہی لگاتار 5 گھنٹے تک سوتی رہی اور اس رویے پر اپنی منطق پیش کرتے ہوئے کہا کہ جتنا معاوضہ ملے گا، اتنا ہی کام کیا جائے گا۔
یہ معاملہ اس وقت مزید بگڑ گیا جب باس نے اسے سوتے ہوئے پکڑ لیا اور سخت سرزنش کرتے ہوئے نوکری سے نکالنے کی دھمکی دی، تاہم خاتون نے ہمت ہارنے کے بجائے روتے ہوئے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی جس میں اس نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔
اس قصے میں ایک حیران کن موڑ اس وقت آیا جب معلوم ہوا کہ نیند سے بیدار ہونے کے بعد اس خاتون نے اپنے باس کی میز پر رکھی چاکلیٹ بھی کھا لی، جس کے نتیجے میں باس کی حالت بگڑ گئی کیونکہ وہ شوگر کے مریض تھے اور وقت پر وہ چاکلیٹ نہ ملنے سے ان کی طبیعت خطرناک حد تک خراب ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: انوکھا احتجاج، دودھ فروش جوڑے نے بھینسیں رکن اسمبلی کے دفتر کے باہر باندھ دیں
سوشل میڈیا پر اس خبر کے وائرل ہوتے ہی صارفین کی بڑی تعداد نے خاتون کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے پیشہ ورانہ اخلاقیات کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
اگرچہ چین میں کام کے مشکل حالات اور کم اجرت کے حوالے سے آوازیں اٹھتی رہتی ہیں، لیکن اس بار عوامی ہمدردی باس کے ساتھ نظر آئی کیونکہ لوگوں کا خیال تھا کہ کام کی ذمہ داریوں سے مکمل غفلت برتنا اور کسی کی طبی ضرورت والی خوراک اٹھا لینا کسی بھی صورت احتجاج نہیں کہلا سکتا۔
ایک صارف نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ اگر آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی میں سے 5 گھنٹے سونے میں گزار دیے جائیں تو کام کے لیے وقت بچتا ہی کتنا ہے۔














