پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت میں 45 فیصد اضافہ

پیر 13 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں مالی سال 26-2025 کے ابتدائی 9 ماہ یعنی جولائی تا مارچ کے دوران گاڑیوں کی فروخت میں 45 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

تاہم حکومتی سرپرستی کے باوجود الیکٹرک وہیکلز (ای ویز) کے مقابلے میں انٹرنل کمبسشن انجن والی گاڑیاں بدستور مارکیٹ پرغالب ہیں۔

پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2، 3 اور 4 پہیوں و الی گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ زرعی ٹریکٹرز کی فروخت میں گزشتہ کئی ماہ سے جاری کمی کا رجحان برقرار رہا۔

یہ بھی پڑھیں: گاڑیوں کی فروخت میں سالانہ 51 فیصد اضافہ، سب سے زیادہ فروخت ہونے والی گاڑی کون سی ہے؟

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کاروں کی فروخت 45 فیصد اضافے کے ساتھ 109,655 یونٹس تک پہنچ گئی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 75,397 یونٹس فروخت ہوئے تھے۔

اسی طرح جیپس اور پک اپ گاڑیوں کی فروخت 35 فیصد اضافے کے ساتھ 34,374 یونٹس تک پہنچ گئی، ٹرکوں اور بسوں کی فروخت میں بالترتیب 82 فیصد اور 33 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی فروخت 31 فیصد اضافے کے ساتھ 1,429,501 یونٹس تک جا پہنچی۔

دوسری جانب زرعی ٹریکٹرز کی فروخت 13 فیصد کمی کے ساتھ 20,292 یونٹس رہی، جس کی بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث فصلوں کی پیداوار میں کمی بتائی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: گاڑیوں کی فروخت میں رواں برس اب تک 18 فیصد کا اضافہ؛ وجہ کیا ہے؟

آٹو موبائل ماہر شفیق احمد شیخ کے مطابق، الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے باوجود پاکستان میں انٹرنل کمبسشن انجن والی گاڑیاں پیداواراورفروخت دونوں میں بدستورغالب ہیں۔

ان کے مطابق مسافر کاروں کی فروخت میں 45 فیصد اور پیداوار میں 51 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ مستحکم معاشی حالات، شرح سود میں کمی اور بینک فائنانسنگ و آٹو لیزنگ کی بحالی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرکوں اور بسوں کے شعبے میں بالترتیب 88 فیصد اور 82 فیصد اضافہ معاشی سرگرمیوں اور لاجسٹکس کی بڑھتی طلب کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ ایس یو ویز اور پک اپ گاڑیوں کی بڑھتی مقبولیت کے باعث جیپس کی فروخت میں بھی 35 فیصد اضافہ ہوا۔

مزید پڑھیں: کیا شرح سود میں کمی سے گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ہوگا؟

الیکٹرک گاڑیوں کے مقابلے میں انٹرنل کمبسشن انجن والی گاڑیوں کی مقبولیت پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  ای ویز کی قیمت زیادہ ہونے، چارجنگ انفراسٹرکچر کی کمی اور محدود دستیابی کے باعث صارفین اب بھی روایتی گاڑیوں کو ترجیح دیتے ہیں۔

’پاکستان میں گاڑی کو ایک مالی اثاثہ سمجھا جاتا ہے جس کی ری سیل ویلیو اہمیت رکھتی ہے، جبکہ ای ویز کی ری سیل ویلیو ابھی غیر یقینی ہے اور ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق بعض ماڈلز 18 ماہ میں اپنی 15 سے 25 فیصد تک قدر کھو دیتے ہیں۔‘

ان کے مطابق سروسنگ بھی ایک اہم مسئلہ ہے، کیونکہ عام مکینک انٹرنل کمبسشن انجن والی گاڑیوں کی مرمت کر سکتا ہے، جبکہ ای ویزکے لیے خصوصی ورکشاپس، تربیت یافتہ مکینکس اور مہنگے درآمدی پرزہ جات درکار ہوتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp