امریکا اور ایران کے مذاکرات کار اس ہفتے دوبارہ اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں تاکہ جنگ کے خاتمے سے متعلق بات چیت دوبارہ شروع کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی صدرِ مملکت سے ملاقات، امریکا ایران مذاکرات پر تفصیلی بریفنگ
امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں جبکہ پاکستان ایک بار پھر اس عمل میں مرکزی سفارتی کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ پیشرفت مختلف عالمی خبر رساں اداروں رائٹرز، بلومبرگ اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹس میں سامنے آئی ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ہونے والے مذاکرات کامیاب نہ ہوسکنے کے بعد اب اس کے پاکستان میں دوبارہ انعقاد کے امکانات موجود ہیں اور وفود اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مذاکرات کا نتیجہ نہ نکلنے کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں امریکا نے ایران کی بندرگاہوں پر ناکہ بندی عائد کر دی۔
دیگر میڈیا رپورٹس کے مطابق مذاکرات کار اس ہفتے دوبارہ اسلام آباد میں ملاقات پر غور کر رہے ہیں تاکہ حالیہ کشیدگی اور جنگی صورتحال کو کم کرنے کے لیے بات چیت دوبارہ شروع کی جا سکے۔
بلومبرگ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کے دوسرے دور پر غور جاری ہے جبکہ ایران عارضی طور پر آبنائے ہرمز سے شپمنٹس روکنے کے آپشن پر بھی غور کر رہا ہے تاکہ کشیدگی کم ہو اور سفارتی راستہ ہموار ہو سکے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ایک ممکنہ میزبان مقام کے طور پر زیر غور ہے تاہم دیگر مقامات پر بھی بات ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیے: ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور: امریکی صدر ٹرمپ کے بذات خود اسلام آباد آنے کی خبریں زیر گردش
اسی طرح ایسوسی ایٹڈ پریس نے امریکی حکام اور ایک ثالث ملک کے سفارت کار کے حوالے سے بتایا ہے کہ مذاکرات جمعرات تک دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں اور دونوں فریق اصولی طور پر بات چیت جاری رکھنے پر متفق ہیں۔
Iran is considering a short-term pause to shipments through the Strait of Hormuz to avoid testing a US blockade and scuppering a fresh round of peace talks, according to a person familiar with the Tehran’s deliberations. https://t.co/IerJJw5XLe
— Bloomberg (@business) April 14, 2026
رپورٹس کے مطابق پاکستان اس پورے سفارتی عمل میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور پہلے دور کی میزبانی بھی اسلام آباد میں کی گئی تھی جس کے بعد اب دوبارہ اسی شہر میں مذاکرات کی واپسی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
دوسری جانب سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ صورتحال کشیدہ ہے تاہم دوبارہ مذاکرات کی اطلاعات نے عالمی منڈیوں میں کچھ حد تک اعتماد بحال کیا ہے۔ اسی امید کے باعث تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے اور عالمی بینچ مارک آئل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات کا اگلا مرحلہ بھی پاکستان میں ہونے کا امکان ہے، سفارتی ماہرین
ماہرین کے مطابق اگر مذاکرات دوبارہ شروع ہوتے ہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہونے اور توانائی کی عالمی منڈیوں پر دباؤ میں کمی آنے کا امکان ہے۔
ٹرمپ کے اسلام آباد آنے کی چہ میگوئیاں
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کا امکان پیدا ہو گیا ہے اور یہ مذاکرات بھی ممکنہ طور پر پاکستان میں ہوسکتے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق مذاکرات کے دوسرے دور میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شریک ہوسکتے ہیں۔
ایران سے مذاکرات کے دوسرے دور میں امریکی صدر ٹرمپ بذات خود شریک ہوں گے؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ دورہ پاکستان سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں نے سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور پاکستانی نژاد شخصیت ساجد نذیر تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن میں اس بات کی چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ ایران سے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود اسلام آباد کا دورہ کر سکتے ہیں۔
ساجد نذیر تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ صدر ٹرمپ ایرانی وفد سے ملاقات کے لیے پاکستان آ سکتے ہیں، جہاں اسلام آباد معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔
ان کے مطابق یہ ممکنہ ملاقات ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی عمل میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
تاہم اس حوالے سے نہ تو وائٹ ہاؤس کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان کیا گیا ہے اور نہ ہی پاکستانی حکام نے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔
ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور جمعرات کو اسلام آباد میں ہونے کا امکان
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی خبر کے مطابق اس پیش رفت سے باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ فریقین جنگ بندی ختم ہونے سے قبل کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے نئے براہِ راست مذاکرات پر غور کر رہے ہیں جبکہ دوسرے ذرائع کے مطابق اس کے لیے پاکستان نے دوبارہ میزبانی کی پیشکش بھی کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایران امریکا مذاکرات کا اگلا مرحلہ بھی پاکستان میں ہونے کا امکان ہے، سفارتی ماہرین
اے پی کے مطابق ایک بار پھر اسلام آباد کو ممکنہ میزبان کے طور پر زیر غور لایا جا رہا ہے، جبکہ جنیوا بھی متبادل مقام کے طور پر سامنے آیا ہے، امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ مذاکرات جمعرات کو ہو سکتے ہیں۔
خبر کے مطابق مذاکرات کے نئے دور کے حوالے سے بات چیت جاری ہے، جبکہ ایک ثالث ملک کے سفارتکار نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن اصولی طور پر اس پر آمادہ ہو چکے ہیں تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ مذاکرات میں اسی سطح کے وفود شریک ہوں گے یا نہیں، تاہم مقام اور وقت کے تعین پر غور جاری ہے۔
ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘دوسری جانب سے ہم سے رابطہ کیا گیا ہے’ اور ‘وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں’۔
یہ بھی پڑھیے: ایران امریکا جنگ بندی کے بعد پاکستان کا عالمی امیج بہتر، رائے عامہ میں نمایاں مثبت تبدیلی، رپورٹ
دوسری جانب پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کی پیشکش کر دی ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق یہ مذاکرات جنگ بندی کے اختتام سے قبل آئندہ چند روز میں اسلام آباد میں منعقد کیے جا سکتے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ حتمی فیصلہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ فریقین کسی اور مقام کو ترجیح دیتے ہیں یا نہیں۔ ایک عہدیدار کے مطابق پہلا دور کسی معاہدے کے بغیر ختم ہونے کے باوجود سفارتی عمل کا حصہ تھا اور اسے ایک وقتی کوشش نہیں سمجھنا چاہیے۔













