امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ دورہ پاکستان سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں نے سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور پاکستانی نژاد شخصیت ساجد نذیر تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن میں اس بات کی چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ ایران سے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود اسلام آباد کا دورہ کر سکتے ہیں۔
ساجد نذیر تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ صدر ٹرمپ ایرانی وفد سے ملاقات کے لیے پاکستان آ سکتے ہیں، جہاں اسلام آباد معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔
ان کے مطابق یہ ممکنہ ملاقات ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی عمل میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
Chater is everywhere in Washington DC that president Trump is going to islamabad Pakistan himself to meet Irani delegation to finalize the Islamabad accord. #Pakistanhameshazindabad https://t.co/ARHuN9XfAa
— Sajid N. Tarar (@sajidtarar) April 14, 2026
تاہم اس حوالے سے نہ تو وائٹ ہاؤس کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان کیا گیا ہے اور نہ ہی پاکستانی حکام نے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسا کوئی دورہ ہوتا ہے تو یہ خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک غیر معمولی پیش رفت ہوگی اور پاکستان کے کردار کو مزید اہمیت حاصل ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں، جنہیں خطے میں امن کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ عالمی خبر رساں ادارے نے اپنے ذرائع کے مطابق دعویٰ کیا ہے کہ فریقین جنگ بندی ختم ہونے سے قبل کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے نئے براہِ راست مذاکرات پر غور کر رہے ہیں جبکہ دوسرے ذرائع کے مطابق اس کے لیے پاکستان نے دوبارہ میزبانی کی پیشکش بھی کردی ہے۔
اے پی کے مطابق ایک بار پھر اسلام آباد کو ممکنہ میزبان کے طور پر زیر غور لایا جا رہا ہے، جبکہ جنیوا بھی متبادل مقام کے طور پر سامنے آیا ہے، امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ مذاکرات جمعرات کو ہو سکتے ہیں۔
خبر کے مطابق مذاکرات کے نئے دور کے حوالے سے بات چیت جاری ہے، جبکہ ایک ثالث ملک کے سفارتکار نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن اصولی طور پر اس پر آمادہ ہو چکے ہیں تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ مذاکرات میں اسی سطح کے وفود شریک ہوں گے یا نہیں، تاہم مقام اور وقت کے تعین پر غور جاری ہے۔
ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘دوسری جانب سے ہم سے رابطہ کیا گیا ہے’ اور ‘وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں’۔
یہ بھی پڑھیے: ایران امریکا مذاکرات کا اگلا مرحلہ بھی پاکستان میں ہونے کا امکان ہے، سفارتی ماہرین
دوسری جانب پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کی پیشکش کر دی ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق یہ مذاکرات جنگ بندی کے اختتام سے قبل آئندہ چند روز میں اسلام آباد میں منعقد کیے جا سکتے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ حتمی فیصلہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ فریقین کسی اور مقام کو ترجیح دیتے ہیں یا نہیں۔ ایک عہدیدار کے مطابق پہلا دور کسی معاہدے کے بغیر ختم ہونے کے باوجود سفارتی عمل کا حصہ تھا اور اسے ایک وقتی کوشش نہیں سمجھنا چاہیے۔














