مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں ایشیا میں الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے صارفین کو الیکٹرک گاڑیوں کی جانب تیزی سے راغب کیا ہے۔ ویتنام کی معروف کمپنی ‘وِن فاسٹ’ اور چین کی ‘بی وائی ڈی’ اس رجحان سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: 2030 تک پاکستان میں 30 فیصد الیکٹرک گاڑیاں، صدر زرداری کا بڑا اعلان
ہنوئی میں ایک شو روم میں کام کرنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ ماہانہ اخراجات کا بڑا حصہ اب پٹرول پر خرچ ہو رہا تھا اس لیے الیکٹرک گاڑی زیادہ بہتر انتخاب محسوس ہوتی ہے۔ ایک ٹیچر نے کہا کہ الیکٹرک گاڑی چلانا نہ صرف سستا ہے بلکہ ایندھن کی قطاروں اور مہنگائی سے بھی نجات دیتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تیل کی قیمتیں جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً 50 فیصد بڑھ چکی ہیں اور کئی مواقع پر ایک بیرل 100 ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی ہیں۔ اس صورتحال نے خطے میں ٹرانسپورٹ کے اخراجات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
‘وِن فاسٹ’ کی فروخت میں مارچ کے دوران 127 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ویتنام میں اب تقریباً 40 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہیں۔ اسی طرح ‘بی وائی ڈی’ نے تھائی لینڈ اور فلپائن سمیت دیگر ممالک میں بھی نمایاں فروخت حاصل کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ٹیرف میں نرمی، چینی الیکٹرک گاڑیاں عالمی مقابلے میں مزید مضبوط
ماہرین کے مطابق یہ رجحان وقتی نہیں بلکہ ایک ساختی تبدیلی ہے کیونکہ صارفین اب ایندھن کی قیمتوں کو خریداری کے فیصلے میں اہم عنصر سمجھنے لگے ہیں۔ خطے میں چارجنگ اسٹیشنز کی تعداد میں اضافہ بھی الیکٹرک گاڑیوں کی مقبولیت کو مزید بڑھا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جاپان، جنوبی کوریا، بھارت اور آسٹریلیا میں بھی الیکٹرک گاڑیوں کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔













