پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے بھارتی مواد نشر کرنے پر جیو کو نوٹس جاری کیے جانے کے بعد صحافیوں کے ایک حلقے کی طرف سے چینل کو مظلوم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، تاہم حقائق اس تاثر سے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جیو نے گلوکارہ آشا بھوسلے کی کوریج کے دوران محض ذکر تک محدود نہیں رکھا بلکہ مکمل پروگرامنگ کی صورت میں 18 مرتبہ پیکجز نشر کیے، جن میں 100 سے زائد بھارتی گانے شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیے: ’لازوال عشق‘ ریئلٹی شو کے خلاف شکایات پر پیمرا کا ردعمل آگیا
یہ عمل اتفاقیہ یا وقتی نہیں تھا بلکہ ایک منظم اور باقاعدہ نشریاتی حکمت عملی کے تحت کیا گیا، جو براہِ راست ان پابندیوں کی زد میں آتا ہے جنہیں سپریم کورٹ کے 2018 کے فیصلے میں واضح طور پر نافذ کیا گیا تھا، جس کے تحت پاکستانی ٹی وی چینلز پر بھارتی مواد نشر کرنے پر پابندی عائد ہے۔
پیمرا کی کارروائی کو سنسرشپ قرار دینا حقائق کے منافی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ اقدام ایک نافذ العمل عدالتی حکم پر عمل درآمد کے زمرے میں آتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جیو کو مظلوم کہنا نشریات کے حجم، تسلسل اور نیت کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ اگر متعدد پروگراموں میں 100 سے زائد ممنوعہ گانوں کی نشریات کو نظرانداز کیا جائے تو بڑے میڈیا اداروں کے لیے قوانین پر عمل درآمد محض اختیاری حیثیت اختیار کر جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: پیمرا نے کرائم سینز اور زیر حراست افراد کے انٹرویوز پر پابندی عائد کردی
صحافیوں کی جانب سے منتخب دفاع پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا قوانین کا اطلاق صرف چھوٹے اداروں تک محدود ہے یا بڑے نیٹ ورکس بھی اس کے پابند ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ میڈیا کی آواز دبانے کا نہیں بلکہ قانون کی یکساں عملداری کو یقینی بنانے کا ہے، اور اظہارِ رائے کی آزادی کو دانستہ اور بار بار کی جانے والی خلاف ورزیوں کے جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔














