وائٹ ہاؤس میں گزشتہ روز ایک غیر معمولی اور دلچسپ صورتحال اس وقت دیکھنے میں آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے میکڈونلڈز کا کھانا ڈلیور کیا گیا اور انہوں نے اسے خود موصول کیا جس نے لمحوں میں اسے میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا دیا۔
اس موقع پر موجود صحافیوں کے درمیان صدر ٹرمپ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’یہ اسٹیج کیا ہوا نہیں لگتا‘ جس کے بعد یہ ڈلیوری ایک باقاعدہ میڈیا ایونٹ کی شکل اختیار کر گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ’شناختی کارڈ پر میری مرضی کی تصویر لگاؤ ورنہ دفتر بند کرو‘، نادرا کے باہر خاتون کا انوکھا مطالبہ
صدر ٹرمپ نے ڈلیوری رائیڈر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو بھی کی جس دوران انہوں نے اپنے مجوزہ ’ون بگ بیوٹیفل بل‘ اور ’نو ٹیکس آن ٹپس‘ پالیسی کا ذکر کیا۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکہ میں زیادہ تر شہری ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی آخری تاریخ کے قریب تھے۔
Trump has to be reminded to tip his delivery driver pic.twitter.com/qd2uB9mFvc
— Headquarters (@HQNewsNow) April 13, 2026
اس دوران جب صحافیوں نے پوچھا کہ آیا رائیڈر کو اچھی ٹِپ ملی تو ٹرمپ نے بغیر کسی تاخیر کے اپنی جیب سے 100 ڈالر نکال کر انہیں دے دیے جس پر ماحول مزید غیر رسمی اور دلچسپ ہو گیا۔
اس واقعے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ جہاں کچھ اسے ایک دلچسپ اور غیر معمولی لمحہ قرار دے رہے ہیں تو کچھ اسے سیاسی تشہیر سے جوڑ رہے ہیں۔ ایک سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ یہ سب ڈرامہ تھا۔
That was so staged🙄😡
— little tweeter 💙 (@scwillmore) April 13, 2026
ایک صارف نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ٹرمپ نے زندگی میں پہلی بار کسی کو ٹپ دی ہے۔
first time he's ever tipped in his life.
— Jay-Rex (@AtrocitusRex) April 13, 2026
ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ یہ پورا ڈرامہ دراصل ’ٹپس پر کوئی ٹیکس نہیں‘ کے نعرے کے گرد ترتیب دیا گیا تھا حالانکہ یہ بات حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔
That whole stunt was supposed to be about “no taxes on tips” which is fiction.
— TruthPlease (@OnlyTruthHmm) April 13, 2026














