وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کراچی سے عراق کے لیے فیری سروس شروع کرنے کا بڑا فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری طور پر فزیبلٹی رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ اس اقدام سے عراق جانے والے ہزاروں زائرین کو سستا اور آرام دہ سفری متبادل میسر آئے گا۔
یہ ہدایات انہوں نے گزشتہ روز پاکستان کوسٹ گارڈز کے ہیڈ کوارٹر کے دورے اور وہاں منعقدہ ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔ ہیڈ کوارٹر پہنچنے پر ڈائریکٹر جنرل کوسٹ گارڈز میجر جنرل جواد ریاض نے وفاقی وزیر کا خیر مقدم کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان، ایران اور عراق کا زائرین کی سہولت کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ بنانے پر اتفاق
شہداء کو خراجِ عقیدت اور یادگار پر حاضری وزیر داخلہ نے ہیڈ کوارٹر میں قائم یادگارِ شہداء پر حاضری دی، پھول رکھے اور فاتحہ خوانی کی۔
انہوں نے کوسٹل ایریاز کی حفاظت کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے اہلکاروں کو زبردست الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کی عظیم قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
آپریشنل بریفنگ: 8 ارب کی منشیات ضبط اجلاس کے دوران وفاقی وزیر کو پاکستان کوسٹ گارڈز کی پیشہ ورانہ تربیت، آپریشنل تیاریوں اور پسنی سیف سٹی پراجیکٹ کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اور عراق جانے والے زائرین کے لیے فیری سروس شروع کرنے کا اعلان
بریفنگ میں انکشاف کیا گیا کہ فورس نے گزشتہ ایک سال کے دوران مؤثر کارروائیوں کے ذریعے 14 ہزار کلوگرام منشیات ضبط کی، جس کی عالمی مارکیٹ میں مالیت 8 ارب روپے سے زائد ہے۔
محسن نقوی نے فورس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ سمگلنگ مافیا کی سرکوبی کے لیے تمام تر توانائیاں صرف کی جائیں۔
کوسٹ گارڈز کی مضبوطی کا عزم وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کوسٹ گارڈز زمین اور سمندر میں یکساں مہارت کے ساتھ فرائض انجام دینے والی اہم فورس ہے، جس کا کردار زمانہِ امن اور جنگ دونوں میں کلیدی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انٹرنیشنل فیری سروس کے لیے کمپنی کو لائسنس جاری، سروس کا آغاز کہاں سے ہو گا؟
انہوں نے یقین دلایا کہ فورس کو مزید فعال بنانے کے لیے درکار تمام وسائل اور جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ اجلاس کے اختتام پر شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔












