لاہور ہائیکورٹ کی جانب سےمقدمات کے اندراج کے لیے بائیو میٹرک تصدیق اور فیس لازمی قرار دینے کے اقدام کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں سابق صدر ملتان ہائیکورٹ بار، سید ریاض الحسن گیلانی نے ایک آئینی درخواست دائر کی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کا 7 جنوری 2026 کا نوٹیفکیشن غیر آئینی ہے، لہٰذا اسے کالعدم قرار دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت: صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف کیخلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کے لیے درخواست دائر
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ حتمی فیصلے تک مذکورہ نوٹیفکیشن کو معطل کیا جائے۔
درخواست کے مطابق عدالتوں میں بائیو میٹرک تصدیق اور فیس کا نفاذ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اپنایا ہے کہ 200 روپے کی بائیو میٹرک فیس انصاف تک رسائی میں رکاوٹ ہے اور یہ اقدام انصاف پر ٹیکس لگانے کے مترادف ہے۔
مزید پڑھیں: آئین کی تشریح شفافیت، آزادی اور دیانت کے ساتھ کی جائے گی، چیف جسٹس آئینی عدالت امین الدین
مزید کہا گیا ہے کہ جیل میں قید افراد کے لیے بھی بائیو میٹرک لازمی قرار دینا غیر مناسب اور ناقابلِ عمل ہے۔
درخواست گزار کے مطابق عدلیہ کو ٹیکس عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں، کیونکہ آئین کے تحت ٹیکس لگانے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔
درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بائیو میٹرک فیس سے حاصل ہونے والی رقم بار ایسوسی ایشنز اور عدالتی عملے کے لیے مختص کی گئی ہے، جو قانونی تقاضوں کے خلاف ہے۔
مذکورہ درخواست میں لاہور ہائیکورٹ اور قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کو فریق بنایا گیا ہے۔














