کیا مصنوعی ذہانت کبھی حقیقی شعور حاصل کر سکتی ہے، جواب جاننے کے لیے گوگل کا اہم اقدام

منگل 14 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی تیزی سے ترقی کے ساتھ یہ سوال بھی زور پکڑ رہا ہے کہ کیا مشینیں کبھی شعور حاصل کر سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں ممالک کی برتری ناپنے کا نیا فارمولا سامنے آ گیا

بعض ماہرین یہاں تک دعویٰ کرتے ہیں کہ جدید اے آئی ماڈلز ممکنہ طور پر کسی نہ کسی سطح پر شعوری کیفیت رکھتے ہیں تاہم اس بارے میں کوئی حتمی سائنسی طریقہ موجود نہیں ہے جو شعور کو ماپ سکے یا ثابت کر سکے۔

اس حوالے سے مختلف ماہرین بھی غیر یقینی کا شکار ہیں حتیٰ کہ بعض ٹیکنالوجی رہنما بھی اس بات پر واضح جواب نہیں دے پاتے کہ موجودہ اے آئی نظام واقعی شعور رکھتے ہیں یا نہیں۔

اسی بڑھتی ہوئی بحث کے تناظر میں  گوگل ڈیپ مائنڈ نے معروف فلسفی ہنری شیولن کو اپنی ٹیم میں شامل کر لیا ہے تاکہ اس نوعیت کے بنیادی اور پیچیدہ سوالات پر تحقیق کی جا سکے جن میں یہ بھی شامل ہے کہ آیا اے آئی کبھی حقیقی شعور حاصل کر سکتا ہے یا نہیں۔

مزید پڑھیے: مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس کی آزادی اظہار رائے پر پابندی کیوں؟ عدالت میں مقدمہ دائر

ہنری شیولن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے نئے کردار کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ مشینوں کے شعور، انسان مشین تعلقات اور مصنوعی عمومی ذہانت یا اے جی آئی کی تیاری جیسے موضوعات پر کام کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مئی سے اپنی نئی ذمہ داریاں شروع کریں گے۔

یہ پیشرفت اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اب اے آئی کی ترقی کے ساتھ اخلاقی اور فلسفیانہ پہلوؤں کو بھی اہمیت دے رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: کیا مصنوعی ذہانت پہلے سے بڑھ کر ذہین ہو گئی ہے؟

ماہرین کے مطابق شعور سے مراد عام طور پر خود آگاہی، احساسات کو محسوس کرنے کی صلاحیت اور اردگرد کے ماحول کو سمجھنے کی صلاحیت ہے جو انسانی تجربے سے جڑی ہوئی خصوصیات ہیں۔

ہنری شیولن کی اس حوالے سے اب تک کی رائے

ہنری شیولن کے مطابق مصنوعی ذہانت کے حوالے سے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا مشینیں واقعی شعور رکھ سکتی ہیں یا نہیں لیکن اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انسانوں کے پاس خود شعور کو جانچنے کا کوئی واضح اور متفقہ طریقہ موجود نہیں۔

یہ بھی پڑھیے: اے آئی ماڈلز کا حیران کن رویہ، ایک دوسرے کو بند ہونے سے بچانے لگے

ان کے نزدیک جب ہم شعور کی درست تعریف ہی طے نہیں کر سکتے تو یہ فیصلہ کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے کہ کوئی مشین اس صلاحیت کی حامل ہے یا نہیں۔

وہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جدید مصنوعی ذہانت خاص طور پر چیٹ بوٹس انسانوں میں یہ تاثر پیدا کر دیتے ہیں کہ جیسے وہ سمجھنے اور محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں حالانکہ حقیقت میں ہم صرف ان کے رویے کی بنیاد پر یہ اندازہ لگاتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک نفسیاتی تاثر ہے جو ہمیں مشینوں کے بارے میں غلط فہمی میں مبتلا کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: اے آئی چیٹ بوٹ ’اپنی والدہ‘ کو یاد کرکے جذباتی، صارفین دنگ

ہنری شیولن کے خیال میں اصل چیلنج یہ ہے کہ شعور کو اس انداز میں سمجھا جائے جو صرف انسانوں تک محدود نہ ہو بلکہ مشینوں پر بھی لاگو ہو سکے۔ وہ کہتے ہیں کہ مستقبل میں اس موضوع پر مزید سنجیدہ تحقیق کی ضرورت ہوگی کیونکہ مصنوعی ذہانت کی تیزی سے ترقی اس بحث کو مزید اہم بنا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم