بی بی سی ورلڈ سروس کی ایک نئی دستاویزی رپورٹ نے پنجاب کے ایک سرکاری اسپتال میں سنگین طبی غفلت کا انکشاف کیا ہے، جس کے باعث تونسہ میں بچوں میں ایچ آئی وی کے مہلک پھیلاؤ پر نئے سوالات اٹھ گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تحقیقاتی رپورٹ میں بی بی سی آئی کی ٹیم نے انکشاف کیا کہ تحصیل ہیڈ کوارٹراسپتال تونسہ میں غیر محفوظ طبی طریقہ کار کے باعث نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے دوران کم از کم 331 بچے ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: نشتر اسپتال ملتان سے ایڈز کا پھیلاؤ، ہوشربا انکشافات سامنے آگئے
یہ معاملہ پہلی بار 2025 کے اوائل میں سامنے آیا، جب نجی کلینکس کے ڈاکٹروں نے ایسے بچوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جو ایچ آئی وی مثبت نکلے اور ماضی میں تحصیل ہیڈ کوارٹراسپتال میں علاج کروا چکے تھے۔
والدین نے الزام لگایا کہ آلودہ سرنجزبارباراستعمال کی جا رہی تھیں، جس سے شکوک مزید گہرے ہوئے۔
“331 children that BBC Eye has identified as testing positive for HIV in the city between November 2024 and October 2025.” https://t.co/aUusjAYeDZ
— Amesh Adalja (@AmeshAA) April 14, 2026
پنجاب کے محکمہ صحت نے ابتدائی طور پر 100 سے زائد بچوں کے متاثر ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے مارچ 2025 میں اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو معطل کردیا تھا اور کارروائی کا وعدہ بھی کیا، تاہم بعد میں کی گئی خفیہ تحقیق میں انکشاف ہوا کہ غیر محفوظ طبی عمل بدستور جاری ہے۔
خفیہ ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ بچوں کے وارڈ میں نرسیں کپڑوں کے اوپر سے انجیکشن لگا رہی تھیں، سرنجز دوبارہ استعمال ہو رہی تھیں اورغیرتربیت یافتہ افراد کو بھی بچوں کو انجیکشن لگانے کی اجازت دی جا رہی تھی۔
مزید پڑھیں: خیبر میں ایچ آئی وی تیزی سے پھیلنے لگا، ماہرین صحت نے خطرے کی گھنٹی بجادی
اس کے علاوہ طبی فضلے کو ٹھکانے لگانے اور حفاظتی تدابیر کے حوالے سے بھی شدید غفلت سامنے آئی۔
ماہرین کے مطابق ایسے حالات میں خون سے منتقل ہونے والی بیماریوں کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے، دستاویزی فلم میں صحت عامہ کے نظام میں مسائل کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں عملے کی کمی اور طبی سہولیات کی قلت شامل ہے، جس کے باعث بعض خاندانوں کو اپنی ادویات خود خریدنا پڑتی ہیں جبکہ اسپتال کا عملہ محدود وسائل کو بار بار استعمال کرتا ہے۔

اس کے باوجود اسپتال انتظامیہ نے الزامات کی تردید کی ہے۔ موجودہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر قاسم بزدار کا کہنا ہے کہ ویڈیو ان کے دور سے پہلے کی ہو سکتی ہے یا اسے ترتیب دیا گیا ہو۔ مقامی حکام کے مطابق اسپتال اور وبا کے درمیان کوئی ’حتمی سائنسی ثبوت‘ موجود نہیں۔
دوسری جانب، ابتدائی کارروائی کے دوران معطل کیے گئے سابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر طیب چانڈیو کو بعد ازاں ایک اور سرکاری ادارے میں دوبارہ تعینات کر دیا گیا، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف کوئی قانونی پابندی سامنے نہیں آئی۔
مزید پڑھیں: بلوچستان: ایڈز کے مریضوں کی تعداد 3,303 تک جا پہنچی، وجوہات کیا ہیں؟
رپورٹ میں اس سانحے کے انسانی پہلو کو بھی اجاگر کیا گیا ہے، جہاں متاثرہ خاندانوں نے بچوں کی اموات، مستقل بیماری اور سماجی بدنامی جیسے مسائل بیان کیے۔
10 سالہ بچی کا کیس بھی سامنے آیا، جو ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے جبکہ اس کا چھوٹا بھائی اسی بیماری سے انتقال کر چکا ہے، خاندان کے مطابق دونوں بچے اسپتال میں علاج کے دوران متاثر ہوئے۔
محکمہ صحت کے مطابق حالیہ مہینوں میں مزید 19 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ اب تک کم از کم 9 بچوں کی اموات ہو چکی ہیں۔














