امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سمندر کے راستے ایران کی تقریباً تمام تجارتی سرگرمیاں روک دی ہیں، جو ایرانی معیشت کا تقریباً 90 فیصد حصہ سمجھی جاتی ہیں۔ امریکی فوجی حکام کے مطابق چند ہی گھنٹوں میں متعدد آئل ٹینکرز کو روک کر واپس موڑ دیا گیا، جبکہ کسی جہاز کو ناکہ بندی توڑنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، جے ڈی وینس، وٹکاف اور جیرڈ کشنر حصہ لیں گے، سی این این
ادھر سفارتی سطح پر پیشرفت کے اشارے بھی سامنے آئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکا اور ایران کے مذاکراتی وفود ایک بار پھر پاکستان میں بات چیت کے لیے آ سکتے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں پیشرفت ممکن ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
ناکہ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز میں جہاز رانی مکمل طور پر بند نہیں ہوئی، تاہم ٹریفک جنگ سے پہلے کے مقابلے میں بہت کم ہو چکی ہے۔ امریکی حکمت عملی کے تحت صرف ان جہازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو ایران سے منسلک ہیں، جبکہ دیگر جہازوں کو سخت نگرانی میں گزرنے دیا جا رہا ہے۔ اس دوران چین نے امریکی اقدام کو خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔

دوسری جانب اس بحران کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ خلیجی ممالک کو تجارتی راستے تبدیل کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے ترسیل میں تاخیر اور اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ قطر سمیت کئی ممالک میں تعمیراتی سامان، خوراک اور دیگر اشیا کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، جبکہ سپلائی چین شدید متاثر ہو چکی ہے۔
جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً 5 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی کی ترسیل کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اگرچہ تیل کی قیمتوں میں حالیہ دنوں میں کچھ کمی دیکھی گئی ہے، مگر ماہرین کے مطابق صورتحال بدستور غیر یقینی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز میں پاکستانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ من گھڑت
تجزیہ کار خبردار کر رہے ہیں کہ اگر ناکہ بندی طویل عرصے تک جاری رہی تو ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے، جس سے نہ صرف جنگ بندی متاثر ہو سکتی ہے بلکہ عالمی امن اور معیشت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔













