وزیراعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں سمارٹ میٹرز کی تنصیب کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے بجلی چوری کے خاتمے کے لیے ہر سطح پر سخت کارروائی کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
وزیراعظم نے دیہی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کے مؤثر تدارک کے لیے گاؤں کی سطح پر سولرائزیشن منصوبے تیار کرنے کی بھی ہدایت جاری کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو اسلام آباد میں پاور ڈویژن سے متعلق امور پر اجلاس کی صدارت کی۔ اس دوران انہوں نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے بلنگ نظام کا تکنیکی آڈٹ کرانے کی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں:بجلی چوری میں ملوث افراد سے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی، وزیراعظم شہباز شریف
انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ وہ ہدف پر مبنی کلیدی کارکردگی اشاریے مرتب کرنے کریں، تاکہ کمپنیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں بجلی چوری اور بلنگ کے نظام میں خامیاں توانائی کے شعبے کے دیرینہ مسائل میں شمار ہوتی ہیں، جن کی وجہ سے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
حکومت گزشتہ کچھ عرصے سے ان نقصانات میں کمی اور ریکوری بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر عمل پیرا ہے، جن میں اسمارٹ میٹرنگ، ڈیجیٹل نگرانی اور کارکردگی کی جانچ جیسے منصوبے شامل ہیں۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے اعلان کیا کہ بہترین کارکردگی دکھانے والی بجلی تقسیم کار کمپنی کو اس کی خدمات کے اعتراف میں ‘قومی ایوارڈ’ سے نوازا جائے گا۔
تکنیکی و کمرشل نقصانات میں کمی
اجلاس کو بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ تکنیکی اور کمرشل نقصانات میں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے۔
آگاہ کیا گیا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو ) اور گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (جیبکو )میں ترسیل و تقسیم کے سب سے کم نقصانات ریکارڈ کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:کوئٹہ میں ایف آئی اے کا بڑا کریک ڈاؤن: بجلی چوری اور کرپشن کے سینکڑوں کیسز بے نقاب
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ مالی سال 26-2025 کے دوران آئیسکو، لیسکو، جیبکو، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی فیسکو اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی میپکو نے واجبات کی 100 فیصد وصولی کا ہدف حاصل کر لیا۔
بجلی چوری کی روک تھام کے اقدامات
اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ بجلی چوری کی روک تھام، ریکوری میں بہتری اور تکنیکی مسائل کے مؤثر حل کے لیے حیدرآباد، سکھر، لاہور، ملتان اور ہزارہ میں ‘ڈسکو سپورٹ یونٹس’ قائم کیے جا چکے ہیں۔
اجلاس میں یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ ٹرانسفارمرز کی سطح پر ‘ایسٹ پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم’ کی تنصیب کا پہلا مرحلہ 30 ستمبر تک مکمل کر لیا جائے گا، جس سے ٹرانسفارمرز کی نگرانی بہتر ہو گی اور بجلی چوری و لوڈشیڈنگ میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔
سولر میٹرز کی تنصیب کی تجویز
اجلاس میں بتایا گیا کہ ملتان، لاہور، پشاور، ہزارہ اور کوئٹہ کے علاقوں میں 16.2 ملین سنگل فیز ‘ایڈوانسڈ میٹرنگ انفراسٹرکچر’اے ایم آئی ‘ میٹرز کی تنصیب کی تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔













