الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے لیے مزید 180 دن کی مہلت دینے کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے، جس کے بعد انتخابی شیڈول پر کسی بڑی تاخیر کے امکانات ختم ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ، الیکشن کمیشن نے کمیٹی قائم کر دی
الیکشن کمیشن کے مطابق صوبائی حکومت نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلدیاتی انتخابات سے قبل نئی قانون سازی، موسمی حالات، انتظامی مشکلات اور امن و امان کی صورتحال کے باعث اضافی وقت درکار ہے۔ تاہم کمیشن نے اس مؤقف کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ انتخابی عمل آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق مقررہ وقت میں ہی مکمل کیا جائے گا۔

مزید بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ حلقہ بندیوں کے عمل کے لیے صوبائی حکومت کی مشاورت لازمی نہیں، جبکہ موسمی یا سیکیورٹی خدشات کو بنیاد بنا کر انتخابی عمل میں غیر ضروری تاخیر قابل قبول نہیں۔ کمیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی۔
یاد رہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کی یہ درخواست مختلف انتظامی اور سیاسی عوامل کے پیش نظر دی گئی تھی، تاہم الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد انتخابی عمل اپنے مقررہ فریم ورک کے مطابق آگے بڑھنے کا امکان ہے۔













