وفاقی حکومت نے ملک بھر میں توقع سے زائد لوڈشیڈنگ پر بجلی صارفین سے معذرت کرلی اور اس کی وجہ پن بجلی کی پیداوار میں کمی کو قرار دیا ہے۔
پاور ڈویژن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پانی کی کم دستیابی کے باعث پن بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں اضافی لوڈ مینجمنٹ کرنا پڑی۔
یہ بھی پڑھیں:’بجلی بند، گیس بند، کاروبار بند، عوام کی زبان بند، حکمرانوں کی آنکھیں بند‘، بدترین لوڈ شیڈنگ پر صارفین برہم
ترجمان نے صارفین سے اپیل کی کہ وہ خصوصاً رات کے اوقات میں بجلی کے استعمال میں احتیاط کریں اور توانائی بچانے کی عادات اپنائیں۔
بیان کے مطابق گزشتہ روز ملک کے مختلف علاقوں سے غیر معمولی لوڈشیڈنگ کی شکایات سامنے آئیں، حالانکہ ایک روز قبل صرف 2.25 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا عندیہ دیا گیا تھا۔
— MOE- Power Division, Government of Pakistan (@MoWP15) April 15, 2026
وزارت توانائی کے مطابق رات کے پیک آورز میں پن بجلی کی پیداوار میں 1991 میگاواٹ کمی واقع ہوئی، جس کے باعث مجموعی شارٹ فال تقریباً 4500 میگاواٹ تک پہنچ گیا، جبکہ بجلی کی طلب 18000 میگاواٹ ریکارڈ کی گئی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ڈیمز سے پانی کے اخراج میں کمی کے باعث پن بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی صوبوں کو پانی کی فراہمی طلب کے مطابق کر رہی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی کرکٹرز بھی بڑھتی لوڈشیڈنگ پر خاموش نہ رہ سکے، ٹوئٹر پر دلچسپ تبصرے
ترجمان کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں اور فصلوں کی کٹائی کے باعث پانی کی ضرورت کم ہونے سے ڈیمز سے اخراج بھی محدود رہا۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت لوڈ مینجمنٹ زیادہ تر رات کے اوقات تک محدود ہے اور دن کے وقت بجلی کی قلت نہیں ہے، تاہم بعض تقسیم کار کمپنیوں، خصوصاً اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے صبح کے اوقات میں 3 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا اعلان بھی کیا ہے۔
حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ آنے والے دنوں میں ڈیمز سے پانی کے اخراج میں اضافے سے پن بجلی کی پیداوار بہتر ہوگی، جبکہ ری گیسیفائیڈ مائع قدرتی گیس کی دستیابی میں بہتری سے بھی بجلی کی صورتحال میں استحکام آنے کا امکان ہے۔














