گلگت بلتستان میں انتخابی مہم عروج پر، اقتدار کا تاج کس کے سر سجے گا؟

جمعہ 5 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان (جی بی) میں 7 جون کو قانون ساز اسمبلی کے چوتھے عام انتخابات کے لیے سیاسی مہم عروج پر پہنچ گئی ہے، جبکہ وفاق میں اتحادی بڑی سیاسی جماعتوں کے سینیئر رہنما ووٹ کے لیے ایک دوسرے پر سیاسی تنقید کرتے نظر آ رہے ہیں۔

مرکز میں حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف طویل عرصے بعد سیاسی منظرنامے پر نظر آئے اور الیکشن مہم کے لیے گلگت پہنچ گئے۔ نواز شریف اہم حلقوں میں گئے اور جلسوں سے خطاب کیا۔

مزید پڑھیں: 7 جون کا الیکشن جیت کر گلگت بلتستان میں جیالا وزیراعلیٰ لائیں گے، بلاول بھٹو زرداری

وفاق میں ن لیگ کی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری کو ساتھ لے کر گلگت بلتستان کی انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لیا۔

بلاول بھٹو کے دورے نواز شریف کی نسبت زیادہ رہے، جن کے دوران وہ گلگت سے لے کر اسکردو تک مختلف حلقوں میں جلسوں سے خطاب کرتے رہے۔

گلگت بلتستان کے انتخابات

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 7 جون 2026 کو منعقد ہو رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کے 10 اضلاع کی 24 جنرل نشستوں پر مجموعی طور پر 664 امیدوار میدان میں ہیں۔

اسمبلی کی کل 33 نشستیں ہیں، جن میں 24 جنرل جبکہ 9 مخصوص نشستیں ہیں۔ گلگت بلتستان میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 9 لاکھ 63 ہزار 34 ہے، جو تین انتظامی ڈویژنوں گلگت، دیامر اور بلتستان میں تقسیم ہیں۔

2023 کی قومی مردم شماری کے مطابق گلگت بلتستان کی آبادی قریباً 17 لاکھ 10 ہزار ہے۔ رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 9 لاکھ 63 ہزار 34 ہے، جن میں 4 لاکھ 56 ہزار 937 خواتین (47.4 فیصد) اور 5 لاکھ 6 ہزار 97 مرد (52.5 فیصد) شامل ہیں۔

گلگت بلتستان میں 4 مکاتبِ فکر کے لوگ آباد ہیں، جن میں شیعہ مسلمان آبادی کا 39 فیصد، سنی مسلمان 27 فیصد، اسماعیلی 18 فیصد اور نوربخشی 16 فیصد ہیں، جبکہ غیر مسلم برادریوں کی تعداد ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مکتبہ فکر کا بھی انتخابات اور ووٹنگ پر اثر ہوتا ہے۔

گلگت بلتستان کے انتخابات میں وفاقی حکومت کا اثر و رسوخ

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں وفاق کا اثر و رسوخ واضح نظر آتا ہے۔ پچھلے تین انتخابات میں اسی جماعت کو واضح اکثریت ملی جس کی وفاق میں حکومت تھی۔

سال 2009 میں جب پہلی بار گلگت بلتستان میں انتخابات ہوئے تو پیپلز پارٹی کو حکومت ملی، اس وقت وفاق میں بھی پی پی پی کی حکومت تھی۔

2015 میں ن لیگ کو کامیابی ملی، جس کی وفاق میں حکومت تھی، جبکہ 2020 میں پی ٹی آئی کامیاب ہوئی، جو اس وقت مرکز میں حکمران جماعت تھی۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات کا وفاقی حکومت سے براہِ راست تعلق ہے۔ ان کے مطابق گلگت بلتستان کے انتخابات میں وفاقی حکومت کے اثر و رسوخ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور تاریخی طور پر وفاق میں برسراقتدار جماعت ہی اکثر گلگت بلتستان میں بھی کامیابی حاصل کرتی رہی ہے۔

تجزیہ کار اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ ووٹرز کو خدشہ رہتا ہے کہ اگر وفاق اور گلگت بلتستان میں مختلف جماعتوں کی حکومتیں ہوں تو ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز پر اثر پڑ سکتا ہے۔

الیکشن میں کس کا پلہ بھاری؟

محمد یوسف گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے صحافی ہیں اور سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ یوسف کا ماننا ہے کہ اس بار بظاہر دو بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ نظر آ رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ زور و شور سے مہم چلا رہی ہیں اور سب سے زیادہ امیدوار بھی انہی دونوں جماعتوں نے کھڑے کیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پہلی بار استحکام پاکستان پارٹی بھی سرگرم نظر آ رہی ہے اور سابق وزیراعلیٰ حاجی گلبر خان کی سربراہی میں انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس بار تحریک انصاف کو انتخابی نشان جاری نہیں ہوا اور اس کے امیدوار آزاد حیثیت سے میدان میں ہیں۔ ’تحریک انصاف کے ووٹرز خاموش ہیں، وہ کس حد تک ووٹ ڈالنے نکلیں گے، اس کا فی الحال اندازہ لگانا مشکل ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ بظاہر پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان مقابلہ نظر آ رہا ہے، جبکہ کچھ حلقوں میں شخصی ووٹ بھی ہوں گے، جس سے استحکام پاکستان پارٹی کو فائدہ ہو سکتا ہے۔

’گلگت بلتستان کے انتخابات پر اسلام آباد کا اثر ہوتا ہے‘

تجزیہ کار ممتاز گوہر کے مطابق گلگت بلتستان کے انتخابات پر اسلام آباد کا اثر ہوتا ہے اور جس جماعت کی اسلام آباد میں حکومت ہوتی ہے، گزشتہ انتخابات میں بھی اسی جماعت کو کامیابی ملی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ ماضی کے تین انتخابات میں یہی دیکھنے کو ملا اور اس بار بھی ایسا ہی نظر آ رہا ہے۔

صحافی محمد یوسف بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بار ن لیگ کو اس کا فائدہ پہنچ رہا ہے کیونکہ مرکز میں اس کی حکومت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کچھ حلقوں، خصوصاً استور میں سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید کی والدہ انتخاب لڑ رہی ہیں، جس کی وجہ سے ہمدردی کے ووٹ ملنے کے امکانات زیادہ ہیں۔

ممتاز گوہر نے بتایا کہ گلگت بلتستان میں انتخابات باقی ملک کی نسبت ذرا مختلف ہوتے ہیں۔ یہاں رشتہ داری، برادری، مذہب اور علاقائی وابستگی کو بھی ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ پارٹی ووٹ بینک بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

’گلگت بلتستان کے ووٹرز تعلیم یافتہ ہیں اور کارکردگی کی بنیاد پر بھی ووٹ دیتے ہیں‘

انہوں نے بتایا کہ گلگت بلتستان کے ووٹرز تعلیم یافتہ ہیں اور کارکردگی کی بنیاد پر بھی ووٹ دیتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کی جانب سے مہم نہ ہونے کے برابر ہے اور اکثر رہنما یا تو روپوش ہیں یا پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: گلگت بلتستان الیکشن: ’نہ پوسٹر، نہ بینر‘، ہنزہ کے نوجوان امیدوار ماحول دوست انتخابی مہم کیسے چلا رہے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ اس بار گزشتہ انتخابات کی نسبت مختلف نتائج کے امکانات ہیں اور ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت بننے کے آثار ابھی سے نظر آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اگر انتخابی مہم کے تناظر میں دیکھا جائے تو ن لیگ اور پی پی پی نمایاں نظر آتی ہیں، جو مضبوط مہم چلا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض آزاد امیدوار بھی کافی سرگرم ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp