گرمی کی شدت بڑھنے سے قبل ہی ملک بھر میں بجلی کا بحران مزید سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے جس کے نتیجے میں شہریوں کو بدترین اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔ صورتحال نے روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں۔
شہری علاقوں میں روزانہ 7 سے 8 گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں 12 سے 14 گھنٹے تک بجلی کی بندش نے عوام کو شدید اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ غیر یقینی اور مسلسل بجلی کی بندش کے باعث نہ صرف معمولات زندگی درہم برہم ہو گئے ہیں بلکہ رات کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی نیند بھی متاثر کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مہنگے ایندھن سے بچنے کے لیے روزانہ سوا 2 گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا فیصلہ
بجلی کی طویل بندش کے باعث مختلف شہروں میں پانی کی فراہمی کا نظام بھی شدید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔ خاص طور پر بڑے شہروں میں، جہاں پانی کی فراہمی کا انحصار بجلی سے چلنے والے موٹر سسٹمز پر ہے وہاں شہریوں کو اضافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
صارفین کی جانب سے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ لوڈشیڈنگ نہ صرف حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے بلکہ اس سے صنعتی و تجارتی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔
سابق امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت اگر مذاکراتی عمل سے فارغ ہو گئی ہے تو ملک میں جاری مہنگائی کا فوری نوٹس لے کیونکہ اس نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ عوام پہلے ہی آٹا، بجلی، گیس اور ادویات کی بڑھتی قیمتوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
حکومت اگر مذاکراتی عمل سے فارغ ہو گئی ہے تو ملک میں جاری مہنگائی کا فوری نوٹس لے، کیونکہ اس نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ عوام پہلے ہی آٹا، بجلی، گیس اور ادویات کی بڑھتی قیمتوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
— Siraj ul Haq (@SirajOfficial) April 14, 2026
مونس الہیٰ کا کہنا تھا کہ بجلی بند، گیس بند، کاروبار بند، عوام کی زبان بند، حکمرانوں کی آنکھیں بند۔
بجلی بند، گیس بند، کاروبار بند، عوام کی زبان بند، حکمرانوں کی آنکھیں بند!
— Moonis Elahi (@MoonisElahi) April 14, 2026
سینیئر اداکار خالد انعم کا کہنا تھا کہ شام 7 بنے بجلی بند، 8 بجے کاروبار بند،9 بجے گیس بند بجلی بند، 11 بجے شادی ہال بند اور عوام گھروں میں بند۔ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن اونچی اڑانوں بھر رہا۔
شام 7 بنے بجلی بند،
8بجے کاروبار بند،
9 بجے گیس بند بجلی بند،
11 بجے شادی ہال بند اور عوام گھروں میں بند۔۔ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن اونچی اڑانوں بھر رہا— khaled anam خالد انعم (@khaledanam1) April 13, 2026
نادیہ مرزا نے کہا کہ ہر ایک گھنٹے بعد ایک گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ جبکہ اعلان سوا دو گھنٹے کا ہوا ہے۔
ہر ایک گھنٹے بعد ایک گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ۔۔۔ جبکہ اعلان سوا دو گھنٹے کا ہوا ہے۔ #Islamabad #Loadshedding
— Nadia Mirza (@nadia_a_mirza) April 14, 2026
صحافی بلال غوری نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رات 3 بجے سے صبح چھ بجے تک صرف 45 منٹ کے لیے بجلی دستیاب رہی۔ بتایا جاتا تھا کہ بجلی استعمال کریں یا نہ کریں IPP’s کو کیپسٹی پیمنٹ کی مد میں ادائیگی کرنا پڑتی ہے باقاعدہ مہم چلائی گئی کہ بجلی زیادہ استعمال کریں گے تو کم نرخوں پر دستیاب ہوگی ۔۔متعلقہ حکومتی شخصیات بتانا پسند کریں گی کہ اس شدید قسم کی لوڈ شیڈنگ کا سبب کیا ہے؟
یہ اسلام آباد ہے وفاقی دارالحکومت ،گزشتہ تین گھنٹوں کے دوران یعنی رات تین بجے سے صبح چھ بجے تک صرف 45 منٹ کے لیئے بجلی دستیاب رہی۔۔۔بتایا جاتا تھا کہ بجلی استعمال کریں یا نہ کریں IPP’s کو کیپسٹی پیمنٹ کی مد میں ادائیگی کرنا پڑتی ہے باقاعدہ مہم چلائی گئی کہ بجلی زیادہ استعمال…
— Bilal Ghauri (@mbilalghauri) April 15, 2026
رضوان طایر نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کو فری بجلی دینے کے وعدے سے لے کر بجلی ہی نہ دینے تک کا سفر مشکل ضرور تھا مگر کامیاب رہا۔
پنجاب کو فری بجلی دینے کے وعدے سے لیکر بجلی ھی نہ دینے تک کا سفر مشکل ضرور تھا ،
مگر "کامیاب “رہا💡🕯️— Rizwan Tahir (@RizwanT22559874) April 15, 2026
عدنان عادل کہتے ہیں کہ ملک میں 40 ہزار میگا واٹ سے زیادہ بجلی بنانے کی کیپسٹی نصب ہے لیکن لاہور میں چند ہزار میگاواٹ کی ڈیمانڈ پوری نہیں کر پا رہے۔ کیسا نظام ہے۔
لاہور میں دبا کر لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ ملک میں 40 ہزار میگا واٹ سے زیادہ بجلی بنانے کی کیپسٹی نصب ہے۔ لیکن لاہور میں چند ہزار میگاواٹ کی ڈیمانڈ پوری نہیں کر پا رہے۔ کیسا نظام ہے!
— Adnan Adil (@adnanaadil) April 14, 2026
شبیر ڈار کا کہنا تھا کہ جس طرح بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے لگتا ہے ہم 2013 سے قبل کے پاکستان میں واپس جارہے ہیں۔ راولپنڈی اسلام آباد میں دورانیہ 7 سے 8 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے جبکہ دیہی علاقوں میں 11 سے 12 گھنے بجلی غائب رہنے لگی ہے، طویل لوڈ شیڈنگ سے کاروباری طبقہ شدید متاثر ہے۔
جسطرح بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے لگتا ہے ہم 2013 سے قبل کے پاکستان میں واپس جارہے ہیں، راولپنڈی اسلام آباد میں دورانیہ 7 سے 8 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے جبکہ دیہی علاقوں میں 11 سے 12 گھنے بجلی غائب رہنے لگی ہے، طویل لوڈ شیڈنگ سے کاروباری طبقہ شدید متاثر ہے۔
— Shabbir Dar (@ShabbirDar5) April 15, 2026
مقدس فاروق اعوان کہتی ہیں کہ نہ بجلی آ رہی ہے، نہ چولہے میں گیس ، انٹرنیٹ بھی رک رک کر چل رہا ہے، اپنی زندگی پہلی بار اتنی لوڈ شیڈنگ دیکھی ہے۔
نہ بجلی آ رہی ہے، نہ چولہے میں گیس ، انٹرنیٹ بھی رک رک کر چل رہا ہے، اپنی زندگی پہلی بار اتنی لوڈ شیڈنگ دیکھی ہے
— Muqadas Farooq Awan (@muqadasawann) April 13, 2026
ایک صارف نے بجلی جاتے ہی موبائل پر انٹرنیٹ سگنلز نا آنے کی بھی شکایت کی، ان کا کہنا تھا کہ لائٹ جاتے ہی موبائل کمپنیوں کے ٹاور بھی بند ہو جاتے ہیں نیٹ اور سگنل غائب ہو جاتے ہیں۔ جنریٹر نہیں چلاتے۔
بھئی ایسا کوئی کتا نظام ہے ان موبائل کمپنیوں کا لائٹ جاتی ہے تو ان کے ٹاور بھی بند ہو جاتے ہیں نیٹ اور سگنل غائب ہو جاتے ہیں۔جنریٹر نہیں چلاتے۔ pic.twitter.com/grN29E1KVf
— Sabir Mehmood Hashmi (@SabirMehmood26) April 14, 2026
شبانہ شوکت نے طنزاً کہا کہ وہ جو فقرہ بہت وائرل ہوا تھا کہ جب دنیا نازک موڑ پر پہنچی تو پاکستان پہلے سے وہاں موجود تھا تو یہی حال ہم سندھ والوں کا ہے کہ جب پنجاب والے لوڈشیڈنگ سے بلبلانا شروع ہوئے،ہمارے سکون میں فرق نہیں آیا کیونکہ ہم پہلے ہی بےحساب لوڈشیڈنگ کے عادی ہیں بس گیس کی لوڈشیڈنگ غیر متوقع ہے۔
وہ جو فقرہ بہت وائرل ہوا تھا کہ جب دنیا نازک موڑ پر پہنچی تو پاکستان پہلے سے وہاں موجود تھا تو یہی حال ہم سندھ والوں کا ہے کہ جب پنجاب والے لوڈشیڈنگ سے بلبلانا شروع ہوئے،ہمارے سکون میں فرق نہیں آیا کیونکہ ہم پہلے ہی بےحساب لوڈشیڈنگ کے عادی ہیں
بس گیس کی لوڈشیڈنگ غیر متوقع ہے— شبانہ شوکت (@Shabanashaukat4) April 14, 2026
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی بحران پر فوری قابو پایا جائے، لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کمی لائی جائے اور شفاف حکمتِ عملی کے تحت توانائی کے شعبے میں طویل المدتی اصلاحات کی جائیں تاکہ ہر سال پیدا ہونے والا یہ بحران مستقل بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔














