پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز بھی خریداری کا رجحان برقرار رہا، جہاں سرمایہ کاروں نے سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے لیے مزید 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کے اعلان کا خیرمقدم کیا۔
بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس آج بدھ کے روز تقریباً 2,900 پوائنٹس اضافے کے ساتھ بند ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی معیشت میں بہتری: اسٹاک مارکیٹ اور سونے چاندی میں سرمایہ کاری کب کی جائے؟
کاروبار کے آغاز پر ہی انڈیکس میں مضبوط تیزی دیکھی گئی اور یہ تیزی سے بڑھتے ہوئے انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 170,640.26 پوائنٹس تک جا پہنچا تھا۔
تاہم یہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور دن کے وسط میں مارکیٹ اتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔
Market Close Update: Positive Today! 🚀
🇵🇰 KSE 100 ended positive by +2,885.1 points (+1.74%) and closed at 168,519.9 with trade volume of 600.7 million shares and value at Rs. 48.47 billion. Today's index low was 168,183 and high was 170,640. pic.twitter.com/5n8s3nkte0— Investify Pakistan (@investifypk) April 15, 2026
انڈیکس 170,000 کی سطح سے نیچے محدود رینج میں گھومتا رہا، جو منافع لینے کے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
دن کے دوسرے حصے میں فروخت کا دباؤ بڑھ گیا، تاہم اس کے باوجود مارکیٹ مجموعی طور پر نمایاں اضافے کے ساتھ بند ہونے میں کامیاب رہی۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 168,519.94 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 2,885.10 پوائنٹس یعنی 1.74 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ میں بھرپور تیزی کا رجحان، انڈیکس میں 5000 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ
ماہرین کے مطابق مارکیٹ اس وقت مکمل رفتار میں ہے کیونکہ معاشی اور سفارتی کامیابیاں ایک ساتھ سامنے آ رہی ہیں۔
سعودی ڈپازٹ سے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملا ہے جبکہ برینٹ کروڈ کی قیمت 94 ڈالر تک آنے سے مہنگائی میں کمی کی توقع ہے۔
اہم پیش رفت میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ سعودی عرب نے مزید 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کا وعدہ کیا ہے، جس کی ادائیگی آئندہ ہفتے متوقع ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ 5 ارب ڈالر کا سعودی ڈپازٹ اب سالانہ تجدید کے بجائے طویل مدت کے لیے برقرار رکھا جائے گا۔
ایک روز قبل منگل کو بھی مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی تھی، جب جغرافیائی کشیدگی میں کمی اور امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ سفارتی بات چیت کی بحالی کی امیدوں نے سرمایہ کاروں کو متحرک کیا۔
اس روز کے ایس ای 100 انڈیکس 5,043.51 پوائنٹس یعنی 3.14 فیصد اضافے کے ساتھ 165,634.85 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
مزید پڑھیں: سرمایہ کاروں کا پاکستان اسٹاک مارکیٹ پر اعتماد، مستقبل میں کون سے ریکارڈ بن سکتے ہیں؟
بین الاقوامی سطح پر بھی ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی دیکھی گئی، جہاں وال اسٹریٹ کے مثبت رجحان کے اثرات نمایاں رہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی بحالی کی خبروں سے تیل کی قیمتوں میں کمی آئی، جبکہ ڈالر میں استحکام دیکھا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آئندہ 2 روز میں پاکستان میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: غیر یقینی عالمی حالات کے باوجود اسٹاک مارکیٹ میں ریکوری، کاروبار کا مثبت زون میں اختتام
اس پیش رفت کے باعث عالمی منڈیوں میں اعتماد بحال ہوا اور تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئیں۔ برینٹ کروڈ کی قیمت 0.7 فیصد کمی کے بعد 94.13 ڈالر فی بیرل رہی۔
ایشیائی مارکیٹس میں، ایم ایس سی آئی ایشیا پیسفک انڈیکس میں 1.5 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جاپان کا نکی 225 انڈیکس 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ 58,561 پوائنٹس پر بند ہوا۔
چین اور ہانگ کانگ کی مارکیٹس میں بھی بالترتیب 0.5 اور 1.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔














