گزشتہ سیشن میں فروخت کے شدید دباؤ کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز دوبارہ خریداری کا رجحان ریکارڈ کیا گیا، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس 5,000 سے زائد پوائنٹس یعنی 3 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔
امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے لیے مذاکرات جاری رہنے کی خبروں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دی۔
مارکیٹ کا آغاز تیزی کے ساتھ ہوا اور ابتدائی لمحات میں نمایاں گیپ اپ دیکھنے میں آیا، جو ابتدائی مرحلے سے ہی خریداری کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی معیشت میں بہتری: اسٹاک مارکیٹ اور سونے چاندی میں سرمایہ کاری کب کی جائے؟
سیشن کے دوران بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس مسلسل مثبت زون میں رہا اور ٹریڈنگ کے آخری اوقات میں 165,763.81 پوائنٹس کی یومیہ بلند ترین سطح تک بھی پہنچا۔
آج کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 165,634.84 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 5,043.51 پوائنٹس یعنی 3.14 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی اور امریکا–ایران مذاکرات کی بحالی سے متعلق امیدوں نے مارکیٹ کو سہارا دیا۔
Market Close Update: Positive Today! 🚀
🇵🇰 KSE 100 ended positive by +5,043.5 points (+3.14%) and closed at 165,634.8 with trade volume of 358.2 million shares and value at Rs. 28.8 billion. Today's index low was 163,417 and high was 165,764. pic.twitter.com/tv1H1Hnbpb— Investify Pakistan (@investifypk) April 14, 2026
یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، فوجی فرٹیلائزر کمپنی، لکی سیمنٹ، اینگرو ہولڈنگز، حب پاور کمپنی اور نیشنل بینک جیسی انڈیکس میں بھاری وزن رکھنے والی کمپنیوں نے مجموعی طور پر 1,815 پوائنٹس کے اضافے میں اپنا حصہ ڈالا۔
مارکیٹ میں کاروباری حجم 824.54 ملین شیئرز تک پہنچ گیا جو گزشتہ سیشن کے 743.23 ملین شیئرز سے زائد ہے، جبکہ حصص کی مجموعی مالیت 36.34 ارب روپے رہی۔
ورلڈ کال ٹیلی کام 100.19 ملین شیئرز کے ساتھ سب سے زیادہ کاروبار والی کمپنی رہی، اس کے بعد 87.03 ملین شیئرز کے ساتھ بینک آف پنجاب اور 62.63 ملین شیئرز کے ساتھ فرسٹ نیشنل ایکویٹیز کا نمبر رہا۔
مزید پڑھیں: سرمایہ کاروں کا پاکستان اسٹاک مارکیٹ پر اعتماد، مستقبل میں کون سے ریکارڈ بن سکتے ہیں؟
منگل کو مجموعی طور پر 487 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 389 کے حصص کی قیمت میں اضافہ، 64 میں کمی جبکہ 34 میں استحکام رہا۔
رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران کے مذاکراتی وفود رواں ہفتے دوبارہ اسلام آباد آنے کا امکان رکھتے ہیں، حالانکہ حالیہ اعلیٰ سطحی مذاکرات کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہوئے تھے۔
گزشتہ روز یعنی پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی دیکھی گئی تھی، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس 6,600.05 پوائنٹس یعنی 3.95 فیصد کمی کے ساتھ 160,591.33 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

اس کمی کی بڑی وجہ جغرافیائی سیاسی بے یقینی اور مذاکرات میں تعطل تھا۔
بین الاقوامی سطح پر بھی ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی رہی جبکہ تیل کی قیمتوں اور محفوظ سرمایہ کاری سمجھے جانے والے امریکی ڈالر میں کمی دیکھی گئی۔
ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس میں، جاپان کے علاوہ، 1 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جاپان کا نکی اور جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 2 فیصد سے زائد بڑھ گئے۔
مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ کریش: جنگ کے خدشات یا تیل کی قیمتوں کا دباؤ؟
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران معاہدے کے لیے آمادہ ہے، جبکہ امریکی فوج نے ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کر دی ہے تاکہ تہران پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔
دوسری جانب انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی اور یہ 0.01 فیصد اضافے کے ساتھ 278.97 روپے فی ڈالر پر بند ہوا۔














