ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون نے اپنے سیٹلائٹ بزنس کو وسعت دینے کے لیے 11.57 ارب ڈالر کی لاگت سے گلوبل اسٹار کے حصول کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد خلا کے ذریعے انٹرنیٹ اور موبائل سروسز فراہم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا حکومت نے اسٹار لنک کو پاکستان میں کام کرنے کے لیے لائسنس دینے کا عمل روک دیا ہے؟
کمپنی کے مطابق یہ معاہدہ اس کے ’ایمیزون لیو‘ منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت ہزاروں سیٹلائٹس کو زمین کے نچلے مدار میں بھیجا جائے گا۔ ایمیزون کا کہنا ہے کہ وہ سنہ 2028 تک نئی نسل کا سیٹلائٹ سسٹم متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اس اقدام کے بعد ایمیزون کا مقابلہ ایلون مسک کی کمپنی اسٹارلنک سے ہوگا جو پہلے ہی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کے میدان میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔
اسٹارلنک کے پاس اس وقت 10 ہزار سے زائد فعال سیٹلائٹس موجود ہیں اور یہ دنیا بھر میں ایک کروڑ سے زیادہ صارفین کو خدمات فراہم کر رہی ہے جبکہ ایمیزون کے منصوبے کے تحت فی الحال تقریباً 200 سیٹلائٹس مدار میں موجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایمیزون کو اپنے ہدف کے حصول کے لیے سیٹلائٹس کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا کیونکہ گلوبل اسٹار کے پاس اس وقت تقریباً 50 فعال سیٹلائٹس ہیں۔
مزید پڑھیے: جہاز پر اسٹار لنک فری وائی فائی کی سروس شروع، کتنا تیز انٹرنیٹ میسر ہوگا؟
ایمیزون کے چیف ایگزیکٹو اینڈی جسی نے بتایا کہ کمپنی کو ڈیلٹا ایئر لائنز، جیٹ بلو، اے ٹی اینڈ ٹی، ووڈافون، ڈائریکٹ ٹی وی لاطینی امریکہ، آسٹریلیا کے نیشنل براڈ بینڈ نیٹ ورک اور ناسا سمیت متعدد اداروں کی جانب سے مستقبل میں اس سروس کے استعمال کی یقین دہانیاں موصول ہو چکی ہیں۔
اس معاہدے کے تحت ایمیزون گلوبل اسٹار کے تمام انفراسٹرکچر کا کنٹرول حاصل کرے گی جس میں امریکا، آئرلینڈ، برازیل اور فرانس سمیت مختلف ممالک میں اس کی تنصیبات شامل ہیں۔ گلوبل اسٹار 1991 میں قائم ہونے والی سیٹلائٹ کمیونیکیشن کمپنی ہے، جس کی نمایاں شراکت داری ایپل کے ساتھ بھی ہے، جہاں آئی فون اور ایپل واچ صارفین کو ہنگامی ’ایس او ایس‘ سروس فراہم کی جاتی ہے۔
ایمیزون نے ایپل کے ساتھ اس سروس کو جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ کمپنی نے گلوبل اسٹار کے حصص کے بدلے فی شیئر 90 ڈالر نقد یا مساوی مالیت کے ایمیزون شیئرز کی پیشکش کی ہے۔
مزید پڑھیں: دنیا کے تیسرے امیر ترین شخص کی تنخواہ ایک عام مزدور سے بھی کم، ایمیزون کے بانی سالانہ کتنا کماتے ہیں؟
ادھر سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے میدان میں ایک اور نئی کمپنی بلیو اوریجن بھی شامل ہو چکی ہے جو سنہ 2027 تک ٹیرا ویو منصوبے کے تحت 5,400 سیٹلائٹس لانچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس سے اس شعبے میں مقابلہ مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔














