آن لائن پروپیگنڈا اور جذباتی استحصال،کالعدم بلوچ تنظیمیں نوجوانوں کو کیسے ورغلا رہی ہیں؟

جمعہ 5 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کی جانب سے نوجوانوں، بالخصوص خواتین، کو سوشل میڈیا اور خفیہ آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے شدت پسندی کی طرف مائل کرنے کے انکشافات نے ایک بار پھر اس خطرناک رجحان کو بے نقاب کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق آج کی جنگ صرف میدانوں میں نہیں بلکہ موبائل فون کی اسکرینوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی لڑی جا رہی ہے، جہاں نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: بھارتی سرپرستی میں زہریلا پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان

رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی کے مطابق کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں جدید ٹیکنالوجی اور خفیہ ایپلی کیشنز کے ذریعے نوجوانوں کو اپنے جال میں پھنسا رہی ہیں۔ ان کے مطابق تنظیم کے کارندے “زنگی” ایپ کے ذریعے رابطے میں رہتے ہیں جبکہ “سنگل” ایپ سے آپریشنل منصوبہ بندی اور “ڈیلٹا چیٹ” کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ “آج دشمن صرف گولی نہیں چلا رہا بلکہ سوشل میڈیا پر بیانیہ تشکیل دے رہا ہے اور ٹرینڈز کے ذریعے نوجوانوں کی سوچ پر اثرانداز ہو رہا ہے۔”

یہ خدشات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب چند عرصے قبل کراچی میں پولیس نے ایک کم عمر لڑکی کو مبینہ خودکش حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں حراست میں لیا۔ لڑکی کو کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے فیس بک اور انسٹاگرام سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے متاثر کیا اور اسے یہ باور کرایا گیا کہ حملہ کرنے سے اسے عزت اور شہرت حاصل ہوگی۔

مزید پڑھیں: بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مکروہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات

سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن کے مطابق لڑکی کو کراچی جاتے ہوئے ایک معمول کی چیکنگ کے دوران روکا گیا، جہاں ابتدائی پوچھ گچھ میں اس کے شدت پسند عناصر سے روابط سامنے آئے۔ حکام نے اسے ملزم کے بجائے متاثرہ فرد قرار دیتے ہوئے ریاستی تحفظ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں کالعدم تنظیموں نے خواتین کو بھی اپنی کارروائیوں میں استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ 2022 میں کراچی یونیورسٹی کے قریب ایک خاتون خودکش حملہ آور نے تین چینی اساتذہ کو ہلاک کر دیا تھا، جبکہ 2024 میں تربت میں ایک کارروائی کے دوران مبینہ خاتون خودکش بمبار عادلہ بلوچ کو بچایا گیا تھا۔

عادلہ بلوچ کے بیان نے شدت پسند تنظیموں کے بھرتی کے طریقہ کار سے متعلق اہم حقائق سامنے لائے۔ ان کے مطابق انہیں نظریاتی رہنمائی کے نام پر گمراہ کیا گیا، پہاڑوں میں قائم خفیہ ٹھکانوں پر رکھا گیا اور جذباتی دباؤ ڈال کر یہ یقین دلایا گیا کہ خودکش حملہ ایک قابلِ فخر اور جائز عمل ہے۔

عادلہ بلوچ نے اپنے بیان میں کہا، “بلوچ خواتین اپنی مرضی سے نہیں جاتیں، انہیں بلیک میل کیا جاتا ہے، دھوکا دیا جاتا ہے اور جذباتی طور پر پھنسایا جاتا ہے۔”

مزید پڑھیں: پاکستان کے معدنی وسائل عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز، بلوچستان کا امن فیصلہ کن قرار

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا کہ بعض سماجی اور سیاسی پلیٹ فارمز کو بھی نوجوانوں تک رسائی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کالعدم تنظیموں نے جنگی حکمت عملی میں خواتین کے استعمال کو باقاعدہ حصہ بنا لیا ہے اور نوجوانوں کو تشدد کی راہ پر ڈالنے کے لیے مختلف ذرائع اختیار کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو تعلیم، ترقی اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ “ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں بلکہ وہ اپنے مستقبل کی تعمیر میں کردار ادا کریں،” انہوں نے کہا۔

ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے دور میں آن لائن انتہاپسندی اور ڈیجیٹل بھرتی ایک سنجیدہ چیلنج بن چکی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے والدین، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور ریاستی اداروں کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مظفرآباد میں مسلم لیگ ن کا پاور شو: نواز شریف کو کشمیریوں سے بے پناہ پیار ہے، نواز شریف کا خطاب جاری

’اب روایتی فائل سسٹم نہیں ہوگا‘، شہباز شریف کا وزیراعظم آفس میں اے آئی پر مبنی جدید ٹریکنگ اور فیصلہ سازی نظام کا افتتاح

کیا فیفا ورلڈ کپ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ سو گئے تھے؟ حقیقت سامنے آگئی

فیفا ورلڈ کپ 2026 نے حاضری اور ٹی وی ناظرین کے تمام ریکارڈ توڑ دیے

کیلاش برادری کی شادیوں کی قانونی رجسٹریشن کا راستہ ہموار، خیبرپختونخوا اسمبلی سے تاریخی قانون منظور

ویڈیو

ایرانی وزیر داخلہ کے اعزاز میں اسلام آباد پولیس کی پروقار تقریب، گارڈ آف آنر پیش

اسحاق ڈار کی چین میں پاکستانی سفیر کو پاک چین تعاون میں مزید وسعت دینے کی ہدایت

خیبر پختونخوا میں موسلادھار بارشوں سے تباہی، 12 افراد جاں بحق، 18 زخمی

کالم / تجزیہ

کشمیر انتخابات: تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے

ورلڈ کپ ختم ہوا، کہانی نہیں

کیا واقعی کچھ ہونے والا ہے؟