ٹرمپ کے ڈیپ فیک میمز کا بڑھتا رجحان: سوشل میڈیا پر سیاست کا نیا ہتھیار

جمعہ 17 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے منسوب عجیب و غریب ڈیپ فیک میمز نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں انہیں کبھی مذہبی، کبھی فلمی اور کبھی طاقتور کرداروں میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صرف مذاق نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے سیاسی بیانیے کا حصہ بھی ہو سکتا ہے، جو عوامی رائے کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:’جے ڈی وینس پاکستان آتے ہی کوئٹہ ہوٹل پہنچ گئے‘، سوشل میڈیا پر میمز کی بھرمار

سی این این نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایسے متعدد مصنوعی (ڈیپ فیک) تصاویر اور ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جن میں ڈونلڈ ٹرمپ کو مختلف غیر حقیقی کرداروں میں دکھایا گیا ہے، جیسے کہ مذہبی شخصیات، فلمی ہیروز، یا طاقتور خیالی کردار۔

ان تصاویر میں انہیں کبھی جنگجو، کبھی سپر ہیرو اور کبھی روحانی حیثیت میں پیش کیا گیا، جس نے نہ صرف توجہ حاصل کی بلکہ تنقید کو بھی جنم دیا، خصوصاً جب ایک تصویر میں انہیں مذہبی انداز میں دکھایا گیا جسے بعد میں حذف بھی کر دیا گیا۔

ماہرین کے مطابق یہ ڈیپ فیک مواد دراصل جدید دور کی بصری زبان ہے، جس کے ذریعے بغیر براہِ راست کچھ کہے خیالات اور پیغامات عوام تک پہنچائے جاتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے میمز لوگوں کے ذہنوں پر بتدریج اثر انداز ہوتے ہیں، چاہے وہ بظاہر مزاحیہ یا غیر سنجیدہ کیوں نہ لگیں۔

تحقیقی اداروں کے مطابق ڈیپ فیک مواد کی کئی اقسام ہیں، جن میں کچھ ایسے ہوتے ہیں جو کسی شخصیت کو بہتر یا زیادہ طاقتور دکھاتے ہیں، جبکہ بعض مخالفین کو ہدف بنانے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ کچھ تصاویر واضح طور پر غیر حقیقی ہوتی ہیں اور صرف طنز یا حمایت کے اظہار کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، لیکن ان کا مجموعی اثر عوامی سوچ پر پڑ سکتا ہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی خاص بات یہ ہے کہ وہ انٹرنیٹ کلچر اور میمز کو نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ انہیں اپنے حق میں استعمال بھی کرتے ہیں۔ ان کے حامی انہیں ایک عام انسان کے ساتھ ساتھ ایک غیر معمولی اور طاقتور شخصیت کے طور پر پیش کرتے ہیں، جس سے ان کے حامیوں میں جوش اور وابستگی بڑھتی ہے۔

ادھر ناقدین کا کہنا ہے کہ اس رجحان سے سیاست میں سنجیدگی کم ہو رہی ہے اور غلط معلومات یا گمراہ کن تاثر پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔ بعض مواقع پر متنازعہ مواد، جیسے نسلی یا مذہبی طور پر حساس تصاویر، کو حذف بھی کیا گیا، لیکن اس کے باوجود یہ مواد تیزی سے پھیل چکا ہوتا ہے۔

مجموعی طور پر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ڈیپ فیک میمز محض تفریح نہیں بلکہ جدید سیاسی حکمت عملی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں، جو سوشل میڈیا کے ذریعے عوامی بیانیے کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

97 سالہ خاتون نے  ہوائی جہاز کے پروں پر کھڑے ہو کر اپنا ہی عالمی ریکارڈ توڑ دیا

سابق بنگلہ دیشی کپتان شکیب الحسن کی رہائش گاہ پر پیٹرول بموں سے حملہ، سبب کیا بنا؟

خضدار: رشتے سے انکار پر خاندان کے 3 افراد قتل، اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے رپورٹ طلب کرلی

3 گنا قیمت، جعلی اور ایکسپائر اشیا، سلمیٰ بٹ کا موٹروے ریسٹ ایریاز پر موجود مارٹس کے خلاف سخت ایکشن

پاکستان اور صومالیہ میں بحری دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ