قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے موبائل فونز پر عائد بھاری ٹیکسز پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو ٹیکسوں میں کمی پر غور کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ موجودہ ٹیکس پالیسی نہ صرف عوام کے لیے جدید ٹیکنالوجی تک رسائی مشکل بنا رہی ہے بلکہ یہ نظام غیر منصفانہ بھی دکھائی دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چیف جسٹس نے ٹیکس تنازعات کا بروقت حل بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے ناگزیر قرار دیدیا
اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سید نوید قمر کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں موبائل فونز پر عائد ٹیکسز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے وزارت خزانہ کے ٹیکس پالیسی آفس کو ہدایت کی کہ وہ موجودہ ٹیکس نظام، اس کے مقاصد، اور اس کے مالی اثرات پر ایک جامع رپورٹ پیش کرے۔
اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ درآمدی موبائل فونز پر تقریباً 54 فیصد تک ٹیکس عائد ہوتا ہے، جبکہ 500 ڈالر سے زائد قیمت والے فونز پر یہ ٹیکس تقریباً 76 ہزار روپے تک پہنچ جاتا ہے۔ اسی طرح 700 سے 750 ڈالر مالیت کے فونز پر ٹیکس کی شرح 55 فیصد کے قریب ہے۔ اس کے مقابلے میں مقامی طور پر تیار یا اسمبل کیے گئے موبائل فونز پر ٹیکس کی شرح تقریباً 25 فیصد ہے۔

کمیٹی نے اس بات پر بھی اعتراض اٹھایا کہ موبائل فونز پر انکم ٹیکس کو سیلز ٹیکس کی طرح نافذ کیا جا رہا ہے، جو کہ پالیسی کے اصولوں کے خلاف ہے۔ نوید قمر نے کہا کہ جب پہلے ہی جنرل سیلز ٹیکس عائد ہے تو اضافی انکم ٹیکس لگانا غیر ضروری ہے اور اس پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ٹیکسوں میں کمی سے نہ صرف موبائل فونز کی قیمتوں میں کمی آئے گی بلکہ عوام کو جدید ٹیکنالوجی تک بہتر رسائی حاصل ہوگی، جو معاشی ترقی کے لیے بھی ضروری ہے۔ کمیٹی نے سی بی یو، سی کے ڈی اور ایس کے ڈی کیٹیگریز میں ٹیکس کے فرق کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت دی۔
دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بینکوں کی جانب سے ایس ایم ایس الرٹس پر وصول کیے جانے والے چارجز کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ کمیٹی نے ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے مکمل ڈیٹا فراہم نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا اور اسٹیٹ بینک، بینکوں اور متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ وہ اخراجات اور آمدن کی مکمل تفصیلات پیش کریں۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ حکومت کیش لیس معیشت کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور پے پاک سسٹم کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کمیٹی نے اس نظام کو مزید فروغ دینے پر زور دیا تاکہ بین الاقوامی ادائیگی نظام پر انحصار کم کیا جا سکے۔
مجموعی طور پر پارلیمانی کمیٹیوں نے ٹیکس نظام اور مالیاتی پالیسیوں میں شفافیت، توازن اور عوامی سہولت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
قومی اسمبلی کی کمیٹی کا بڑا اقدام: سید علی قاسم گیلانی
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید علی قاسم گیلانی نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے موبائل فونز پر عائد اضافی ٹیکس ختم کرنے کی متفقہ سفارش کر دی ہے، جس سے عوام کو بڑی ریلیف ملنے کی امید ہے اور موبائل فونز کی قیمتوں میں کمی ممکن ہو سکے گی۔
سید علی قاسم گیلانی نے اپنی گفتگو میں بتایا کہ موبائل فونز پر عائد زائد ٹیکس کے مسئلے کو قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی میں باقاعدہ طور پر اٹھایا گیا تھا، جہاں چیئرمین ایف بی آر، چیئرمین پی ٹی اے اور سیکرٹری خزانہ نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی تھی کہ اس معاملے پر مشترکہ جائزہ مکمل کر کے رپورٹ پیش کی جائے گی۔
Good news for mobile phone users. The NA Standing Committee on Finance has unanimously recommended reducing PTA taxes after a joint study by FBR and the Finance Ministry. A meaningful step toward affordability and digital inclusion. A win for us. #PTATax #FBR pic.twitter.com/x65hcbdDKi
— Kasim Gilani (@KasimGillani) April 16, 2026
انہوں نے کہا کہ اب اس پیشرفت پر خوشی ہے کہ فنانس کمیٹی میں ایف بی آر کی جانب سے رپورٹ پیش کی گئی، جس کے بعد کمیٹی نے متفقہ طور پر حکومت کو سفارش کی ہے کہ موبائل فونز پر عائد اضافی ٹیکس ختم کیا جائے۔ ان کے مطابق اس بھاری ٹیکس کے باعث موبائل فونز کی خریداری عام آدمی کے لیے مشکل ہو گئی تھی اور ان کی استطاعت شدید متاثر ہو رہی تھی۔
سید علی قاسم گیلانی نے کہا کہ کمیٹی کے تمام ارکان نے اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا اور بالآخر عوامی مفاد میں فیصلہ کرتے ہوئے اضافی ٹیکس کے خاتمے کی سفارش کی۔ انہوں نے اس اقدام پر کمیٹی کے چیئرمین نوید قمر اور دیگر ارکان کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مسلسل اس مسئلے پر بحث اور کاوشیں جاری رکھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف عوام کے لیے ریلیف کا باعث بنے گا بلکہ ملک میں ڈیجیٹل رسائی اور ٹیکنالوجی کے فروغ میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مہم میں شامل تمام افراد اور ساتھیوں کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس مسئلے کو اجاگر کرنے میں کردار ادا کیا۔














